بند گھروں ، چھوٹی گلیوں کے رہائشی ہڈیوں کے بھربھرا پن کا شکار ہوتے ہیں

بند گھروں ، چھوٹی گلیوں کے رہائشی ہڈیوں کے بھربھرا پن کا شکار ہوتے ہیں

  

پروفیسرڈاکٹر تحسین ریاض پاکستان میں ان گنے چنے ماہرامراض ہڈی وجوڑ اور ریڑھ کی ہڈی کے معالجین میں شامل ہیں جنہیں شہرت ونیک نامی کی بے پناہ دولت میسر ہے۔جناح ہسپتال میں شعبہ آرتھو پیڈک کے سربراہ ہیں۔ ہڈیوں اور جوڑوں سے متعلق تقریباً 14 کے قریب مقالے لکھ چکے ہیں۔ قومی و بین الاقوامی کانفرنسز وسیمینار میں شرکت کرتے رہتے ہیں ۔ اب جو کنسلٹنٹ بن رہے ہیں ان ڈاکٹروں کی تربیت کر رہے ہیں گزشتہ دنوں ان سے ملاقات ہو ئی تو ہم نے ہڈیوں کے امراض اور ان کے علاج کے حوالے سے گفتگو کی جو نذر قارئین ہے۔

س: ہسپتال میں ہڈیوں کے امراض کے حوالے سے کس بیماری کے مریض زیادہ آتے ہیں؟

ج: ہڈیوں کے بھربھراپن کی بیماری کے لوگ زیادہ آتے ہیں۔ ہڈیوں کے بھربھراپن کے مرض کی وجہ سے گھٹنوں کے گھسنے ،کولہے اور کمر کی ہڈیاں ٹوٹنے لگتی ہیں اور ان ہڈیوں کے ٹوٹے ہوئے مریض آتے ہیں۔ ہم ان کا آپریشن کرنے کیساتھ ساتھ ہڈیوں کے بھربھرا پن کا بھی علاج کرتے ہیں تاکہ آئندہ ان کی ہڈیوں کا فریکچر نہ ہو۔ ہڈیوں کے بھربھرا پن کی بیماری میں مبتلا زیادہ تر اندرون شہر کے لوگ ہوتے ہیں۔ یہ لوگ بند گھروں اور چھوٹی چھوٹی گلیوں میں رہتے ہیں وہ سورج کی روشنی سے وٹامن ڈی حاصل نہیں کر پاتے جس کی وجہ ان کا جسم وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور ان کی ہڈیاں کمزور ہوتی ہے۔اس کے علاوہ ٹراما کے مریض بھی بہت زیادہ آتے ہیں ۔ٹراما میں پہلے ایک گھنٹہ میں مریض کا اگر صحیح علاج ہو جائے اور سپیشل ٹریٹمنٹ مل جا ئے تو اس مریض کی زندگی بھی بچ سکتی ہے اور اس سے بہت سے اعضاء جو ضائع ہو گئے ہیں اس سے بھی وہ بچ جاتا ہے۔ ہائی سپیڈ اور آٹو میٹک ہتھیار کی جو انجیری ہوتی ہے اور جو بم دھماکوں اور ٹریفک حادثوں کی انجیری ہوتی ہیں اس میں ان کی زندگی بچانے کے لئے ٹراما سینٹر ماہر ٹراما ڈاکٹروں کی ٹیم اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ٹراما سینٹر میں آرٹھو پیڈک سرجنز، نیورو سرجز، انتھسیز یا ماہر ڈاکٹرز، جنرل سرجنز، پلاسٹک سرجنز، اور فزیشن بھی شامل ہوتے ہیں ایک پوری ٹیم ہوتی ہے جو مل کر ٹراما کے مریض کا علاج کرتی ہے۔ ٹیچنگ ہسپتالوں میں سب سے زیادہ بوجھ ٹراما کا ہے اور پنجاب میں کسی بھی جگہ ٹراما سینٹر نہیں ہے حالانکہ دنیا میں ہر جگہ تھوڑی تھوڑی فاصلے پر ٹراما سنٹر بنے ہوتے ہیں تاکہ اگر کوئی حادثہ ہو جائے تو انسانی زندگی کو بچانے کے لئے فوری طبی امداد مل سکے اگر ٹانگ ٹوٹ گئی ہے تو فوری علاج سے اس کو معذوری سے بچایا جاسکے لیکن یہاں پر یہ سہولت نہیں ہے۔

