شوبز راؤنڈاپ

شوبز راؤنڈاپ

ایک سال میں تیسری بار پھر عمرہ کی سعادت حاصل کرلی،ماہ نور

فلم،ٹی وی اور سٹیج کی معروف اداکارہ ،ماڈل اور پرفارمر ماہ نور نے حجاز مقدس سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے اور میری والدہ نے ایک سال میں تیسری بار پھر عمرہ کی سعادت حاصل کرلی ہے اس پر اپنے رب کا جتنا شکر ادا کریں وہ کم ہے۔ اور 16رمضان کو ہماری وطن واپسی ہوگی ۔میں نے اپنے وطن کی سلامتی ،عزیز و اقارب اور دوستوں کے لئے خصوصی دعائیں مانگی ہیں۔رمضان المبارک نیکیاں کمانے کا مہینہ ہے اور جس شخص نے بھی رمضان کے دوران روزے رکھے اور اپنے خدا کی خوشنودی کے لئے نیک اعمال کئے اس کے لئے آخر ت میں بڑا اجر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے مسلسل محنت سے شوبز کی دنیا میں اپنا نام اور مقام بنایا ہے مگر بعض لوگ میری شہرت سے خائف ہیں ،میں ایسے لوگوں کے لئے دعا کرتی ہوں کہ خدا ان کو نیکی کی ہدایت دے ،ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ عزت اور ذلت خدا کے اختیار میں ہے ۔ ماہ نور نے کہا کہ میں نے رمضان المبار ک کے بابرکت ماہ میں خود ہی سٹیج ڈراموں سے کنارہ کشی اختیار کر رکھی ہے ، اس ماہ میں صرف میں اپنے خد ا کو راضی کرنے کے لئے ہر وہ اچھا عمل کرنے کی کوشش کرتی ہوں جس سے مجھے دلی تسکین ملے ۔

مہنگائی کے ہاتھوں فنکار پریشان ،افطاری دینے کا سلسلہ بند

اداکارو رائٹر افتخار افی کے علاوہ کسی فنکار نے افطاری نہیں دی

عام آدمی کی طرح مہنگائی کے ہاتھوں فنکار بھی پریشان ہیں گزشتہ سالوں کی طرح اس برس کئی فنکار دوست احباب کے لئے افطاری کا اہتمام نہیں کریں گے۔رمضان المبارک کے آغاز سے لے کر اب تک ما سوائے اداکارو رائٹر افتخار افی کے علاوہ کسی فنکار نے افطاری نہیں دی۔ان کے افطار ڈنر میں شوبز کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔فنکاروں کا کہنا ہے کہ ہم اپنی ضروریات زندگی کوپورا کریں یا پھر افطاری کروائیں ۔افتخار افی اپنے گھر برسوں سے عزیز و اقارب،ساتھی فنکاروں اور دوستوں کے لئے افطار ڈنر کا اہتمام کررہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ سب ثواب کے ساتھ ساتھ مل بیٹھنے کا ایک بہانہ بھی ہے۔پورا سال جو دوست اپنی مصروفیات کی وجہ سے مل نہیں پاتے وہ میری افطاری میں اکٹھے ہوجاتے ہیں ۔افتخار افی نے کہا کہ میں جب تک زندہ ہوں یہ سلسلہ جاری رہے گا۔یاد رہے کہ ایک زمانے میں پہلے سے آخری روزہ تک فنکاروں کی جانب سے روزانہ افطاری کا اہتمام کیا جاتا تھا۔

