خلیجی ممالک کے پانیوں میں بھی سمندری جوئیں پائی گئیں، جسم پر نشانات پڑ سکتے ہیں: رپورٹ

خلیجی ممالک کے پانیوں میں بھی سمندری جوئیں پائی گئیں، جسم پر نشانات پڑ سکتے ...
خلیجی ممالک کے پانیوں میں بھی سمندری جوئیں پائی گئیں، جسم پر نشانات پڑ سکتے ہیں: رپورٹ

  

دبئی (ویب ڈیسک) ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک کے سمندر میں بھی سمندری جوئیں پائی گئی ہیں۔ رپورٹ میں ساحلوں پر نہانے والوں کو خبردار کیا گیا ہے سمندر میں نہانے والوں کیلئے الرجی کا باعث بننے والی یہ جوں سر کے بالوں میں موجود جوں کی طرح نہیں ہوتی بلکہ جیلی فش کی طرح ہوتی ہے تاہم انتہائی چھوٹی ہونے کی وجہ سے عام آنکھ سے نظر نہیں آتی۔ اس سے ہونے والے اریکشن کو ”سی باتھرز ارپلشن“ کہا جاتا ہے۔ سمندری جوں پورا سال پانی میں موجود ہوتی ہے تاہم اپریل سے اگست کے دوران اس کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے اور جسم پر نشانات پڑ جاتے ہیں۔

مزید : عرب دنیا