س: آرتھو پیڈک کے شعبے میں بھی جدت آگئی ہے؟

ج: ساری دنیا میں اب آرتھو پیڈک کا تصور یہ ہے کہ اس کے علیحدہ علیحدہ سیکشن آگئے ہیں ۔ اب سپیشلٹی کے اندر سپر سپیشلٹی آ گئی ہے اس لئے آرتھو پیڈک سرجری میں ٹراما کے سرجن علیحدہ ہونا چاہئیں۔ جو جوائنٹس تبدیل کرتے ہیں آرتھو سکوپی کے سرجن علیحدہ ہونے چاہئیں۔ اینکر فٹ کے علیحدہ سرجن ہونا چاہئیں سپائن کے سرجن علیحدہ ہونا چاہئیں وغیرہ تاکہ اعلیٰ ترین سپیشلائزڈ ٹریٹمنٹ پرفیکشن کے ساتھ مریض کو ملنا چاہئے ہمارے سرکاری ہسپتالوں میں اس طرح کی پوسٹنگ بھی نہیں ہیں اور سیٹس بھی نہیں ہیں۔ جنرل آرتھو پیڈکس کی ہیں۔ پہلے تو اس کی فیلو شپ اس کی پوسٹ گریجویٹس اس کے ٹریننگ پروگرامز وہ گورنمنٹ کی سطح پر اور ڈگری ایوارڈنگ انسٹی ٹیویشن ہیں ان کو شروع کرنے چاہئیں اور ان کی سیٹس نکالنی چاہئیں تاکہ پاکستانی مریضوں کو بھی دنیا کے معیار کے مطابق آرتھو پیڈک کی سہولتیں میسر ہو سکیں۔

س: جناح ہسپتال میں اس حوالے سے کیا اقدامات کئے جارہے ہیں؟

ج: جناح ہسپتال کے شعبہ آرتھوپیڈک میں چار جدید ترین آپریشن تھیٹر تعمیر کئے جائیں گے اس پرا جیکٹ کے لئے میں نے گورنمنٹ سے 137ملین منظور کرائے ہیں اور اگلے کچھ عرصے میں یہ پراجیکٹ مکمل کر لیا جائے گا، آپریشن تھیٹرز کا معیار یو کے اور ایس اے سے کسی طور کم نہیں ہوگا ، اور میں یہ بات دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ ایسے جدید ترین آپریشن تھیٹر آپ کو لاہور کے کسی پرائیویٹ ہسپتال میں بھی نہیں ملیں گے۔

س: آرتھرائٹس کیا مرض ہے؟

ج:اسے میڈیسن کی زبان میں آرتھرائٹس (arthritis) جبکہ عرف عام میں ’’جوڑوں کا درد‘‘ کہتے ہیں۔

ہر جوڑ دو ہڈیوں سے مل کر بنتا ہے جن کے درمیان ایک جھلی نما چیزہوتی ہے جسے نرم یا کرکری ہڈی(cartilage) کہتے ہیں۔ اس میں سے قدرتی طور پر رطوبت نکلتی ہے جس سے جوڑ چکنا ہوجاتا اور باآسانی حرکت کرتا ہے۔ اگر اس ہڈی کو نقصان پہنچے تو رطوبت کا اخراج بھی متاثر ہوتا ہے جس کی وجہ سے جوڑ ٹھیک طرح سے حرکت نہیں کرپاتا۔اس کے علاوہ جوڑوں میں سوزش(inflammation) بھی ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے وہ سوج جاتے ہیں۔ اس کیفیت کو آرتھرائٹس (arthritis)کہتے ہیں۔

پاکستان میں اس بیماری کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں تقریباً14ملین افراداس کا شکار ہیں۔ ان میں سے نصف کی عمریں 60سے 65سال کے درمیان ہیں۔

س: اس مرض کے اسباب اور وجوہات کیا ہیں؟

ایسا عمر میں اضافے ، ان سے لاپرواہی ‘ ان کے غلط استعمال یا کسی بیماری کی وجہ سے ہوتا ہے :

