وکلا نے رویہ نہ بدلا تو عوام کا عدالتوں سے اعتماد اٹھ جائیگا، جسٹس شاہد بلال

وکلا نے رویہ نہ بدلا تو عوام کا عدالتوں سے اعتماد اٹھ جائیگا، جسٹس شاہد بلال

ملتان (خبر نگار خصو صی) ہائی کورٹ ملتان بنچ کے مسٹر جسٹس شاہد بلال حسن نے مقدمات کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ بار کے بغیر مقدمات کے فیصلے نا ممکن ہیں اور اب بھی بعض وکلا صرف تاریخیں لینے کیلئے عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں جبکہ بہت سے مقدمات 5 اور6سال سے ابتدائی بحث اور سماعت کی منظوری کے انتظار میں پڑے ہیں۔اگر وکلا ء نے اپنا رویہ نہ بدلا تو عوام کا (بقیہ نمبر46صفحہ12پر )

عدالتوں سے اعتماد تیزی سے ختم ہو جائے گا۔قبل ازیں فاضل جج نے مقدمہ محمد اعظم بنام ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج وغیرہ کی سماعت مقرر کی ہوئی تھی لیکن فاضل کونسل نے پیش ہو کر مہلت کی استدعا کی تھی جس پر فاضل جج نے قرار دیا کہ جج تنخواہیں اور وکیل فیسیں وصول کرتے ہیں اور جب غفلت کا رویہ سرزد ہوتا ہے تو ضمیر لازمی تنگ کرتا ہے لہذا ضمیر کے بوجھ سے رات گزارنے سے بہتر ہے کہ بہترین دماغی صلاحتیوں کے ذریعے مقدمہ کے دلائل پیش کر دئے جائیں۔فاضل جج نے مزید کہا کہ دل کام کرنے کو مجبور کرتا ہے لہذا التواء کی استدعا کے رویے دکھی کر دیتے ہیں تاہم فاضل جج نے مقدمے کی سماعت ملتوی کر نے کی استدعا منظور کرلی۔

جسٹس شاہد

مزید : ملتان صفحہ آخر