غلام روحوں کے کارواں میں

غلام روحوں کے کارواں میں
 غلام روحوں کے کارواں میں

  


من الحیث القوم ہم اس وقت علمی، تہذیبی اور اخلاقی قحط کا شکار ہیں علمی رویہ تو کبھی تھا ہی نہیں ہمارے پاس، تہذیب اور اخلاقیات کے لحاظ سے بھی ہم نے ہمیشہ مشرقِ وسطٰی اور مغرب کا رخ کیا گویا ہم نے ابتدا ہی سے تقلید اور ذہنی غلامی کو ترجیح دی یہ غلامی دراصل ایسی غلامی ہے جو ہمیں غلامی کے ادراک سے بھی عاری کر چکی ہے چنانچہ ہم اس مطمئن غلامی سے نجات حاصل نہیں کر سکتے ،کیونکہ ہم اس پر فخر محسوس کر رہے ہیں میں اگر خود کو مہذب کہتا ہوں تو میری تہذیب براہ راست مجھے تو فائدہ دے سکتی ہے، مگر میں اسے معاشرے میں اپلائی نہیں کر سکتا، کیونکہ یہاں کا ماحول مجھے زیادہ دیر تک اپنی تہذیب پر قائم نہیں رہنے دیتا ہم نے کبھی اجتماعی طور پر اپنی ذہنی تربیت پر توجہ نہیں دی، بلکہ اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی یہی وجہ ہے کہ آج ہم علمی و اخلاقی پستی کا شکار ہو چکے ہیں قوم نظریات سے بنے یا اوطان سے، مگر قوموں میں ایک بنیادی شعور ہمیشہ بیدار رہتا ہے کہ وہ ایک قوم ہیں ،جبکہ ہمارے ہاں یہ انتہائی بنیادی شعور بھی موجود نہیں ہمارا پورا زور مذہبی مشقات پر ہے اور جس کے لئے ہماری نظریں ہمہ وقت اس جہان پر لگی رہتی ہیں جس تک پہنچنے کے لئے ہمیں پہلے مرنا پڑتا ہے چلیں مرنا تو رہا ایک طرف بنیادی بات یہ ہے کہ کیا ہم اس وقت جو زمین پر چل رہے ہیں اور زندہ سلامت ہیں کیا واقعی زندہ ہیں؟ یہ ہے وہ سوال جس پر غور کرکے ہم اس دنیا میں ترقی کر سکتے ہیں اگر ہم نے یہی سوچنا ہے کہ ہم نے تو مر کر آگے نکل جانا ہے اور اس فانی دنیا میں ہمیشہ کے لئے نہیں رہنا اس لئے یہاں مغز کھپانے کی ضرورت نہیں تو اس غلط فہمی کا جواب یہ ہے کہ آپ نے تو مر جانا ہے، لیکن آپ کے بعد جو ایک نسل اس خطے پر آباد ہو گی کیا وہ اس دنیا میں اپنے حصے کا جینے کا حق نہیں رکھتی؟ ہم اگر اس دنیا میں کچھ موجودہ مسائل کم کرکے مر جائیں تو کیا ان ہزاروں انسانوں کے لئے بہتر نہیں ہو گا جن کے لئے یہ دنیا بالکل نت نئے مسائل کا گھر ہو گی؟

