ٹرمپ کا شاہ سلیمان کو فون ، قطر کو تنہا کرنیکی بڑی غلطی قرار دیدیا ، امریکی صدر مشرق و سطی میں تنازعات بھڑ کا رہے ہیں : جرمنی

ٹرمپ کا شاہ سلیمان کو فون ، قطر کو تنہا کرنیکی بڑی غلطی قرار دیدیا ، امریکی ...

  

واشنگٹن، ریاض ، انقرہ ،پیرس ، برلن (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی فرمانرواشاہ سلمان پر زور دیا ہے کہ وہ قطر پر شدت پسندوں کی حمایت کے الزام کی وجہ سے پیدا ہونیوالے تنازعے پر خلیجی ممالک میں یکجہتی پیدا کریں۔گزشتہ روز امر یکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی شاہ سلمان کوٹیلی فون کرکے دہشت گرد تنظیموں کی مالی مددروکنے پر تبادلہ خیال کیا ۔دونوں رہنماوں نے مشرق وسطی کی موجودہ صورتحال اور خطے کے کسی بھی ملک کو انتہاپسندی کوفروغ دینے سے روکنے پرگفتگوکی جبکہ امریکی صدر نے قطر کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کے اقدامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا دہشت گردی کی مبینہ حمایت پر انہوں نے ہی عرب ملکوں سے قطر کیساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کو کہا تھا ۔ٹرمپ نے کہا دہشتگردی کے خاتمے اورعلاقائی استحکام کیلئے خلیج تعاون تنظیم کاکرداراہم ہے۔ایک امریکی اہلکار نے بتایا صدر ٹر مپ کا پیغام تھا کہ ہمیں خطے میں انتہاپسندی اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کیخلاف جنگ کیلئے اتحاد کی ضرورت ہے۔سعودی بادشاہ سے امریکی صدر نے کہا ’یہ اہم ہے کہ خلیج خطے کے امن اور سکیورٹی کیلئے متحد ہو۔دوسری جانب پینٹاگون نے ایک بیان میں مشرقِ وسطیٰ میں سب سے بڑے امریکی فضائی اڈے کی میزبانی کرنے کیلئے قطر کا شکریہ ادا کیا ہے جبکہ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے قطر نے دہشت گردی کیخلاف لڑائی میں پیشرفت کی ہے مگر اسے مزید کام کرنا ہو گا۔ میڈیارپورٹس اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان ہِیدر نوئرٹ نے کہا ہے اس پیشرفت میں دہشت گردانہ گرپووں کیلئے فنڈنگ روکنا، مالی معاونت کرنیوالے مشتبہ افراد کیخلاف کارروائی، اثاثے منجمد کرنا اور بینک نظام کیلئے سخت ضوابط متعارف کرانا شامل ہیں۔تاہم اس تمام پیشرفت کے باوجود وہ قطر کو ابھی اس سلسلے میں مزید کام کرنا ہو گا۔ادھرعرب میڈ یاکے مطابق اردن نے بھی قطرکیساتھ سفارتی تعلقات محدود کرنے کافیصلہ کرتے ہوئے قطری سفیرکوآئندہ چنددنوں میں ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی ہے ۔جبکہ امیر کویت شیخ صباح الاحمد الصباح نے جدہ میں سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی اور ان سے خطے کی تازہ صورتحال اور بالخصوص خلیجی عرب ممالک کی قطر کے ساتھ پیدا ہونے والی کشیدگی ختم کر نے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ۔بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ بھی بدھ کو ایک روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچے ، جہاں انھوں نے شاہ سلمان سے دوطرفہ تعلقات سمیت اہم علاقائی امور پر بات چیت کی ہے۔دوسری جانب ترکی نے قطر کی حمایت کر دی ہے اور اس ضمن میں ترک صدر اردوان کا کہنا ہے کہ عرب ممالک نے قطر سے تعلقات منقطع کرکے بہت بڑی غلطی کی ہے،جبکہ ترکی نے قطر میں فوج تعینات کرنے کی تیاریاں بھی تیز کر دی ہیں۔ اس حوالے سے ترک پارلیمنٹ میں قانون سازی مکمل کرلی گئی ہے اورپارلیمنٹ سے منظوری کے بعد ترک فوج کو قطر میں تعینات کر دیا جائے گا جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کئی بڑے دفاعی معاہدے بھی طے کیے جائیں گے۔ یاد رہے ترکی کی ناکام فوجی بغاوت میں متحدہ عرب امارات کے مبینہ کردار کے انکشاف کے بعد سے ترکی اور خلیجی ممالک کے اتحاد کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ اس حوالے سے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے اگر خلیجی ممالک نے قطر کیخلاف کسی قسم کی جارحیت کی کوشش کی تو ترکی قطر کا بھرپور دفاع کرے گا۔ادھر فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں نے امیر قطر سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے کہاہے خلیجی ممالک کی سلامتی تمام چیزوں پر مقدم ہے۔ فرانس قطر اور اس کے پڑوسی ملکوں کے درمیان پیدا ہونیوالی کشیدگی کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے کوششوں میں ہرممکن معاونت کرے گا ،جبکہ جرمن وزیر خارجہ زیگمار گابریئل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر مشرق وسطیٰ میں تنازعات کو بھڑکانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے قطر کیساتھ اس کے پڑوسی یا دیگر عرب ممالک کی جانب سے اپنے سفارتی روابط منقطع کرنے سے ہتھیاروں کے حصو ل کی کوششیں تیز ہو جانے کا خدشہ ہے۔ تنازعات سے دوچار مشرق وسطیٰ کے خطے میں ٹرمپ کی دخل اندازی بہت ہی خطرناک ہے۔ انہوں نے اسے ’ٹرمپائزیشن‘ قرار دیا۔ زیگمار گابریئل کا یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب وہ برلن میں اپنے سعودی ہم منصب عادل بن احمد الجبیر سے ملاقات کر رہے ہیں۔

قطر بحران

مزید :

صفحہ اول -