جرمنی میں مقیم پاکستانی مستحق افرادکو فنڈ بھجوائیں گے،یار محمد شمسی

پروڈیوسر و پروموٹر یار محمد شمسی نے فون پر گفتگو کرتے ہوئے ’’پاکستان‘‘کو بتایا کہ جرمنی میں مقیم پاکستانی رمضان المبارک میں مستحق لوگوں کی مدد کیلئے فنڈ بھجوائیں گے۔اس سلسلے میں محب وطن بڑھ چڑھ کر حصّہ لے رہے ہیں یار محمد شمسی نے کہا کہ ہمارے دل اپنے ملک کے لئے دھڑکتے ہیں۔غربت کی وجہ سے اب تک پاکستان میں ناقابل تلافی نقصان ہوچکا ہے جرمنی میں مجھ سمیت ہر پاکستانی کی دعا ہے کہ ملک میں غربت کا جلد از جلد خاتمہ ہو ۔ایک سوال کے جواب میں یار محمد شمسی نے کہا کہ میں بہت جلد پاکستان آرہا ہوں جہاں پر اپنے نئے پراجیکٹس کے حوالے سے میڈیا کو بریف کروں گا میں جو بھی نیا کام کرتا ہوں اس کا آغاز اپنے ملک سے کرتا ہوں۔

ہم لوگ ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں فن اور فنکار کی کوئی قدر نہیں،سہراب افگن

سینئر اداکار اور ڈائریکٹر سہراب افگن نے کہا ہے کہ تھیٹر فنکاروں میں سے کامیڈی کنگ امان اللہ میرے پسندیدہ فنکار ہیں ان جیسے فنکار صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں مگر افسوس ہم لوگ ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں فن اور فنکار کی کوئی قدر نہیں ہے ۔سہراب افگن نے کہا کہ جب معاشرے میں فنکاروں کی عزت نہیں کی جائیگی تو ملک سے فن ختم ہوتا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ میں حادثاتی طور پراداکارنہیں بنا ہو ں میں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ شوبز جوائن کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ نظام نے عوام کو غربت اور افلاس کے سوا کچھ بھی نہیں دیا احتجاج سب کا حق ہے دونوں سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کے ذریعے سے تمام مسائل کا حل نکالنا ہوگا ۔ایک سوال کے جواب میں سہراب افگن کا کہنا تھا کہ بھارتی فنکار پاکستانی فنکاروں کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔

۔ نئے گانے والوں نے موسیقی کا بیڑہ غرق کر دیا،شاہدہ منی

میلوڈی کوئین گلوکارہ شاہدہ منی نے کہا ہے کہ نئے گانے والوں نے موسیقی کا بیڑہ غرق کر دیا ہے‘ اب ہر کوئی کمپیوٹر پر گانے تیار کر کے گلوکار بن رہا ہے۔ شاہدہ منی نے کہا کہ اب موسیقی رہی ہی نہیں ہے کیونکہ نہ تو کوئی گانے والے گلوکار ہیں اور نہ ہی موسیقی سننے والے ہیں‘ آج کل موسیقی کا کسی کو علم نہیں اور جن کو الف ب نہیں آتی وہ بھی گلوکار بنے ہوئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا

کہنا تھا کہ نئے گلوکاروں میں کوئی بھی ایسا گلوکار نہیں جو مستقبل میں موسیقی کا نام روشن کر سکے سب ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر کام کر رہے ہیں۔

فلم انڈسٹری کو جدید مشینری کی ضرورت ہے ،سید نور

ہدایت کار سید نور نے کہا ہے کہ فلم انڈسٹری کو جدید مشینری کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارے ہاں معیاری فلمیں تبی بنیں گی جب یہاں پر پروڈکشن ہو گی اور اس پروڈکشن کیلئے معیار کا ہونا ضروری ہے جو جدید مشینری کے بغیر ممکن نہیں۔ سید نور نے کہا کہ ہمارے فلم ساز اور ہدایت کار آج بھی چالیس سال پرانے کیمروں پر فلم کی عکسبندی کرتے ہیں اور یہاں پر لیب نام کی کوئی چیز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ فلم انڈسٹری کی بہتری کیلئے جدید کیمروں سمیت دیگر سہولتیں فراہم کرے تاکہ فلم انڈسٹری کو بحال کیا جا سکے۔میری نئی فلم ’’چین آئے نا ‘‘پرستاروں کو ضرور پسند آئے گی۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...