کھلاڑی حضرات یا ان لوگوں میں اس کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں جو زیادہ گرتے پڑتے ہیں۔جوانی میں جولوگ ’ویٹ لفٹنگ‘ کرتے ہیں، انہیں بھی بعد میں یہ درد زیادہ ہوتا ہے۔موٹاپا بھی اس کا ایک بڑا سبب ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فرد کا اضافی بوجھ جوڑوں کوہی اٹھانا پڑتاہے جس سے انہیں نقصان پہنچتا ہے۔اس کا تعلق جوڑوں کے درد کی مخصوص قسم سے ہے۔ اس کی بہت سی اقسام ہیں جن میں سے پہلی اور سب سے عام قسم کا درد وہ ہے جس کا تعلق بڑھتی عمر کے ساتھ ہے۔ یہ ریڑھ کی ہڈی میں خرابی کے ساتھ ساتھ قریب کی دیگر ہڈیوں بالعموم کولہے ، گھٹنے اور انگوٹھوں کے جوڑوں میں بھی درد کا باعث بنتاہے۔مرض کی اس قسم میں گھٹنوں، ایڑی ،کولہے اورکندھے وغیرہ جیسے بڑے جوڑ متاثر ہوتے ہیں۔اسے جوڑوں کا پرانا درد (osteoarthritis) کہا جاتا ہے۔

دوسری قسم کاجوڑوں کا درد وہ ہے جو زیادہ تر نوجوانی میں ہوتا ہے۔اس میں ہاتھوں اورپاؤں کی انگلیوں اور کلائیوں وغیرہ کے چھوٹے جوڑ شامل ہیں۔یہ روماٹائیڈ آرتھرائٹس (rheumatoid arthritis) کہلاتا ہے۔

تیسری قسم وہ ہے جس میں ہڈیاں بھربھری ہوجاتی ہیں اور جلد ٹوٹ جاتی ہیں۔اس مرض میں مبتلا افراد کو فریکچر ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ یہ مرض خواتین میں زیادہ ہے‘ خصوصاً ان خواتین میں جو زیادہ دفعہ حمل کے تجربے سے گزری ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی ہڈیوں میں سے کیلشیم زیادہ نکل جاتا ہے جس سے اس کی کمی ہو جاتی ہے۔ اسے ہڈیوں کا بھربھرا پن(osteoporosis) کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ آسٹیو آرتھرائٹس سے مختلف بیماری ہے۔

ہمارے ہاں لوگوں کی بڑی تعداد امراض کو اس وقت تک ٹالتی رہتی ہے جب تک باقاعدہ علاج کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہے۔ اس کی بڑی وجوہات مہنگائی، اکثریت کی کمزور قوت خرید، ترجیحات میں صحت کا مقام بہت نیچے ہونااور تعلیم کی کمی ہیں۔جب علاج کی نوبت آتی ہے تو آغاز ٹوٹکوں وغیرہ سے ہوتا ہے جس کے بعد مستند ڈاکٹرتک رسائی کی باری آتی ہے۔جہاں پرائمری ہیلتھ کئیر کا نظام پختہ اور فعال ہو، وہاں مریضوں کو یہ پریشانی نہیں ہوتی کہ انہیں کس ڈاکٹر کے پاس جانا ہے۔ پاکستان میں یہ نظام چونکہ بری طرح متاثرہے، اس لئے لوگوں کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ بیماری کی صورت میں کس ڈاکٹر کے پاس رجوع کیا جائے۔

س:جوڑوں کے درد سے متعلق کتنے شعبے ہیں؟

ج:جوڑوں کے درد سے متعلق دو شعبے ہیں۔ ان میں سے پہلا جوڑوں کے امراض (rheumatology) اور دوسرا شعبہ امراض ہڈی و جوڑ (orthopedics)ہے۔

ابتدائی طور پر مریض کو’روماٹالوجسٹ‘ کے پاس ہی جانا چاہئے۔ وہی اس بات کا اندازہ لگائے گا کہ جوڑوں کا درد کس قسم کا اور کس مرحلے پر ہے۔ اگردواؤں، ورزش یا فزیو تھیراپی سے آرام نہ آ رہا ہو تو پھراس کا حل یہ ہے کہ متاثرہ جوڑ کو نکال کر مصنوعی جوڑ لگا دیا جائے۔ اس سے متعلق تمام امور کے لئے ماہر امراض ہڈی و جوڑ (آرتھو پیڈک سرجن )کے پاس جانا چاہئے۔

