نئی کنگز پارٹی ؟

نئی کنگز پارٹی ؟

  

سیاسی حلقوں میں اب یہ بحث زور پکڑتی جارہی ہے کہ پانامہ کیس کا انجام کیا ہو گا اور اس کے نتیجہ میں نیا سیاسی منظرنامہ کیا ہوگا۔ لیکن ایک بات ضرور ہے کہ پانامہ کیس ملکی سیاست پر انتہائی دوررس اثرات مرتب کرے گا۔ اس کے ہر دو پہلو اہمیت کے حامل ہیں۔ اگر ہم ایک مفروضے پر بات کرتے ہوئے یہ مان لیں کہ وزیراعظم نوازشریف اور ان کے صاحبزدگان اس کیس سے سرخرو ہوکر نکلتے ہیں تو اس کے اثرات آئندہ قومی انتخابات میں مسلم لیگ نون کی کامیابی کی صورت میں نکلیں گے اور یہ ایک ایسی کامیابی ہوگی جس کے بعد میاں نواز شریف کو پاکستان کا طیب اردوان بننے سے کوئی روک نہیں سکے گا۔ لیکن پاکستانی سیاست کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہاں ایسا سیاسی استحکام کبھی کسی سویلین کو نصیب نہیں ہوا۔ دس بارہ سال کا بلا شرکت غیرے اقتدارہمارے فوجی حکمرانوں کا ہی نصیب ٹھہرا ہے ، اور پھر اس میں نظام حکومت کی ناک کس طرف موڑنی ہے ، مذہبی حلقوں کو شریک اقتدار بناکر افغانستان کا جہادی کھیل کھیلنا ہے یا پھرصدر مملکت نے محفل موسیقی میں خود سر بکھیرتے اور جھومتے ہوئے دنیا میں اپنا اور ملک کا ایک روشن خیال امیج ابھارنے کے جتن کرنے ہیں یہ سب انہی کا خاصا ہے۔ اس لئے دل ماننے کو تیار نہیں کہ پاکستان میں کوئی سویلین ایوب خان ،ضیاالحق اور پرویز مشرف جیسا سیاسی استحکام حاصل کرلے، ا و ر اگر ایسا ہو جائے تو پھر یہ ذہن بھی بنا لیں کہ پاکستان میں اور بھی بہت سی انہونیاں ہوں گی ۔

اب دوسرا پہلو بھی ہے کہ اگر پانامہ کیس میں کوئی سیاسی حادثہ وقوع پذیر ہوتا ہے تواس کے نتیجہ میں کیا ہوگا۔ ا س امکان پر نظر رکھتے ہوئے تمام سیاسی پنڈت اپنے اپنے طور پر تیاریاں پکڑے بیٹھے ہیں، حکمران مسلم لیگ نون کے اندر اگرچہ کھلے عام کسی کی مجال تو نہیں تاہم کئی لوگ ممکنہ خلا کو پر کرنے کے لئے اپنی تصویرکو شیروانی کے ساتھ فوٹو شاپ کر کے دن میں کئی بار دیکھتے ہیں، شریف فیملی کے اندر بھی وہ نیٹ اینڈ کلین شریف جنکے نام پانامہ میں نہیں آئے وہ بھی اس سیاسی اثاثے کو آگے بڑھانے کی بھاری ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کے لئے اپنے ناتواں کندھوں کو ان دنوں مضبوط کر رہے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف بھی جمائمہ کی طرف سے بنی گالا کی منی ٹریل مل جانے کے باوجود سمجھتی ہے کہ ان کی قیادت یعنی عمران خان پر سے نااہلی کے بادل ابھی پوری طرح چھٹے نہیں جبکہ الیکشن کمیشن میں غیر ملکی فنڈنگ کا کیس بھی تحریک انصاف پر لٹکتی تلوار ہے۔ اور اگر ان کیسز میں دونوں قائدین یعنی میاں نوازشریف اور عمران خان سیاسی منظر سے ہٹا دئیے جاتے ہیں تو باقی بچتی ہے پیپلزپارٹی۔ دیکھنے کی بات ہے کہ یہ منظر نامہ تیار کرنے والوں کو آصف علی زرداری کتنے عزیز ہوں گے کہ انہیں وہ اس قدر فری ہینڈ دے دیں۔ تو پھرجیالے بھی خاطر جمع رکھیں اب کی بار اگلا کیس جو سامنے آئے گا اس سے ان کے محبوب قائد باہر نہیں ہوں گے۔ اس طرح یہ مفروضہ اس تھیوری کے بغیر مکمل نہیں ہوتا کہ ماضی کی تمام سیاسی قیادت کو مائنس کر دیا جائے گویا اس بار مائنس ون نہیں بلکہ مائنس تھری بلکہ اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے جبکہ ایم کیو ایم کے بانی کو ہماری فیصلہ ساز قوتیں پہلے ہی انتخابی سیاست سے آوٹ کر چکی ہیں۔ تو جب تینوں بڑی پارٹیوں کی ٹاپ لیڈرشپ کو سین سے نکال دیا جائے تو باقی کیا بچتا ہے ، ملکی سیاست ایک ایسی غیر یقینی صورتحال کی طرف بڑھتی دکھائی دیتی ہے جس میں آئندہ انتخابات میں کسی پارٹی کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوگی اور ایسے میں پھر کوئی نئی کنگز پارٹی وجود میں آ سکتی ہے کسی بھی شوکت عزیز، معین قریشی ٹائپ مبینہ متفق علیہ وزیر اعظم کا چانس بنایا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ منظر نامہ پرویز مشرف دور سے اس حد تک مختلف ہے کہ اس بار نوازشریف اور شہبا شریف ملک کے اندرموجود ہیں، پیپلزپارٹی کو آصف زرداری کے ساتھ ساتھ بلاول بھٹو کی لیڈرشپ بھی میسر ہے لیکن اس میں سب سے زیادہ متاثر پی ٹی آئی ہوگی جس میں عمران خان کے سوا کوئی کراوٗڈ پلر نہیں اور خود تحریک انصاف کا کارکن بھی عمران خان کے علاوہ کسی اور کو وزیراعظم تو درکنار دوسرے درجے کا لیڈر ماننے کو بھی تیار نہیں ہوگا۔ گویا ایک مسلسل سیاسی بحران ہے جس سے قوم کو واسطہ رہے گا۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی قوم اپنے گردوپیش پر نظر رکھے کہ ایسے اندرونی بحرانی حالات میں کون سے بڑے فیصلے ہونے جارہے ہیں، ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کے تمام بارڈرز انتہائی حساس ہوچکے ہیں، عرب ممالک کا اتحاد بننے کے چند ہی روز بعد اس میں سے قطر کو نکال دیا گیا اور امریکہ کے بعد ہمارے مسلم دوست ممالک بھی ہم سے ڈومور کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہماری حکمران اشرافیہ کو چاہیے کہ دنیا میں نئے بنتے ٹوٹتے علاقائی اتحاودں اور سر پر منڈلاتی خوفناک جنگوں کے پیش نظر ملک کے اندر سیاسی استحکام کے لئے کام کریں، اورآئین اور قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ کئے بغیر جمہوری عمل کو آگے بڑھائیں،

سو حضرات ! ہمارا اپنی قوم کو مشورہ ہے کہ آنے والے دنوں میں ایک اعصاب شکن سیاست کو برداشت کرنے کے لئے خود کو تیار کرے کیونکہ ہمیں تو اپنے وطن کے حالات بقول منیرنیازی کچھ ایسے ہی نظر آ رہے ہیں کہ۔۔

ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو

میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

مزید :

کالم -