مقدمات کی سماعت ملتوی نہ کرنے کی اچھی روایت

مقدمات کی سماعت ملتوی نہ کرنے کی اچھی روایت

سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ کسی مدعی یا ملزم کا وکیل عدالت عظمیٰ میں موجود ہو یا نہ ہو، مقدمے کی سماعت ملتوی نہیں کی جائے گی۔ سپریم کورٹ ملک کی سب سے بڑی عدالت ہے، جہاں مقدمات ملتوی ہونے کے لئے پیش نہیں ہوتے۔ قائم مقام چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے یہ ریمارکس اس وقت دیئے جب ان کے روبرو ایک مقدمہ پیش ہوا تو بتایا گیا کہ مدعی کا وکیل مصروفیت کی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہوسکا۔ استدعا کی گئی کہ سماعت ملتوی کردی جائے لیکن قائم مقام چیف جسٹس نے یہ استدعا مسترد کرتے ہوئے مدعی سے کہا کہ وہ خود دلائل دے۔سپریم کورٹ میں مقدمہ پیش ہونے کے بعد کسی کارروائی کے بغیر ملتوی نہیں ہونا چاہئے۔ بلاشبہ قائم مقام چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے یہ ریمارکس بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ خاص طور پر عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار اور ججوں کی کمی کے حوالے سے ریمارکس ایک گائیڈ لائن کے طور پر بہتر رہنمائی کر سکتے ہیں اور درپیش مسائل کی نشاندھی کرنے کے ساتھ ساتھ تیزی سے مقدمات کو نمٹنانے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔بعض مقدمات میں ایسی شکایات سامنے آتی ہیں کہ مقدمے کو التوا میں رکھنے کے لئے حیلو ں بہانوں سے مقدمات کی نئی تاریخ کی استدعا کی جاتی ہے کہ مدعی یا ملزم کے وکیل کسی دوسری عدالت یا دوسرے شہر میں مصروف ہیں۔ بعض اوقات فاضل وکیل بیماری کی اطلاع دے کر مقدمے کی سماعت ملتوی کروا لیتے ہیں۔ ماتحت عدالتوں میں ایسا عام ہوتا ہے۔ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں مقدمات کی تاریخ سماعت پر کارروائی نہ ہو تو کافی عرصہ تک انتظار کے بعد اگلی تاریخ سماعت مقرر ہوتی ہے۔ اعلیٰ عدالتوں میں بلاوجہ مقدمے کی سماعت ملتوی ہونے سے روکنے کے لئے قائم مقام چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی حکمت عملی کا بڑا فائدہ ہوسکتا ہے۔اس معاملے میں پوری سنجیدگی کا ثبوت دینا چاہیے۔ مقدمات تیزی سے نمٹانے کے لئے قائم مقام چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے ریمارکس کو عملی طور پر اپنا کر فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔وکلاء جب ہر تاریخ سماعت پر اپنی حاضری کو یقینی بنائیں گے تو ان کے موکل بھی مطمئن ہوں گے۔ اس کے لئے وکلاء کو بھی احساس ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے پورا تعاون کرنا چاہئے۔ تاکہ وقت ضائع نہ ہو اور مقدمات جلد نمٹائے جاسکیں۔

مزید : اداریہ