کور کمانڈروں کی سپیشل کانفرنس!

کور کمانڈروں کی سپیشل کانفرنس!
کور کمانڈروں کی سپیشل کانفرنس!

  

غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں۔6جون(منگل) کو جی ایچ کیو میں جو کور کمانڈروں کی ایک سپیشل کانفرنس منعقد ہوئی وہ ایک ایسی ہی کانفرنس تھی۔غیر معمولی اس لئے تھی کہ پانچ روز پہلے یکم جون(2017ء) کو کابل میں ایک زبردست دھماکہ ہوا تھا جس میں مرنے والوں کی تعداد90سے بڑھ کر150 ہو چکی ہے۔ سینکڑوں زخمی ہوئے، جس جگہ یہ دھماکہ ہوا وہ ہائی سیکیورٹی زون تھا۔ سفارت خانے بالعموم ریڈ زون میں مقیم رکھے جاتے ہیں اور سچی بات یہ ہے کہ افغانستان تو سارے کا سارا گزشتہ16،17برسوں سے ایک خطرناک ریڈ زون بن چکا ہے۔ بدقسمتی ہے کہ پاکستان اور افغانستان دونوں اندرونی خلفشار کا شکار ہیں، اس کی وجوہات مختلف ہیں لیکن خلفشار تو بہرحال ہیں۔

پاکستانی میڈیا دن رات اپنے اندرونی خلفشاروں پر بحث و مباحثہ کرتا رہتا ہے جبکہ افغانستان کے خلفشاروں کا ذکر افغان میڈیا سے کہیں بڑھ کر غیر افغان میڈیا کرتا ہے، جس میں بھارتی اور مغربی میڈیا ہاؤسز پیش پیش ہیں۔ افغان صدر شرف غنی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر(CEO) عبداللہ عبداللہ ان میڈیا ہاؤسز کا ماؤتھ پیس ہیں۔افغانستان کی زبان فارسی ہے اس لئے مَیں موجودہ افغان صورتِ حال پر وہی تبصرہ کرنا چاہتا ہوں جو ایک فارسی شاعر نے کیا ہے۔ وہ کہتا ہے:

در پسِ آئینہ طوطی صفتم داشتہ اند

آنچہ استادِ ازل گفت ہماں می گویئم

(ترجمہ:مجھے طوطی کی طرح آئینے کے پیچھے بٹھایا ہوا ہے۔ازل اور ابد کا مالک جو کچھ کہتا ہے مَیں وہی بول دیتا ہوں)

مطلب واضح کرنے کے لئے تھوڑی سی تشریح ضروری ہے۔۔۔۔ شاعر کہتا ہے کہ مجھے کارکنانِ قضا و قدر نے جو حکم دیا ہے مَیں وہی بجا لاتا ہوں۔اپنے آپ پر میرا کوئی اختیار نہیں۔۔۔۔طوطے کو بولنا سکھانے کے لئے اس کو آئینے کے سامنے بٹھا دیا جاتا ہے۔ اس کو باتوں کی سکھلائی دینے والا انسٹرکٹر ایک پردے میں چھپ کر بیٹھ جاتا ہے۔ وہ جو بات بھی کرتا ہے، طوطا اسے اپنے سامنے رکھے آئینے کے عکس کی ’’بات‘‘ خیال کرتا ہے حالانکہ وہ ’’بات‘‘ طوطے کے عکس کی نہیں ہوتی کسی اور کی ہوتی ہے۔طوطا تو صرف ’’بات‘‘ کو دہراتا ہے۔اصل ماسٹر اور ٹرینر(Trainer) تو پسِ پردہ بیٹھا ہوتا ہے۔ شاعروں اور فلسفیوں کا یہ ایک دِل پسند مضمون ہے۔ فارسی زبان کے بڑے بڑے شعرا اس مجہولی فلسفے کے مبلغ ہیں۔ صرف مولانا روم ایسے شاعر ہیں جنہوں نے اس فلسفہ کا ردّ کیا اور بڑی شدو مد سے کیا۔ اسی لئے اقبال، ان کو مرشدِ رومی کہتے ہیں۔ اُردو زبان کے بیشتر شعرا نے بھی(علامہ اقبالؒ سے پہلے) اس نقط�ۂ نگاہ کا پرچار کیا۔۔۔ میر تقی میر کا مشہور شعر ہے:

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی

چاہے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

یہ موضوع بہت بسیط و عریض ہے اس لئے اس کو چھوڑتے ہیں۔۔۔۔ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے ماسٹر ٹرینر، گاڈ فادر اور اَن داتا امریکہ اور بھارت ہیں۔ امریکی ہاتھی کے پاؤں میں یورپ کے بہت سے درندوں اور جانوروں کا پاؤں بھی ہے اس لئے جو کچھ امریکہ اور اس کی مشرقی و مغربی لابی کہتی ہے، افغان حکومت وہی کچھ کہتی اور کرتی ہے۔