یہ دنیا فانی ہے یہ ہمارا عقیدہ ہے اور عقائد کی کوئی منطق نہیں ہوتی، کیونکہ منطق ٹھوس تجرباتی ثبوت پر منحصر ہوتی ہے زندگی اور موت اس کائنات کے ناقابل تسخیر حقائق ہیں زندگی اور موت کی ایک قسم وہ ہے، جس کا تعلق جسم سے ہوتا ہے، جبکہ اس کے علاوہ زندگی اور موت کی ایک دوسری قسم وہ ہے، جس کا تعلق روح سے ہے دل سے ہے ذہن سے شعور سے ہے یا آپ اسے جو بھی نام بھی دے دیں وہ انسان جو جسمانی طور پر زندہ رہتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ روحانی طور پر بھی زندہ رہے، بلکہ یہی حقیقی زندگی ہے روحانی زندگی شعور یا اقبال کی اصطلاح میں " خودی" سے بیدار ہوتی ہے وہ انسان یا قوم جو جسمانی طور پر تو سرگرم ہو، مگر روحانی طور پر مردہ ہو درحقیقت مردہ ہے آزادی ایک فطری روشنی ہے، جس کے ذریعے انسان اس زندگی کو جنت بنا سکتا ہے ،جبکہ غلامی ایک ایسی متعدی علالت ہے، جس کے سبب انسان چلتے پھرتے بھی مردہ رہتا ہے غلامی کی کئی ایک اقسام ہیں، مگر اس کی ایک قسم انتہائی تباہ کن ہے اور وہ ہے تہذیبی غلامی، تہذیبی غلامی سے مراد ان اقدار کی تقلید ہے، جن کا متعلقہ خطے سے براہ راست تعلق نہ ہو اور یہی وہ بنیادی سبب ہے دنیا میں قوموں کے زوال کا، کیونکہ انسان چاہ کر بھی اپنے خون سے اپنی تہذیب کو نہیں نکال سکتا حتی کہ کوئی درآمدہ نظریہ اسے بدترین موت سے ہمکنار کیوں نہ کر دے۔ نظریہ اور تہذیب میں بنیادی فرق یہ ہے کہ نظریہ انسان کی انفرادی صوابدید پر مبنی ہوتا ہے ،جبکہ تہذیب انسان کو وراثت میں ملتی ہے نظریات بھی انسان کو وراثت میں مل سکتے ہیں، مگر وہ تہذیب پر سبقت نہیں لے سکتے، کیونکہ تہذیب دراصل مٹی سے گندھی ہوئی وہ خوشبو ہوتی ہے جو مرتے دم تک انسان کے خون میں جاری و ساری رہتی ہے یہاں پر دو بنیادی باتیں یاد رکھنی چاہئیں ایک یہ کہ انسان یا قوم کو اپنی تہذیب نہیں بدلنی چاہئے، جبکہ دوسری بات یہ کہ انسان کو اپنی تہذیب کی حدود میں رہتے ہوئے آگے بڑھنا چاہئے وہ قومیں جلد صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں جو ماضی کا مزار بنی رہتی ہیں اپنی تہذیب میں جدت پیدا کرنے میں کوئی قباحت نہیں، کیونکہ قومیں ہمیشہ حرکت سے پنپتی ہیں پرانی اقدار سے فرار اور جدید اقدار کا وقوع ہی دراصل ترقی یافتہ اقوام کا وتیرہ رہا ہے دوسری تہازیب کو اپنے اوپر لاد لینے سے قومیں صرف فکری غلام ہی پیدا کرتی ہیں ۔

غلام روحوں کے کارواں میں

جرس کی آواز بھی نہیں ہے

اْٹھو تمدن کے پاسبانو

تمہارے آقاؤں کی زمیں سے

اْبل چکے زندگی کے چشمے

نشان سجدوں کے اب زمیں سے مٹاؤ

دیکھو چھپا نہ لے وہ لہو ٹپکتا ہے آستیں سے

غلام روحوں کے کارواں میں

نفس کی آواز بھی نہیں ہے

اْٹھو محبت کے پاسبانو

یہ کہر و صحرا یہ دشت و دریا

تمہارے اجداد گا چکے ہیں

یہاں پہ وہ آتشیں ترانہ

جو گرمی بزم تھا، مگر اب

گزر گیا اْس کو اک زمانہ

سمند ایام برق پا ہے

اْٹھو کہ تاریخ ہر ورق پر

تمہارا شْبنام ڈھونڈتی ہے

نہ دیں گے آواز اس کے شہہ پر

جو وقت اْڑتا چلا گیا ہے

زمین آنکھوں سے مت کریدو

نہ مل سکیں گی وہ ہڈیاں جو

زمیں کا تاریک گہرا سینہ نگل چکا ہے

نیا قرینہ سکھاؤ پامال زندگی کو

اْٹھو مزاروں کے پاسبانو

چلو نا گرماؤ زندگی کو

کہ ڈھیر سْونے پڑے ہیں ان پر

کہیں سے دو پھول ہی چڑھاؤ

غلام روحوں کے کارواں میں

جرس کی آواز بھی نہیں ہے

مزید : کالم