سیاستدانوں ، جرنیلوں ، ججوں ،، بیورو کریسی اور اشرافیہ نے پاکستان کیساتھ انصاف نہیں کیا : شہباز شریف

سیاستدانوں ، جرنیلوں ، ججوں ،، بیورو کریسی اور اشرافیہ نے پاکستان کیساتھ ...

  

لاہور(سٹی رپورٹر) وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہاہے کہ ہم سب پاکستانی ہیں اورپاکستان کا ہم پر بہت قرض ہے ۔ ہمیں اجتماعی کاوشوں اورانتھک محنت سے پاک دھرتی کایہ قرض چکانا ہے ۔گزشتہ 70برس کے دوران ہم من حیث القوم اپنی اپنی حیثیتوں سے انصاف نہیں کرسکے۔ہم نے اپنے بچوں کو وہ پاکستان نہیں دیا جو ان کا حق ہے ۔وطن کی مٹی آج بھی ہم سے سوال کررہی ہے ۔ 70برس میں ہماری ناکامیاں زیادہ اورکامیابیاں کم ہیں ۔پاکستان اگر آج پیچھے ہے تو اس کا ذمہ دار کوئی ایک نہیں بلکہ ہم سب ہیں ۔سیاستدان، جرنیل،جج،بیوروکریسی،اشرافیہ اورہم سب نے پاکستان کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔سیاسی حکومتیں ہوں یا فوجی کوئی بھی قوم کی توقعات پر پورا نہیں اتریں۔70برس گزرنے کے باوجود ہم آج بھی ایک دوسرے کے ساتھ دست و گربیاں ہیں ۔وطن عزیز کی مٹی ہم سے اپنا قرض چکانے کا سوال کررہی ہے ۔ ہم سب نے وطن عزیز کی خاطرملکر کام کرنا ہے اورپاکستان کی عزت و وقار کو بلند کرنے کیلئے یکجان دوقالب ہونا ہے ۔آج بھی ہم ایک ہوجائیں تو پاکستان اقوام عالم میں اپنا کھویا ہوا مقام ضرورحاصل کرے گا۔وزیراعلی محمدشہبازشریف نے ان خیالات کا اظہار ماڈل ٹاؤن میں 106ویں نیشنل مینجمنٹ کورس میں شرکت کرنے والے اعلی افسران سے اپنے کلیدی خطاب کے دوران کیا۔ وزیراعلی نے کہاکہ معاشی و سماجی عدم مساوات نے دوریاں پیدا کی ہیں ۔معاشی و سماجی تفاوت پاکستان کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ امیر اور غریب کے بچوں کو یکساں حقوق اورمساوی مواقع ملنے تک پاکستان آگے نہیں بڑھے گا۔ سب کوآگے بڑھنے کے یکساں حقوق اوربرابر کے مواقع ملنا ضروری ہیں ۔امیر اورغریب کے بچوں کے درمیان عدم مساوات کی خلیج کو توڑنا ہوگا۔ وزیراعلی نے افسران سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے آپ کا کردارانتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔آپ محنت ،عزم اور جذبے کے ساتھ اپنے فرائض منصبی ادا کریں اورملک و قوم کی خدمت کریں ۔وزیراعلی نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ بلدیاتی نظام عوام کے مسائل نچلی سطح پر حل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے اور بلدیاتی ادارے جمہوری نظام کا اہم حصہ ہیں او راس نظام کے ذریعے عوام کو بہترین سہولتیں ملتی ہیں۔ بدقسمتی سے آمرانہ حکومتوں نے ان اداروں کو اپنے اپنے ادوار حکومت کوطوالت دینے کے لئے استعمال کیااورمشرف کا دور اس کی بد ترین مثال ہے جب بغیر چیک اینڈ بیلنس اور موثر مانیٹرنگ کے ان بلدیاتی اداروں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا۔ 2010میں 6موبائل ہسپتال خرید کر جنوبی پنجاب میں بھجوائے گئے اور یہ ہسپتال دیہی آبادی کو معیاری طبی سہولتیں ان کی دہلیز پر پہنچا رہے ہیں ۔اس سال 15مزید موبائل ہسپتال منگوائے جا رہے ہیں جبکہ آئندہ مالی سال میں مزید 100موبائل ہسپتال منگوانے کی پلاننگ کی گئی ہے،اس طرح دیہی و بنیادی مراکز صحت کی جگہ موبائل ہسپتال دیہی علاقوں میں لوگوں کو علاج معالجے کی جدید سہولتیں فراہم کریں گے۔انہوں نے کہاکہ دیہی آبادی کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا بھی ایک بڑا پروگرام بنایا گیاہے ۔جنوبی پنجاب کی 37تحصیلوں سے اس پروگرام کا آغاز کیا جا رہاہے اوراس پروگرام کا دائرہ کارپورے پنجاب تک پھیلایا جائے گا۔دیہی آبادی کی ترقی و خوشحالی کے لئے کئے جانے والے اقدامات سے شہروں کی جانب آنے کا رحجان کم ہوگا تاہم اس ضمن میں مزید عملی اقدامات کرنے ہیں۔وادی مہران ، بلوچستان ،کے پی کے اور پنجاب میں رہنے والوں کو ملکر ملک کا مستقبل تابناک بناناہے او رگرین پاسپورٹ کی عزت بحال کرنا ہے، یہ تقریروں ،خطبوں اور باتوں سے نہیں بلکہ محنت اور اجتماعی کاوشوں کی بدولت ہی ہوگا۔انہوں نے کہاکہ عوام کو علاج معالجہ اور معیاری طبی سہولتوں کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے او رصحت عامہ کے شعبہ کی بہتری کے لئے بھی موثر حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔وزیراعلی نے کہاکہ ہم بحیثیت سیاستدان، جج، افسران، سرمایہ کاراور تاجر اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہے ہیں او رہم نے اپنے وطن اور بچوں کیساتھ انصاف نہیں کیاہے لیکن اب ماضی کی غلطیوں پر رونے دھونے کا اور آنسو بہانے کا کوئی فائدہ نہیں ہمیں ان غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھناہے اور قیام پاکستان کے مقاصد کے حصول کے لئے مل جل کر آگے بڑھنا ہے۔نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کے ریکٹر عظمت علی رانجھا ، نیشنل مینجمنٹ کالج کے ڈین نعیم اسلم ،فیکلٹی ممبران اور 106 ویں نیشنل مینجمنٹ کورس میں شرکت کرنے والے اعلی افسران اس موقع پر موجود تھے۔مشیر ڈاکٹر عمر سیف، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ ، سیکرٹری سکولز ایجوکیشن ، چیئرمین منصوبہ بندی وترقیات ، متعلقہ محکموں کے سیکرٹریزاوراعلی حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

شہباز شریف

مزید :

صفحہ اول -