کابل کے حالیہ دھماکے کی ذمہ داری افغان رہنماؤں نے پاکستان پر ڈالی اور حقانی نیٹ ورک کا فرسودہ کارڈ استعمال کرنے کی کوشش کی، جس کے جواب میں پاکستان کی وزارتِ خارجہ اور افواج نے سختی سے یہ استدلال کیا کہ حقانی نیٹ ورک کو تو آپریشن ضربِ عضب میں شمالی وزیرستان سے نکال دیا گیا تھا۔ اب وہ نیٹ ورک اگر کہیں ہے تو اس کا ٹھکانہ پاکستان نہیں، افغانستان ہے، لہٰذا افغانوں کو اپنے ’’اندر‘‘ کی خبر لینی چاہئے اور ’’باہر‘‘ پر الزام نہیں دھرنا چاہئے۔

کابل کا یہ سانحہ کوئی چھوٹا موٹا سانحہ نہیں تھا۔لیکن افغان حکومت کو یاد ہونا چاہئے کہ ’’بموں کی ماں‘‘ کس نے استعمال کی تھی اور کہاں کی تھی؟ آج بھی افغانستان کے طول و عرض میں 8400 امریکی ٹروپس موجود ہیں۔ ان کے علاوہ چار پانچ ہزار مغربی یورپی ممالک کے ٹروپس بھی کابل و قندھار میں صف بند ہیں۔امریکہ اب تک ایک ٹریلین ڈالر (1000بلین ڈالر) افغانستان کی بھٹی میں جھونک چکا ہے۔ اس کے اڑھائی ہزار سے زائد جوان اور آفیسرز گزشتہ17برسوں میں افغانستان کی سرزمین پر مارے جا چکے ہیں اور ہزاروں اپاہج ہو کر واپس جا چکے ہیں۔

افغان رہنماؤں کو پاکستان پر الزام لگانے کی بجائے اپنا ضمیر جھنجھوڑنا چاہئے کہ آخر امریکہ اس قدر جانی اور مالی نقصان اٹھا کر بھی افغانستان میں کیوں بیٹھا ہوا ہے؟۔۔۔ عراق، لیبیا اور شام کو روندنے کی وجہ تو سمجھ میں آتی ہے کہ وہاں تیل تھا (اور ہے) اور وہ سب یورپ کی وار انڈسٹری میں کھپایا جا رہا ہے۔لیکن افغانستان میں کیا ہے؟ کیا امریکہ،افغان سنگِ مر مر اور دوسرے معدنی ذخائر کے لئے وہاں مقیم ہے؟ کیا پوست کی فصل کا سب سے بڑا خریدار امریکہ اور یورپ نہیں؟۔۔۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ آپس میں برادرانہ اور دوستانہ تعلقات کو فروغ دیں۔ تو پھر کون ہے جو اس فروغ و ارتقا کی راہوں میں حائل ہے؟ بھارت کے سٹیک ظاہر و باہر ہیں لیکن کیا امریکی آشیرباد اور امدادی چھتری کے بغیر کوئی بھارتی، افغانستان میں ایک دن بھی رک سکتا ہے؟۔۔۔ اس حقیقت کا ادراک افغان حکومت کو خوب ہے۔

ہم سالہا سال سے روز و شب اپنے سیاسی رہنماؤں کو کوستے رہتے ہیں لیکن عالمی سیاست سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔کیا2001ء میں جارج بش کے دور میں افغانستان پر حملہ اور قبضہ اور پھر آج2017ء تک کے16،17 برسوں میں ہم نے عالمی سیاست دانوں کے چہرے نہیں دیکھے؟ ایک وقت تھا کہ یہاں150000(ڈیڑھ لاکھ) امریکی اور نیٹو فورسز مقیم تھیں۔ پھر2014ء کے اواخر میں صرف8400رہ گئیں۔ بہانہ یہ بنایا گیاکہ افغان نیشنل آرمی اور افغان نیشنل پولیس کو ٹریننگ دینے کے لئے یہ ٹروپس ناگزیر ہیں۔ اوباما سے ٹرمپ تک کی امریکی ایڈمنسٹریشن کا استدلال یہی رہا ہے لیکن کون سی افغان آرمی اور کون سی افغان پولیس؟۔۔۔ آج کل تو امریکہ میں یہ بحث بڑے زور و شور سے چل رہی ہے کہ وہاں5000اضافی ٹروپس بھیجے جائیں یا نہ بھیجے جائیں۔

