شوپیان میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے نوجوان کی شہادت پر مکمل ہڑتال

شوپیان میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے نوجوان کی شہادت پر مکمل ہڑتال

  

سری نگر(کے پی آئی) جنوبی کشمیر کے قصبے شوپیان میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے نوجوان طالب علم کی شہادت پر مکمل ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کیے گئے بارہویں جماعت کے طالب علم عادل فاروق کی نماز جنازہ میں ہزاروں شہریوں نے شرکت کی جنوبی کشمیر میں مواصلاتی رابطے منقطع کر دیے گئے جبکہ مطاہرین پر بھارتی فورسز کی کارروائی کے نتیجے میں 24 افراد زخمی ہو گئے ہیں ہے ۔ تفصیلات کے مطابق جنوبی کشمیر کے قصبے شوپیان کے ایک مضافاتی گاؤں گنہ پورہ میں بھارتی فوج کے کریک ڈاؤن کے دوران شہریوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا بھارتی فوج نے مظاہرین پر فائرنگ کر دی۔ عادل فاروق ماگرے ولد فاروق احمد ماگرے نامی نوجوان کے سر کو نشانہ بنایا گیا اور اسکے سر میں گولی ماردی گئی جس کے باعث وہ شدید زخمی ہوا اور اسپتال لیجانے کے دوران ہی دم توڑ بیٹھا۔عادل فاروق ماگرے 12ویں جماعت کا طالب تھا اور وہ بائز ہائر سکینڈری سکول شوپیان میں زیر تعلیم تھا۔ واقعہ کے بعد پوری آبادی میں کہرام مچ گیا اور مرد و زن نے فورسز کے خلاف شدید نعرے بازی اور احتجاجی مظاہرے کئے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے فورسز نے لاٹھی چارج کیا لیکن مظاہرین نے محاصرہ ختم کرنے کیلئے شدید پتھراؤ کیا جس کے جواب میں فورسز نے آنسو گیس کے گولے داغے لیکن مظاہرین پھر بھی منتشر نہیں ہوئے۔فورسز نے مظاہرین کو بھگانے کیلئے اندھا دھند طریقے سے شلنگ کی جس کے بعد گاؤں میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہوئی اور فورسز و مظاہرین کے مابین شدید نوعیت کی جھڑپیں ہوئیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فورسز نے مظاہرین کو براہ راست نشانہ بنانے کے لئے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں عادل فاروق ماگرے ولد فاروق احمد ماگرے نامی نوجوان کے سر کو نشانہ بنایا گیا۔ بدھ کے روزبارہویں جماعت کے طالب علم عادل فاروق کی نماز جنازہ میں ہزاروں شہریوں نے شرکت کی اس موقع پر بھارتی فوج کے خلاف نعرے لگائے گئے گاؤں میں شہادت کے بعد آس پاس کے دیہات کے لوگ بھی احتجاج کرتے ہوئے وہاں پہنچ گئے صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ دریں اثنا بھارتی فوج نے سمبل بانڈی پورہ میں شہید ہوئے چار نوجوانوں کی لاشین دینے سے انکار کر دیا جبکہ پولیس نے رات کی تاریکی میں از خود کو سرینگر مظفرآباد شاہراہ پر گانٹہ مولہ میں لاشیں دفنا دیں۔سمبل میں شہدا کی یاد میں دوسر ے روز بھی ہڑتا ل رہی۔

مزید :

عالمی منظر -