جنرل ہسپتال ،سر کھولے بغیر دماغ کی رسولی کے آپریشن کا آغاز

جنرل ہسپتال ،سر کھولے بغیر دماغ کی رسولی کے آپریشن کا آغاز

لاہور(جنرل رپورٹر) جنرل ہسپتال شعبہ نیوروسرجری یونٹ IIکے سربراہ اور معروف نیور و سرجن پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود نے کہا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار لاہور جنرل ہسپتال میں آنکھ کے بالائی حصے ابرو کے ذریعے بغیر سر کھولے دماغ کی رسولی کے آپریشن کا آغاز ہو گیاہے اور اب تک 6 کامیاب آپریشن کئے جا چکے ہیں۔ علاوہ ازیں سینکڑوں مریضوں کے دماغ کی رسولی کے آپریشن بذریعہ اینڈو سکوپی ناک کے ذریعے بھی کامیابی سے کئے جا رہے ہیں۔جدید طریقہ آپریشن کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اس طریقہ آپریشن میں ابرو کے درمیان بالوں کے اندر چیرا لگا کر ماتھے کی ہڈی کا چھوٹا ٹکڑا نکال کر دماغ کی رسولی کو کامیابی سے نکالا جاتا ہے ۔ بعد ازاں آپریشن کے زخم کا نشان بالوں کے اندر چھپ جاتا ہے اور مریض کے سر پر کوئی نشان موجود نہیں رہتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے’’ورلڈ ٹیومر ڈے‘‘ کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ برین ٹیومر کی تشخیص اور علاج معالجہ کے حوالے سے امریکہ اور برطانیہ میں ہونے والی جدید طرز کی سرجری میں پاکستان کسی طور پر بھی پیچھے نہیں رہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ دماغ میں 100مختلف اقسام کی رسولیاں پائی جاتی ہیں۔ جن میں سے چند ایک ہی کینسر کی شکل اختیار کرتی ہیں۔دماغ کی رسولی کی علامات میں سر کا درد، الٹی ہونا، فالج ، لقوہ، مرگی کے جھٹکے، بے ہوش ہو جانا و غیرہ شامل ہیں۔ ایسی صورت میں مستند معالج سے راہنمائی حاصل کرنی چاہئے۔پروفیسر خالد محمود نے کہا کہ ملک میں نیورو سرجنز کی شدید کمی ہے جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ بیس سے بائیس کروڑ کی آبادی پر مشتمل پورے ملک میں محض 225نیورو سرجنزدستیاب ہیں۔صحت کے شعبے کے لئے حکومتی پا لیسیاں قابل تحسین ہیں تاہم ملکی آبادی کے لئے کم سے کم 1000نیوروسرجنز کا ہونا ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کے تما م بڑے ہسپتالوں میں نیورو سرجری کی تمام سہولیات موجود ہیں۔خواتین اور مردوں میں اس مرض کی شرح یکساں ہوتی ہے مگر جن بچوں کی ریڈی ایشن ہوتی ہے ان میں مرض کے خطرات زیادہ ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں دماغی امراض کے علاج معالجے میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسزکا قیام ایک اہم پیش رفت ہے۔ معروف نیوروسرجن نے واضح کیا کہ دماغی امراض بالخصوص دماغی رسولیوں کے شکار افراد کو تحصیل اور ضلع کی سطح پر موجود ہسپتالوں سے ریفر ہو کر آنا چاہئے۔ اور ایسا صرف اسی وقت ممکن ہو گا جب وہاں پر تجربہ کار اور ماہر نیوروسرجن موجود ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دماغ کی رسولی کا علاج اسی وقت ممکن ہے جب مریض بر وقت مستند اور تجربہ کارمعالج سے رابطہ کرے اور اس کی تشخیص ہو ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1