حسین نواز کی جے آئی ٹی میں پیشی کی تصویر کس نے ’’لیک ‘‘کی ؟

حسین نواز کی جے آئی ٹی میں پیشی کی تصویر کس نے ’’لیک ‘‘کی ؟

  

اسلام آباد( خصو صی رپورٹ) سینئر صحافی عمر چیمہ نے پاناما پیپرز کی تحقیقات کے حوالے سے وزیراعظم اوران کے بچوں سے تفتیش کیلئے قائم کی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے اپنی پیشی کے حوالے سے کہا ہے کہ 16مئی کو انہیں فون کال آئی جبکہ 17مئی کو جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہونے کیلئے خط پہلے ہی مل چکا تھا ،ٹیلی فون کال صرف یاددہانی کیلئے تھی جبکہ کال کرنے والے نے اپنا تعارف جے آئی ٹی چیئرمین کے کوآر ڈینیشن آفیسر کے طور پر کرایا ،جے آئی ٹی کے سربراہ واجدضیاء پولیس سروس سے ہیں اور اس وقت بطور ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس پس منظر کی بنا پر میں نے خیال کیا کہ واجد اپنا کوآرڈینیشن آفیسر ایف آئی اے یا پولیس سے ہی لائے ہونگے، اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے عملدرآمد بینچ نے بھی حکم جاری کیا تھا کہ ’’جے آئی ٹی کے سربراہ اور اراکین اپنے اپنے محکموں سے اپنی پسند کے ماتحت سٹاف کا انتظام کرینگے تاہم حقیقت ظاہر ہوئی تو وہ میری توقعات کے برعکس تھی۔ صورتحال اس وقت کھلنا شروع ہوئی جب میں دی گئی تاریخ اور وقت پر جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کیلئے وفاقی جوڈیشل اکیڈمی پہنچا۔ پولیس نے مجھے مین گیٹ پر روک لیا ،انہیں ہدایت تھی کہ کوآرڈی نیشن آفیسر کی مرضی کے بغیرکسی کو اندر داخل نہ ہونے دیا جائے۔ اجازت ملنے کے بعد میں گاڑی لے کر پارکنگ کی طرف بڑھ گیا جہاں کوآرڈینیشن آفیسر مجھے ریسیو کرنے کیلئے موجود تھے۔ انہوں نے گرمجوشی سے مسکراتے ہوئے مجھ سے مصافحہ کیا اور اس کے بعد مجھ سے درخواست کی کہ اپنا موبائل فون کار میں چھوڑ دوں بصورت دیگر اسے پہلے سکیورٹی چیک پرلے جاناتھا۔کسی وزیٹر کو اس عمارت میں کوئی الیکٹرانک آلہ لے جانے کی اجازت نہیں تھی جس میں جے آئی ٹی کا سیکرٹریٹ قائم کیا گیا تھا اور اس کیلئے مجھے بھی کوئی استثنیٰ حاصل نہیں تھا۔سیکرٹریٹ کی طرف جاتے ہوئے میں نے ان سے پوچھا کہ کیاان کا تعلق ایف آئی اے سے ہے توواجد ضیاء کے کوآرڈی نیشن آفیسر نے جواب دیا کہ ’’میں وزارت دفاع سے ہوں‘‘۔وزارت دفاع سے ان کی مراد کیا تھی؟ ان کا تعلق ایک ایجنسی سے تھا جو وزارت دفاع کے انتظامی کنٹرول میں ہے۔ سکیورٹی چیک عبور کرنے کے بعد مجھے ایک کمرے میں لے جایا گیا جہاں ایک خوش اخلاق آفیسر نے میری پذیرائی کی۔میں نے ان سے استفسار کیا کہ کیا ان کا تعلق بھی وزارت دفاع سے ہے تو انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ سیکرٹریٹ میں تقرریاں اور اس کی نگرانی جن کے ذمہ تھی وہ میرے لئے کافی اچھنبے کی بات تھی کیونکہ سپریم کورٹ کے عملدرآمد بینچ نے سیکرٹری داخلہ کو حکم دیا تھا کہ وہ ’’سیکرٹریٹ اور جے آئی ٹی اراکین کیلئے ضروری سکیورٹی انتظامات یقینی بنائیں‘‘۔وہ سکیورٹی بظاہر گیٹ پر پولیس گارڈ تک محدود تھی۔ اس کے بعد وزارت دفاع کے آفیسر پھرجے آئی ٹی اراکین کے پاس گئے کہ تحقیقات کیلئے مجھے کب ان کے سامنے پیش کیا جائے۔ تقریباً 10منٹ بعد میں ان کے سوالوں کے جواب دینے کیلئے اس کرسی پر بیٹھا تھا جس پر گزشتہ ہفتے سوشل میڈیاپرحسین نواز کی بیٹھے تصویر وائرل ہوئی تھی۔حسین نواز کی تصویر کیسے لیک ہوئی ہے یہ اب بھی ایک راز ہے ،ہم بس یہ جانتے ہیں کہ ایک پراسرار ٹویٹر صارف سوشل میڈیا پر یہ تصویر پوسٹ کرنے والا پہلا شخص تھا ,اس ٹویٹر اکاؤنٹ کاپراسرار آپریٹر اپنا تعارف ’’پراسراریت کا ایجنٹ جو شوروہنگام کیلئے ایک بے رحمانہ حس اورزندگی میں شاطرانہ کھیلوں کا مشاق ،کٹرپاکستانی قوم پرست‘‘کے طورپرکراتا ہے۔ اس کے پیچھے کون ہے اس بات کا اندازہ لگانا تو مشکل ہے لیکن اس نے یہ تصویرکس طرح حاصل کی یہ بات باعث تشویش ہونی چاہئے۔یہ تصویر کس نے لیک کی اس حوالے سے قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں، اپوزیشن نے الزام لگایا ہے کہ حکومت نے عوامی ہمدردیاں حاصل کرنے اور جے آئی ٹی کو متنازعہ بنانے کیلئے جان بوجھ کر ایسا کیا جہاں تک حکومت کے ممکنہ اہداف کا تعلق ہے تو یہ الزامات کچھ وزن تو رکھتے ہیں۔ شریف فیملی کے دو جے آئی ٹی ممبران پر اعتراضات پہلے ہی مسترد کئے جا چکے ہیں تاہم یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ یہ تصویر حکومت نے پھیلائی۔ اگر اس تصویر نے حکومت کو فائدہ پہنچایا تو لازمی نہیں کہ اس کا مطلب یہ ہو کہ اس لیک کے پیچھے حکومت کا ذہن ہے اگر حکومت چاہے بھی تو یہ سی سی ٹی وی ریکارڈ تک رسائی حاصل نہیں کر سکتی۔ ایسے سیکرٹریٹ میں جہاں جے آئی ٹی کے سربراہ کا کوآرڈی نیشن آفیسر بھی وزارت دفاع سے ہو وہاں حکومت کی سی سی ٹی وی فوٹیج تک رسائی کا کوئی امکان نہیں۔ انٹیلی جنس بیورو پر بھی اس لیک میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ درحقیقت آئی بی جے آئی ٹی کا حصہ ہی نہیں ہے بلکہ یہاں یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ حالیہ برسوں میں یہ وہ پہلی جے آئی ٹی ہے جو آئی بی کے بغیر بنائی گئی ہے۔وزارت داخلہ پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ اس کا فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کی سکیورٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میری پیشی کے دوران کئے گئے مشاہدے کے مطابق جے آئی ٹی سیکرٹریٹ وزارت دفاع کے ماتحت محکموں کے موثر کنٹرول میں ہے۔صرف میں ہی وہ نہیں جسے پارکنگ سے لے کر جے آئی ٹی کے کمرے تک وزارت دفاع کے سٹاف نے خود پہنچایا بلکہ تقریباً ہرگواہ یا ملزم کو انہوں نے ہی ہینڈل کیا۔ آئی ایس آئی اور ایم آئی کے علاوہ اس ٹیم میں ایف آئی اے، ایس ای سی پی ، نیب اور سٹیٹ بینک کے نمائندے بھی ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی سی سی ٹی وی ریکارڈ کی مینجمنٹ کے حوا لے سے انٹیلی جنس ایجنسیوں کے عملے سے زیادہ اہل نہیں ہوسکتا،شریف خاندان جے آئی ٹی کو متنازعہ بنانا چاہتی ہے یہ ایک سچ ہے تو یہ بھی حقیقت ہے کہ جے آئی ٹی اس میں مدددے رہی ہے،اس سے قبل ایک ایمبولینس بلوائی گئی اور میڈیا کو ایک سٹوری لیک کی گئی کہ تفتیش کے دوران حسین نواز کی حالت خراب ہو گئی ،یہ ایک من گھڑت کہانی ثابت ہوئی ،جے آئی ٹی کی جانب سے باضابطہ طور پر کچھ نہیں بتایا گیاکہ ایمبولینس بلوانے کا مقصد کیا تھا، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی انتظامیہ نے بعد ازاں صحافیوں کو بتایا کہ یہ جے آئی ٹی نے ’’احتیاطی‘‘ تدابیر کے طور پر بلوائی تھی۔بظاہر اس کا مقصد حسین نواز کا مذاق اڑواناتھا۔ وزارت دفاع کے حکام کا نہ صرف سیکرٹریٹ پر کنٹرول بلکہ جے آئی ٹی کی نشستوں کی تربیت بھی بتاتی ہے کہ کس کاحکم چلتاہے۔پوچھ گچھ کے دوران خفیہ ایجنسیوں کے نمائندے واجد ضیاء کے دائیں بائیں بیٹھتے ہیں۔اس امرسے جے آئی ٹی میں وزارت دفاع کا جابجا اثرونفوذ نظر آتا ہے جہاں تک جے آئی ٹی کو کسی سیاسی مداخلت سے بچانے کا سوال ہے تو یہ اچھی بات ہے تاہم اگرایسے شرارت آمیزلیکس جاری رہے تو وزارت دفاع پربھی باتیں ہوں گی، جے آئی ٹی کے نمائندے اور ان کے ماتحت عملے کی ذمہ داری شریف خاندان سے تفتیش کرنا ہے ان کا مذاق اڑوانا نہیں۔جیساکہ جے آئی ٹی نے اس لیک کے حوالے سے تحقیقات شروع کر دی ہے تو حقیقت تک پہنچنا اور اسے عوام کے سامنے لانا اس کا سب سے بڑا امتحان ہے۔خود احتسابی اور قصور وار کو سزا دینے تک اسے دوسروں کا احتساب کرنے کا بھی حق نہیں ہے۔

مزید :

صفحہ اول -