س: اس کی تشخیص اور علاج کیونکر ممکن ہے؟

ج: تشخیص کے لئے سب سے اہم پہلو مریض کی ہسٹری ہے۔ ان کے مطابق جب کوئی مریض ڈاکٹر کے پاس آکر بتاتا ہے کہ اسے جوڑوں میں درد ہے تولامحالہ اس سے پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ اسے کن جوڑوں میں دردہے؟ مثلاً وہ بتاتا ہے کہ اس کے گھٹنوں میں دردہے۔ معالج اس کی عمر کو دیکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ وہ موٹا ہے یا پتلا، مرد ہے یا عورت اورماضی میں اس کی وہ سرگرمیاں کیا رہی ہیں جن کا تعلق جوڑوں کے درد سے ہو سکتا ہے۔اگر وہ نوجوان آدمی ہے اور اس کی کلائی یا انگلیوں میں درد ہے تو اسے ’روماٹائڈ آرتھرائٹس ‘ہوگااورمریض اگربڑی عمر کا ہوتو اس میں ’آسٹیوآرتھرائٹس‘ کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔پھر معالج اس کے دونوں گھٹنوں کا معائنہ کرے گا جس کے بعد اس کے خون کا ٹیسٹ ہوگا جس میں ’سی بی سی‘ اور’ ای ایس آر‘ دیکھا جائے گا۔آسٹیو آرتھرائٹس میں ’ای ایس آر‘ بڑھا ہوا ہوگا۔ اگر مریض کے ایک گھٹنے میں درد ہو تو بھی دونوں گھٹنوں کا ایکسرے کروایا جائے گاتاکہ دونوں کا تقابلی جائزہ لیا جا سکے۔ اس میں یہ دیکھا جائے گاکہ دونوں جوڑوں کے درمیان کہیں خالی جگہ تو کم نہیں ہو گئی۔’’ آسٹیو آرتھرائٹس ‘‘کا تعلق چونکہ عمر میں اضافے کے ساتھ ہے لہٰذا کرکری ہڈی کو پہنچنے والے نقصان کو پلٹانا ممکن نہیں ہوتا۔کچھ ادویہ ساز کمپنیاں ایسا کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ابھی تک یہ بات ثابت شدہ نہیں ہے۔

س: ایسے مریضوں کے لئے کیا علاج تجویز کرتے ہیں ؟

ج: ایسے میں مریض کو این ایس اے آئی ڈیNonsteroidal Anti-Inflammatory Drugs (NSAIDs) نامی ادویات دی جاتی ہیں ، کچھ ورزشیں بتائی جاتی ہیں اور مرض کی شدت کے مطابق دیگر دوائیں تجویز کی جاتی ہیں۔ان کاوشوں سے مرض کنٹرول میں آ جاتا ہے لیکن وہ ختم نہیں ہوتا۔ایسے میں ڈاکٹر کا ہدف یہ ہوتا ہے کہ جو نقصان ہو گیا، اسے وہیں روک دیا جائے اوراسے مزید نہ بگڑنے دیا جائے۔ اس کے علاوہ بعض اوقات گھٹنے میں ایک انجکشن لگایا جاتاہے جواسے چکنا کر دیتا ہے۔یہ ایسے ہی ہے جیسے مشین میں اوپر سے تیل ڈال دیا جائے۔اس طرح چھ سے آٹھ ماہ یا سال بھرکے لئے مسئلہ حل ہوجاتاہے۔

س: جوڑکی تبدیلی کب ضروری ہو جاتی ہے؟

ج: جب کسی بیماری کے سبب جوڑ کی دونوں سطحیں گھِس جائیں‘ ان میں ایسادرد ہو جوکسی صورت ختم ہونے میں نہ آ رہاہو‘ اس کی وجہ سے اس کی زندگی کی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہوں یعنی وہ نہ تو ٹھیک طرح سے نماز پڑھ سکتاہواور نہ آسانی سے واش روم تک جاسکتا ہو اور علاج کے لئے دواؤں اور فزیو تھیراپسٹ کی مدد سے ورزش کا سہارا بھی لیا گیا ہو لیکن بات نہ بنی ہو توپھر بالآخر جوڑ کو تبدیل کرنا پڑتا ہے۔اس سلسلے میں تازہ ترین رجحان یہ ہے کہ اس کی جگہ مصنوعی جوڑ لگا دیا جائے، مصنوعی گھٹنے پلاسٹک سٹیل ۔۔۔۔۔۔ انتھلین کے بھی ہوتے ہیں ہر جوڑ کے دو حصے ہوتے ہیں ایک جوڑ پولی انتھلین کا اور دوسرا سٹیل کا لگاتے ہیں اس سے جب گھٹنے رگڑر کھاتے ہیں تو وہ جلدی گھستے نہیں ہیں۔ مصنوعی گھٹنے بڑھاپے میں ہی لگتے ہیں اس میں چلنا پھرنا بھی کم ہوتا ہے۔ ایک مصنوعی گھٹنے کی عمر پندرہ سے بیس سال تک ہوتی ہے۔ گھٹنے اور کولہے کے جوڑوں کی تبدیلی کی شرح زیادہ ہے۔کندھے اور کہنی کو بھی تبدیل کیا جاتا ہے لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے۔

