ڈونلڈ دی ٹرمپیاں

ڈونلڈ دی ٹرمپیاں
ڈونلڈ دی ٹرمپیاں

  


بھائیو تے بہنوں پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی۔ خیر آپ کو خبر ہو بھی جائے تو آپ کیا کر سکتے ہو؟ آپ کونسا ایک اُمت ہو جو آنے والے طوفان کو روک پاؤ گے۔ آپ تو بس شیعہ ہو، سنی ہو، دیوبندی ہو یا وہابی ہو، اور ہاں !آئندہ عالم اسلام کہنے سے پہلے سوچ لیجئے گا کہ کونسا عالم اسلام سعودی عرب والا یا ایران قطر والا ہے۔ اسرائیل کا وہ خواب جو کبھی پورا نہیں ہوا تھا۔ ڈونلڈ کی ٹرمپیوں نے پورا کر دیا ہم تو کب سے کہہ رہے ہیں بسنتی ان کتوں کے سامنے نہ ناچنا لیکن ہم کیا کریں بسنتی ناچتی بھی ہے اور اربوں کھربوں کی ’’ویلیں‘‘ بھی اپنے تماشبین کو پیش کرتی ہے۔ قطر کے ساتھ جو ہونے جا رہا ہے اس فلم کا ابھی ٹریلر آیا ہے پکچر تو ابھی باقی ہے میرے دوست۔ قطر کو ایران سے خفیہ رومانس کی سزا ملے گی۔

داستانیں ہیں لب عالم پر

ہم تو چپ چاپ گئے تھے ملنے

چپ چاپ ملاقاتوں نے الجزیرہ ٹی وی سے لے کر قطر ایئر ویز تک بھٹہ بٹھا دیا۔ معاملہ بہت آگے تک جائے گا۔ عالم اسلام کا خون پہلے ہی بہت ارزاں تھا مزید ہوگا۔ سنی تیل ہو یا شیعہ تیل دونوں کے الگ الگ ریٹ لگیں گے۔ مصر ٹھس ہوا پھر لیبیا پھس ہوا۔ شام ٹھاہ ہوا پھر عراق ٹھوں ٹھوں ہوا۔ افغانستان اور پاکستان میں گرنے والے لاشے تو خیر کسی گنتی میں نہیں۔ امریکہ نے آج تک اپنا تیل استعمال نہیں کیا اس نے وہ محفوظ رکھا ہے۔ اب خلیج میں سارا تیل اسکا ہے۔ مصر سے لے کر عراق تک، دیکھا نہیں ڈونلڈ کی آمد پر پورا خطہ ’’ماہی آوے گا میں پھلاں نال دھرتی سجاواں گی‘‘ گا رہا تھا۔

قیادت کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ پورے وفد کو چوم چوم کر اپنے سر ماتھے پر بٹھاتے۔ ٹرمپ ہمارے پاس آیا تو کھربوں روپے کے تحفے لے گیا اور جاتے جاتے کھربوں ڈالر کے شرلی پٹاخے بیچ گیا۔ یہ شرلی پٹاخے کس پر چلنے ہیں یہ آپ آنے والے دنوں میں دیکھ لیں گے۔ ہمارے پاس وہ اسلحہ کی شکل میں موت بیچ کر جب پاپ صاحب کے پاس پہنچا تو ماحولیات اور امن پر معاہدے و گفتگو کر کے آگے نکل گیا۔ اندازہ کر لیں ہم امن کے پیامبر کہاں کھڑے ہیں کیا کر رہے ہیں اور مخالف کیا۔

ایران میں جو کچھ ہوا وہ تو بس آنے والے دنوں کی ایک جھلک ہے ۔وہ آگ جو نائن الیون کو روشن ہوئی تھی، کتنے مسلم گھروں کو جلائے گی، وہ گنتی میں ممکن نہیں۔ہلاکو خان تو یوں ہی بدنام ہے آج کھوپڑیوں کا مینار بنے تو ایفل ٹاور سے بلند ہوگا لیکن ڈیزی کٹروں ،کروز میزائلوں، غیر ایٹمی میزائلوں نے سر سلامت ہی نہیں رہنے دینے تو مینار کیسے بنے گا یہ جسم پگھلا دیتے ہیں، امام خمینی کی برسی کے اگلے روز ان کے مزار پر خودکش حملہ اس بات کی علامت ہے کہ ایران کو ٹف ٹائم ملنے والا ہے۔ چلو جی عالم اسلام ہے ہی اس قابل دھڑلے سے بندے مارو شام میں مارو فلسطین میں مارو، کشمیر میں مارو اب ایران میں آگ لگاؤ، جیسا جی مائی لارڈ ٹرمپ جی جو دل چاہے کرو آپ ٹھیک کہتے ہو۔یہ تہذیبوں کا تصادم نہیں اور نہ ہی کرو سیڈہے یہ تو اب شیعہ سنی کی جنگ ہے، مارنے والا اللہ اکبر کہے گا مرنے والا بھی۔