امریکی جرنیل، مسئلہ افغانستان کا فوجی حل نکالنا چاہتے ہیں۔یہ ان کی پرانی عادت ہے۔ ایڈمنسٹریشن بدلتی رہتی ہے لیکن فوج کا نقط�ۂ نظر وہی رہا جو جنگِ عظیم اول سے پہلے تھا۔ وہ تو شمالی کوریا کو بھی ’’ٹھکانے‘‘ لگانے کے لئے اپنے ٹروپس کے علاوہ ہزاروں لاکھوں جنوبی کورین اور جاپانی سویلین آبادی کی ’’قربانی‘‘ دینے کو تیار ہیں(نیو کلیئر وار میں)۔ اس نقط�ۂ نظر کے ابطال کی ایک ہی صورت تھی کہ امریکی مین لینڈ(Main Land) کو خطرہ ہو جاتا۔ لیکن چونکہ ابھی شمالی کوریا بین البراعظمی میزائل(ICBM) تیار نہیں کر سکا اس لئے امریکی جرنیل، شمالی کوریا کے فوجی حل پر مصر ہیں۔ کاش شمالی کوریا کے نصیب میں امریکی جرنیلوں کی اس سوچ کی شکست آ جائے:

کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟

دُنیا ہے تری منتظر اے روزِ مکافات

صدر ٹرمپ کو مسندِ اقتدار سنبھالے چھ ماہ ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک ان کے مشیروں نے یہ فیصلہ نہیں کیا کہ افغان مسئلے کا کیا حل نکالا جائے۔ مسٹر ٹرمپ امریکی افواج کے کمانڈر انچیف بھی ہیں۔۔۔۔جنرل میٹس (Mattis) امریکہ کے وزیر دفاع ہیں اور لیفٹیننٹ جنرل میک ماسٹر(Mc master) قومی سلامتی کے مشیر ہیں۔ یہ دونوں جرنیل ٹرمپ پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ افغانستان کا صرف فوجی حل ہی قابلِ عمل ہے جبکہ ان دونوں جرنیلوں کے مقابلے میں مسٹر سٹیفن بینن (Stephan Bannon) خم ٹھونک کر کھڑے ہیں اور ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔مسٹر بینن کا استدلال ہے کہ گزشتہ16،17برسوں کی تاریخ اس امر پر شاہدِ عادل ہے کہ افغان مسئلے کا حل مزید امریکی ٹروپس بھیج کر ان کو ذبح کروانا یا اپاہج کروانا نہیں۔ امریکی میڈیا یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ ان کا صدر باکسنگ رِنگ میں کھڑا ہے۔ا یک طرف سے جرنیل اس پر مکّوں کی بارش کر رہے ہیں اور دوسری طرف سے سویلین تزویرکار (Strategists) اس پر گھونسوں کے تابڑ توڑ حملے کئے جا رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے وزارتِ دفاع کی طرف سے آئی ہوئی یہ تجویز کہ افغانستان میں 5000 اضافی ٹروپس بھیج دیئے جائیں فی الحال واپس کر دی ہے۔۔۔۔لیکن آخری فیصلہ تو کمانڈر انچیف نے ہی کرنا ہے!

دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک

اس مسئلے پر پاکستان:’’دیکھو اور انتظار کرو‘‘ کی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ میری نظر میں ہمارے اندرونی حالات کچھ بھی ہوں وہ اتنے اہم نہیں جتنے بیرونی حالات ہیں۔پاکستان واقعی آج اندرونی اور بیرونی خلفشاروں میں گرفتار ہے۔ اندرونی آویزشوں کا دور ایک طویل عرصے سے ہم پر ’’طاری‘‘ ہے۔ 95فیصد عوامی نگاہیں اندرونی زبوں حالی کی ناظرہ ہیں۔ باقی 5فیصد وہ نگاہیں جو خارجی حالات کی اہمیت کو جانتی اور اس کے نفع و ضرر کا ادراک رکھتی ہیں۔ اور قارئین کو بتاتی رہتی ہیں کہ ’’ایک نظر ’’اِدھر‘‘ بھی دیکھ لیا کریں۔ ۔۔۔‘‘ مَیں یہ فقرہ کسی ’’خود ستائی‘‘ کے تناظر میں نہیں لکھ رہا۔ مجھے اندرونی خرابی حال سے بھی وحشت ہے اور بیرونی آشوب زدگی سے بھی صرفِ نظر نہیں کر سکتا۔ میری زیادہ تر تحریریں میرے اس مقصود (Objective) کی غماز رہی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا پر نگاہ ڈالتا ہوں تو اپنی میڈیائی کیفیت اور عوامی دلچسپی کی شدت کو دیکھ دیکھ کر کڑھتا ہوں۔۔۔ کاش وہ دن آئے کہ یہ مساوات معکوس ہو جائے!

مزید :

کالم -