جناح ہسپتال کے شعبہ آرتھوپیڈک میں گھٹنے اور کولہے کے جوڑ مفت تبدیل کئے جاتے ہیں، تاکہ غریب اور مستحق مریضوں کا علاج ہو سکے، اس سلسلے میں مخیر حضرات، این جی اوز اور حکومت ہماری مالی مدد کرتی ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے پوری ایمانداری کے ساتھ مریضوں کا علاج کرتے ہیں ۔ ہم ٹیڑے پاؤں ،ریڑھ کی ہڈی کے آپریشن ،جوڑوں کی تبدیلی سمیت پیدائشی ٹیڑھے پن کے کامیاب علاج کرتے ہیں۔

س:اوسٹیوسرکوما کیا مرض ہے؟

ج: زیادہ تر بچوں اور نوجوانوں کو لاحق ہونے والا یہ مرض دراصل کینسر کی ایک قسم ہے۔ اس بیماری میں زیادہ تر کولہے، گھٹنے اور کہنیوں کی ہڈیاں متاثر ہوتی ہیں۔ اسے ہڈیوں کا ٹیومر بھی کہتے ہیں۔ تاہم یہ کینسر کی دنیا بھر میں عام اور مہلک اقسام سے مختلف ہے۔ اوسٹیوسرکوما کو کسی حد تک خطرناک کہا جاسکتا ہے، کیونکہ یہ بیماری شدید نوعیت کی خرابیاں پیدا کرسکتی ہے اور جسم پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

س: کیا اس مرض کا علاج موجود ہے؟

ج:اوسٹیوسرکوما پر طبی ماہرین کی تحقیق کا سلسلہ جاری ہے۔ اس مرض کے لاحق ہونے کی دیگر وجوہ اور علامات کے ساتھ موثر علاج کے لیے محققین کام کررہے ہیں۔ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کینسر کے ایسے سیل جن سے ٹیومر بنتا اور بڑھتا ہے وہ کہاں اور کیسے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ بات یاد رہے کہ ریڈیو تھراپی کرانا بھی اس ٹیومر کا سبب بن سکتا ہے۔ تاہم ریڈیو تھراپی ناگزیر ہو تو اس میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے اور ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کرنا چاہیے۔

