دنیا بھر کو دھمکیاں دینے والا امریکہ خود بے بس ہوگیا، چینی لڑاکا جہاز نے امریکی طیارے کا راستہ روکا تو پھر کیا ہوا؟ جان کر آپ بھی حیران پریشان رہ جائیں گے

دنیا بھر کو دھمکیاں دینے والا امریکہ خود بے بس ہوگیا، چینی لڑاکا جہاز نے ...
دنیا بھر کو دھمکیاں دینے والا امریکہ خود بے بس ہوگیا، چینی لڑاکا جہاز نے امریکی طیارے کا راستہ روکا تو پھر کیا ہوا؟ جان کر آپ بھی حیران پریشان رہ جائیں گے

  

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا کمزور ممالک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی آئے روز کرتا رہتا ہے۔ لاقانونیت کی اسی روش پر عمل پیرا ایک امریکی جنگی طیارہ بحیرہ جنوبی چین کی حدود میں گھس گیا، لیکن چین نے ایسا خوفناک جواب دیا کہ امریکا بہادر کے پسینے چھوٹ گئے اور اب تک سانس بحال نہیں ہو سکی۔

اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا کا جاسوس طیارہ RC-135 بحیرہ جنوبی چین کے علاقے میں محو پرواز تھا کہ چینی فضائیہ کے ایک J-10جنگی طیارے نے اسے انتہائی خطرناک انداز میں روکا، جس کا نتیجہ بڑی تباہی کی صورت میں بھی سامنے آ سکتا تھا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ چینی طیارے کی بلندی امریکی طیارے کی بلندی کے برابر تھی، اس کی رفتار خطرناک حد تک زیادہ تھی، اور یہ امریکی طیارے کے خطرناک حد تک قریب آ گیا تھا۔ امریکی جنگی طیارے تباہ ہوتے ہوتے بچا ہے لیکن اب امریکا سوائے واویلا کرنے کے کچھ نہیں کر پا رہا۔ اس کے دفاعی حکام جہاں چینی طیارے کی خطرناک کاروائی پر احتجاج کر رہے ہیں، وہیں اس بات پر شکر بھی ادا کر رہے ہیں کہ ان کا طیارہ صحیح سلامت واپس آ گیا ہے۔

ترکی کیلئے سب سے بڑا خطرہ! امریکہ کھل کر سامنے آگیا، ایساکام کردیا کہ ترکوں کو شدید پریشان کردیا

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

چین کی طرف سے بحیرہ جنوبی چین میں مصنوعی جزیروں کی تعمیر اور اس سمندر میں میزائلوں اور آبدوزوں کی تعیناتی کے بعد امریکا نے بھی اس علاقے میں اپنی مداخلت بڑھادی ہے۔ امریکی جاسوس طیارے گاہے بگاہے اس علاقے میں پرواز کرتے رہتے ہیں اور امریکی دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ RC-135 طیارہ بھی بین الاقوامی سمندر پر معمول کی پرواز پر تھا۔

چین کی جانب سے امریکا کو بحیرہ جنوبی چین میں مداخلت پر بارہا سختی سے خبردار کیا جاچکا ہے لیکن حالیہ وارننگ نے امریکا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر امریکی وزیر دفاع نے بحیرہ جنوبی چین میں مداخلت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا ہر اس جگہ پر واز کرنے، تیرنے اور کام کرنے کا حق رکھتا ہے جہاں اسے بین الاقوامی قانون اجازت دیتا ہے، مگر اپنے جنگی جہاز کے ساتھ ہونے والے سلوک کے بعد یقینا وہ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ بحیرہ جنوبی چین ان علاقوں میں شامل نہیں۔

مزید : بین الاقوامی