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

کیا بات ہے جناب آپ کی۔ آپ نے تو پوری دنیا کو ڈبلیو ڈبلیو ایف بنا دیا ہے۔ جس کی چاہیں عین رنگ میں ٹنڈ کر دیں۔ میرا ایک دوست ملا ،بہت چھوٹے بال دیکھ کر میں نے کہا یار اس بار بہت ٹائٹ کٹنگ کرائی ہے۔ کہنے لگا نہیں یار میں نے بالوں کی ٹریمنگ کرائی تھی۔ باربر ستر روپے میں بال کاٹتا ہے۔ میں نے سوروپے دیئے اس کے پاس تیس نہیں تھے میں نے کہا چلو تم تیس روپے کے اور بال کاٹ دو۔ تسی گریٹ او ٹرمپ جی پیسے بھی لئے جاؤ اور ہماری ٹنڈ بھی کئے جاؤ۔ عالم اسلام آپ کے سامنے ویسے ہی سر جھکائے کھڑا ہے۔ اس کی کیا مجال جو وہ سر اٹھائے۔ وہ جانتا ہے آپ سر اٹھانے والوں کو بھٹو، صدام، قذافی بنا دیتے ہو۔ عقلمند کو اشارہ کافی ہوتا ہے۔ مسلم قیادت اتنی سمجھ بوجھ رکھتی ہے کہ کب اور کتنا سر اٹھانا ہے۔ وہ تو باجماعت آپ کے سامنے گاتے پھر رہے ہیں۔

میرا سر جھکا ہے جھکا ہی رہے گا

لیکن اگر کوئی یہ سمجھے گا کہ وہ نقدی لگا کے دولت کا تھبو لگاکے جان بچا لے گا تو میرے سجنو تے مترو سنبھل جاؤ، گھبر اندر سے بہت خوفناک ہے وہ سفید عبا ہو یا کالا سب کو لالولال کر دے گا یعنی چن چن کر مارے گا۔ اور جو بچ جائیں گے وہ کان لپیٹ کرنیوے نیوے ہو کر نکل جائیں گے۔ ہنری کسنجر نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ہم دھونس دھاندلی یا طاقت سے کسی بھی طرح تیل پیدا کرنے والے ملکوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ سابق امریکی وزیر خارجہ کے مطابق امریکہ میں بش آئے یا اس کا ابا، اوباما آئے یا مسٹر ٹرمپ، خلیج کے تیل پر قبضے کی پالیسی جاری رہے گی۔ بس بھیا او آئی سی ہو یا پینتیس ممالک کا اتحاد ،سب کبوتروں کا غول ہے جو سونے کے چمچوں اور ہیرے کی پلیٹوں میں اپنا پتھر جیسا معدہ بھر رہا ہے۔ آخر میں رہا پاکستان تو بھائی میرے! ہمیں امریکہ ہو یا قطر، ایران ہو یا سعودی عرب سب ایک آنکھ سے دیکھتے ہیں۔یہ ہمارا کمال ہے کہ واحد نکتہ جس پر ایران، عراق عرب وعجم امریکہ سب متفق ہیں اور اتفاق یہ ہے کہ ہماری کوئی ویلیو نہیں۔ ہم سب اعلیٰ ترین لباسوں میں کشکول تھامے بھیک منگے ہیں۔عورت اپنے شوہر کی قبر پر روتی ہوئی بولی چھوٹا بیٹا نئے جوتے مانگ رہا ہے کیا کروں؟ بیٹی موبائل کی فرمائش کر رہی ہے کیا کروں؟ میرے اپنے کپڑے پرانے ہو گئے ہیں کیا کروں؟ قبر کے اندر سے گھٹی گھٹی آواز آئی، بیگم صاحبہ مَیں مر گیا ہوں سعودی عرب نہیں گیا ہوں۔خواہشات کے کشکول تھامے لوگ اتنے ہی اندھے ہو جاتے ہیں کہ انہیں یاد ہی نہیں رہتا کہاں کیامانگنا ہے کیا نہیں۔ جب قوموں کے سربراہ اپنی دو عملیوں کے سبب عزت کھو دیں تو ان کا اور قوموں کا وہی حال ہوتا ہے جو آج ہمارا ہو رہا ہے۔

مزید : کالم