سپریم کورٹ کا خواجہ آصف کے حلقے کا گمشدہ ریکارڈ ایک ہفتے میں پیش کرنے کا حکم

سپریم کورٹ کا خواجہ آصف کے حلقے کا گمشدہ ریکارڈ ایک ہفتے میں پیش کرنے کا حکم
سپریم کورٹ کا خواجہ آصف کے حلقے کا گمشدہ ریکارڈ ایک ہفتے میں پیش کرنے کا حکم

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کے حلقے این اے 110 سیالکوٹ کے 29 پولنگ سٹیشنز کا گمشدہ ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر ریکارڈ پیش نہ کیا گیا تو الیکشن مشکوک ہو جائے گا۔ عدالت نے شناختی کارڈ کے نمبروں میں تضاد پر نادرا سے رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی زیر صدارت تین رکنی بینچ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 110 سیالکوٹ میں انتخابی عذرداریوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے 29 پولنگ سٹیشن کے ریکارڈ اور نادرا رپورٹ پر اعتراضات کی رپورٹ طلب۔ عدالت نے سیکرٹری الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ این اے 110 میں 29 پولنگ سٹیشنز کا ریکارڈ کہا گیا جس پر انہوں نے عدالت کو بتایا کہ صرف 229 پولنگ سٹیشنز کا مواد موصول ہوا جس پر عدالت نے حکم دیا کہ 29 پولنگ سٹیشنز کا گمشدہ ریکارڈ پیش کیا جائے۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ ممکن ہے یہ بیگز کسی اور حلقے کے مواد کے ساتھ چلے گئے ہوں جبکہ ڈی آر او کی رپورٹ ابھی آنی ہے اس لئے ایک ہفتے کا وقت دیا جائے۔

روزنامہ پاکستان کی خبریں اپنے ای میل آئی ڈی پر حاصل کرنے اور سبسکرپشن کیلئے یہاں کلک کریں

عدالت نے سیکرٹری الیکشن کی استدعا کرتے ہوئے ایک ہفتے کا وقت دیا اور کہا کہ ریکارڈ ڈھونڈنے کیلئے دوسرے حلقوں کا ریکارڈ بھی کھولنا پڑے تو کوئی بات نہیں، این اے 110 کے 29 حلقوں کا گمشدہ ریکارڈ ہر صورت پیش کریں بصورت دیگر یہ تمام الیکشن مشکوک ہو جائے گا۔ عدالت نے شناختی کارڈ نمبروں کے تضاد پر بھی نادرا سے رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیئے کہ انتخابات کے دوران کوئی بھی کام ترتیب میں انجام نہیں پاتا اور پولنگ کے روز قیامت صغریٰ برپا ہوتی ہے۔

مزید : قومی /اہم خبریں