شدید گرمی۔۔۔ ماحولیات اور لیسکو کی مہربانی!

شدید گرمی۔۔۔ ماحولیات اور لیسکو کی مہربانی!
شدید گرمی۔۔۔ ماحولیات اور لیسکو کی مہربانی!

  

گزرے برس کی نسبت اس سال نہ صرف درجہ حرارت میں اضافہ ہوا، بلکہ گرمی کا دورانیہ بھی بڑھ گیا ہے۔ سورج کی حدت نے پتہ پانی کیا، اب تک درجن بھر سے زیادہ تو اموات ہی ہو چکی ہیں، یہ سب انسانوں کے ساتھ بیت گیا، دُنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں نے آندھی، سیلاب اور طوفان پیدا کئے، جانی و مالی نقصان ہوا، اس کے باوجود آج بھی ایسے حضرات کی اکثریت ہے جو گلوبل وارمنگ کے مسئلے پر یقین نہیں رکھتے، انسانوں میں ہی بعض حضرات سب کچھ قدرت پر ڈال کر خود کو مطمئن کر لیتے ہیں، اسی دُنیا میں جدید سائنس میں بھی ماہرین مختلف الخیال ہیں، ایک طبقہ وہ ہے جو دن رات انسانیت سوز اسلحہ کی ایجاد میں لگا ہوا ہے اور دوسرے دردِ دل والے وہ سائنس دان ہیں جو دن رات فلاح انسانیت اور کرۂ ارض کے تحفظ کے لئے اپنی توانائیاں صرف کر رہے ہیں،انہی میں سے ارضی تبدیلیوں پر نگاہ رکھنے والے بھی ہیں جو بار بار انتباہ کر رہے ہیں کہ زمینی درجہ حرارت میں درجہ بدرجہ اضافہ ہو رہا ہے اور اب مزید چار درجہ حرارت بڑھ جائے گی کہ اوزان کے سوراخ کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے کچھ نہیں کیا جا رہا، اس سلسلے میں چارٹر اور معاہدے ضرور کئے گئے،145 سے زائد ممالک نے پیرس میں اکٹھا ہو کر وعدہ کیا کہ ماحولیاتی آلودگی کو زیرو پر لانے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں گے۔ ان میں اصل نکتہ دھوئیں کے اخراج کو روکنا ہے، اس کے لئے تیل، کوئلے اور لکڑی کے جلنے سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی آلودگی والے دھوئیں کی وجوہات ختم کرنا شامل ہے۔ گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے مطابق ماحولیات کا عالمی دن بھی منایا گیا، اس روز بیانات تو نظر آئے،لیکن عمل والی بات نہیں تھی، الٹا امریکی ’’انقلابی صدر‘‘ ڈونلڈ ٹرمپ نے تحفہ دیا کہ امریکہ کو پیرس معاہدے ہی سے نکال لیا، اسے کہا جلتے ہو تو جلتے رہو۔

پاکستان میں اس مرتبہ گرمی کا دورانیہ بڑھنے والا سلسلہ تو کئی برسوں سے بتدریج چلا آ رہا ہے،لیکن اس بار اس کے علاوہ درجہ حرارت بھی بہت بڑھ گیا اور رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بہت زیادہ گرمی پڑنا شروع ہو گئی۔ محکمہ موسمیات والوں کی رپورٹ تو مراکز میں حاصل کئے گئے درجہ حرارت کے مطابق ہوتی ہے جو اس مرتبہ47سے51سنٹی گریڈ تک کی ہے تاہم زمینی حقائق مختلف ہیں کہ مکانات اور سڑکوں کی تعمیر کے علاوہ درختوں کی کٹائی کے باعث باہر درجہ حرارت بہر صورت دو سے تین درجہ تک زیادہ ہی ہوتا ہے اس کے مطابق تو لاہور اور راولپنڈی جیسے شہروں میں درجہ حرارت48-47 سنٹی گریڈ تک گیا۔ یہ تو اللہ کو رحم آ جاتا ہے کہ ہفتہ بھر شدت کی گرمی کے بعد بادل اور بارش پھر سے کمی کر دیتی اور دو چار روز بہتر گزر جاتے ہیں جیسا کہ اس بار ہوا اور بلبلاتے شہریوں پر رحمت ہوئی ۔ آندھی کے بعد بارش نے کچھ آرام پہنچا دیا اگرچہ دھوپ کی شدت وہی ہے لیکن مغرب سے آنے والی ٹھنڈی ہوا نے حالات بہتر بنائے ہوئے ہیں۔

دورِ جدید میں گرمی کی شدت بڑھنے سے آلات کی مدد بہت ضروری ہو جاتی ہے چنانچہ پنکھا، روشنی، فریج، فریزر اور ایئر کنڈیشنر ضرروت بن کر رہ گئے ہیں اور ہر کوئی اپنی حیثیت سے قدرے بڑھ کر بھی استعمال کی کوشش کرتا ہے، ان سب کے لئے بڑی ضرورت بجلی کی ہے اور یہی مل نہیں رہی، ان کی جگہ ’’بل‘‘ مل رہے ہیں۔

