ہائیکورٹ کے وکلا کو تاحیات کارڈ کے اجرا ء کی بجائے 5سال بعد تجدید کا فیصلہ

ہائیکورٹ کے وکلا کو تاحیات کارڈ کے اجرا ء کی بجائے 5سال بعد تجدید کا فیصلہ

  

لاہور(نامہ نگار) پنجاب بارکونسل نے لاہورہائیکورٹ کے وکلاء کووکالت کے کارڈ دینے کا 44سال پراناطریقہ کارتبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیاہے،عدالت عالیہ کے وکلا ء کوتاحیات کارڈ کے اجراء کی بجائے ہر5سال بعدکارڈ کی تجدید لازمی قراردی جائے گی۔ پنجاب بارکونسل کے 1973ء سے قیام سے لے کراب تک لاہورہائیکورٹ کے وکلاء کو تاحیات وکالت کارڈ جاری ہورہے تھے۔ وائس چیئرمین پنجاب بار ملک عنائت اللہ اعوان کی زیرصدارت جنرل ہاؤس میں بارممبران کی رائے کومدنظررکھتے ہوئے ہائیکورٹ کے وکلاء کو جاری کئے جانے والے کارڈ کی مدت 5سال کرنے کی منظوری دی گئی۔ فیصلہ کیاگیا کہ ہائیکورٹ میں پریکٹس کرنے والے تمام وکیل ہر5سال بعد اپنے وکالت کارڈ کی تجدید کروائیں گے تاکہ پنجاب بارکو ان کی اصل تعدادکے بارے میں آگاہی کے ساتھ ساتھ ان سے تعلق بھی مضبوط رہے۔ پنجاب بارکے اس تاریخ ساز فیصلے سے وکلاء کی اکثریت بھی خوش دکھائی دیتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس سے پروفیشنل وکلا کی اصل تعداد واضح ہوگی۔ پنجاب بار کے اس فیصلے سے بعض وکلاء راہنماوں کواختلاف ہے ،ان کا کہنا ہے کہ ہر5سال بعد وکالت کارڈ کی تجدید کروانے سے سینئر وکلاء کو پریشانی کاسامنا ہے، فیصلہ وقتی ہے اس پرعمل درآمد مشکل ہے۔ وکلاکے کارڈکی ہر5سال بعد تجدید سے نہ صرف گھوسٹ وکلا کاخاتمہ ہوگا، بلکہ تجدید فیس کی وصولی سے پنجاب بارکونسل کی آمدن میں بھی خاطرخواہ اضافہ ہوگا۔

مزید :

علاقائی -