س: پیدائشی طور پر بچوں کے پیروں ، ہاتھوں کا ٹیڑھا پن قابلِ علاج ہے؟

ج: پیدائشی طور پر بچوں کے پیروں اور ہاتھوں کا ٹیڑھا پن ایک قابل علاج بیماری ہے۔پاکستان میں سالانہ 8 ہزار بچے کلب فٹ ڈس ایبلیٹی کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ کلب فٹ ڈس ایبلیٹی ایک ایسی بیماری ہے جس میں بچوں کے پیر پیدائشی ٹیڑھے ہوتے ہیں۔ بچوں کے پاؤں کے جوڑوں میں ٹیڑھا پن ہوتا ہے جس میں تکلیف نہیں ہوتی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ ٹیڑھا پن بے آرامی کا باعث بنتا ہے اور نمایاں معذوری میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہ از خود ٹھیک نہیں ہوتا اگر علاج نہ کرایا جائے تو ٹانگ کی ہیئت تبدیل ہوتی ہے اور اکثر و بیشتر ٹانگ چھوٹی رہ جاتی ہے۔ والدین عموماً اس بیماری پر توجہ نہیں دیتے نہ علاج کراتے ہیں نتیجتاً بچہ پوری زندگی معذوری میں گزارتا ہے۔ چند سال قبل تک پاکستان میں اس بیماری کا علاج آپریشن کے ذریعے کیا جاتا تھا تاہم اب اس کا علاج آپریشن کے بغیر بھی ممکن ہے۔ اس کا آسان اور جدید علاج ایک مخصوص بینڈیج سے کیا جاتا ہے بچے کے پاؤں پر مسلسل مخصوص طریقے سے بینڈیج کی جاتی ہے جس سے پاؤں کی ہڈی رفتہ رفتہ سیدھی ہو جاتی ہے اور بچہ بغیر معذوری کے اپنی زندگی گزارتا ہے۔پاکستان میں ہر سال 8 ہزار ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں جن کے پاؤں پیدائشی ٹیڑھے ہوتے ہیں۔ ہر آٹھ سو میں سے ایک بچہ اس میں مبتلا ہوتا ہے۔ 50 فی صد بچوں کے دونوں پیر جبکہ 50 فی صد کا ایک پیر ٹیڑھا ہوتا ہے۔ بچوں کے پیر اندر کی جانب مڑے ہوتے ہیں اور بہت زیادہ ٹیڑھے ہوتے ہیں۔ یہ نقص اتنا نمایاں ہوتا ہے کہ پیدائش کے وقت ہی پتہ چل جاتا ہے اور جب بڑا ہوتا ہے تو سیدھے پیروں کی بجائے سائیڈ (ایک جانب) پر بوجھ ڈال کر چلتا ہے۔ اس کا علاج 8 سال کی عمر تک ممکن ہے لیکن بہتر ہے کہ پیدائش کے ایک ہفتے بعد ہی علاج شروع کر دیا جائے۔ اس کا علاج پلاسٹر آف پیرس سے کیے جانے والے مخصوص طریقے کے بینڈیج (پلستر) سے ہوتا ہے۔ بچے کے کم از کم 5 اور زیادہ سے زیادہ 60بینڈیجز (پلستر) کیے جاتے ہیں۔ جس کے بعد 3 ماہ تک دن میں بچے کو مخصوص جوتے پہنائے جاتے ہیں جبکہ 3 سال تک راتوں کو مسلسل مخصوص جوتے پہنائے جاتے ہیں جس سے بچے کے پیر بالکل سیدھے ہو جاتے ہیں۔ یہ 98 فی صد کامیاب طریقہ علاج ہے۔

ایسے بچوں کو بے دھیانی میں اٹھانے سے بھی ان کی ہڈیاں ٹوٹ جاتی ہے اس لئے ایسے بچوں کا خصوصی خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔دنیا بھر میں ہڈیوں کے ٹیڑھے پن کی بیماری میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔موجودہ حا لات اس امر کے متقاضی ہیں کہ ہم اس بیماری کی بابت عوامی شعوری بیداری کی غرض سے اپنا بھرپور اور فعال کردار ادا کریں۔

میڈیکل سائنس بڑی تیزی سے ترقی کررہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ طب کے میدان میں آئے روز بڑی تبدیلیاں اور نئی نئی اختراعات سامنے آرہی ہیں۔لہٰذا ضروری ہے کہ دنیا بھر میں شعبہ طب میں متعارف ہونے والی علاج معالجے کی نئی تکنیکوں پر پوری نظر رکھی جائے اور انہیں اپنانے میں دیر نہ کی جائے۔ پیدائشی ٹیڑھے پاؤں سے پیدا ہونے والے بچوں کو 28 ماہ کی عمر تک ہسپتال لایا جائے تو سوفیصد صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ والدین سے کہوں گا کہ وہ عطائی یا جراحی کے پاس نومولود کو ہرگز نہ لے جائیں۔سرکاری ہسپتال میں علاج معالجہ کی مفت سہولیات سے استفادہ کریں۔

س: ہڈی جوڑ کے لیے آج بھی پہلوان ہسپتال موجود ہیں؟

ج: شائد اس کی وجہ سستا علاج ہے بہت سوں کا خیال ہے کہ مالش کرانے سے مرض جلد ٹھیک ہو جاتا ہے ہمارے یہاں اکثر ایسے مریض بھی آئے ہیں جن کے کیسز پہلوانوں نے خراب کر دئے تھے۔لات مارنا‘ چھڑی مارنا اور اس طرح کی سرگرمیوں سے مہروں کے علاج کا دعویٰ کیا جا رہا ہے اب اس (طریق علاج) میں کینسر بھی شامل ہو گیا ہے‘ یہ یقین کی بات ہے جن افراد کا یقین ضعیف اور کمزور ہے انہوں نے تو اس آسان طریقے کو آزمانا ہے۔

***

مزید :

ایڈیشن 1 -