وزیراعظم کی سخت ہدایات اور وزیر پانی و بجلی کے دعووں کے باوجود شہری طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے بلبلا رہے ہیں اس پر بجلی مہیا کرنے والی کمپنیوں کا سلوک قیامت ڈھاتا ہے کہ مرمت کے نام پر سات سے دس گھنٹے تک بجلی بند کرنا معمول ہے اور ایسا ہر شہر میں مختلف علاقوں میں کیا جاتا ہے۔یوں بجلی کی بچت ہوتی ہے، شہروں(لاہور جیسے) میں کم از کم چھ سے آٹھ گھنٹے تک لوگوں کو بجلی سے محروم رکھا جاتا ہے۔ دیہات اور شہر کے بیرونی علاقوں میں حالت ابتر ہے جہاں 12سے16گھنٹے بجلی بند رہتی ہے۔ لیسکو کی کارکردگی کا تلخ ترین تجربہ خود ہمیں گزشتہ سوموار (5جون) کو ہوا، سحری معمول کے مطابق اور دفتر روانگی بھی صبح دس بجے ہو گئی یہاں آ کر معمول کا کام شروع کیا، قریباً ایک بجے دوپہر گھر سے فون آیا کہ بجلی سوا دس بجے بند ہوئی جو اب تک نہیں آئی۔ معلوم کر کے بتا دیں کہ ’’شٹ ڈاؤن‘‘ ہے تو کب بحال ہو گی۔ اب ہم نے دفتر سے خود اور اپنے آپریٹر کے ذریعے معلومات حاصل کرنے کے لئے فون ملانے کی کوشش کی۔ مصطفےٰ ٹاؤن(وحدت روڈ) سب ڈویژن کا لینڈ لائن نمبر 35292646 مسلسل مصروف ملا اور جب محکمہ ٹیلیفون والوں سے رجوع کر کے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ فون کا ریسیور الگ کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ اس کے بعد بل پر درج ایس ڈی او کے موبائل نمبر پر کوشش شروع کی۔ یہ نمبر بھی مصروف ملتا تھا اور جب بیل ہوتی بھی تھی تو سننے کی بجائے ’’ڈِس کنیکٹ‘‘ کر دیا جاتا تھا۔ یہی حالات ایگزیکٹو انجینئر صاحب کے موبائل نمبر کے تھے۔

ہم نے اپنے آپریٹر کے تعاون سے لیسکو کے مرکزی دفتر کے نمبروں کی کوشش کی تو کسی نے فون نہ اٹھایا شاید رمضان المبارک کے اوقات کار کی وجہ سے دفتر بند ہو چکے تھے، پھر لیسکو کے پی آر او محترم کے موبائل نمبر پر کوشش کی تو وہاں سے بھی جواب نہیں ملا اور فون اٹھایا ہی نہیں گیا، اس عرصہ میں معلوم کیا تو پتہ چلا کہ مصطفےٰ ٹاؤن سب ڈویژن کے فیڈر انڈسٹریلII میں خرابی کے باعث پورے علاقے وارث کالونی، ایجوکیشن ٹاؤن،اعظم گارڈن اور مصطفےٰ ٹاؤن(آدھا) کی برقی رو منقطع ہے، ہم دفتر سے گھر گئے اور پھر سے کوشش کرتے رہے، کسی سے رابطہ نہ ہوا کہ ہمیں یہ علم ہو کہ بجلی کب آئے گی؟ خواتین، بچے، بوڑھے تڑپ رہے تھے اور بجلی ٹھیک نہیں ہو رہی تھی۔اسی حالت میں روزہ افطار ہوا، لوگوں کے یو پی ایس جواب دے گئے، فریج میں پڑے دودھ، سالن اور دوسری اشیاء خراب ہو گئیں،جو محلے دار خود دفتر گئے ان کو بھی جواب نہیں ملا، صرف یہی کہا گیا کہ گرڈ سے خرابی ہے،دور ہو گی تو بجلی بحال ہو گی۔ یہ سلسلہ رات ساڑھے دس بجے تک جاری رہا،جب بجلی بحال ہوئی تو کچھ چین آیا، اب ٹرپنگ کا سلسلہ جاری ہے اور لوڈشیڈنگ پہلے جیسی ہو رہی ہے۔یہ تو مصطفےٰ ٹاؤن سب ڈویژن کی کارکردگی کا ایک حوالہ ہے۔مزید سنیں کہ اس ماہ وصول ہونے والے بجلی کے بل آج(7جون) کو ملے، اس کی آخری تاریخ 9جون ہے۔

اس سے اندازہ لگائیں کہ مقصد کیا ہے؟ ایک چار رکنی اوسط گھرانے کا بل720یونٹ کے عوض 14ہزار295 روپے آیا، یہاں ایک ٹن کا ایک ائرکنڈیشنر مجبوراً چھ سات گھنٹے ہی چلتا ہے، اس سے یہ بھی عرض مقصود ہے کہ ایک دن کے وقفہ سے تنخواہ دار شخص یہ بل کیسے ادا کرے، یقیناًقرض لینا ضروری۔ اگر مل جائے۔

مزید :

کالم -