تیسری سیاسی قوت کا خیال دل خوش کن مگر معروضی حالات سازگار نہیں

تیسری سیاسی قوت کا خیال دل خوش کن مگر معروضی حالات سازگار نہیں

  

تجزیہ:قدرت اللہ چودھری

آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ جنرل (ر) پرویز مشرف یہ بات تسلسل کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ تیسری سیاسی قوت کا سامنے آنا ملک کے لئے مفید ہے۔ ان کی بات دل کو لگتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ تیسری سیاسی قوت کس طرح وجود میں آئے گی، کیا کوئی ایسی سیاسی نرسری اس وقت موجود ہے جس کے گملوں میں ایسی پنیری لگائی جا رہی ہے جو چند دنوں یا مہینوں بعد تیسری سیاسی قوت کا شگوفہ کھلا دے؟ جنرل پرویز مشرف نے بطور آرمی چیف اقتدار سنبھالا تھا تو ریاست کے بعض اداروں کو سیاسی توڑ جوڑ میں مصروف کر دیا، جنہوں نے اپنی ’’مہارت‘‘ کے زور پر ایک نئی سیاسی جماعت بھی تشکیل دے دی، جس کا نام مسلم لیگ (قائداعظم) تھا جنرل پرویز مشرف نے اگرچہ اس جماعت کی تشکیل کا کریڈٹ اپنی کتاب ’’ان دی لائن آف فائر‘‘ میں لیا ہے اور بڑی حد تک یہ کریڈٹ انہیں دیا بھی جاسکتا ہے لیکن وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کے آخری دنوں 1999)ء( میں ان کے بعض قریبی ساتھی ان سے الگ ہوگئے تھے اور انہوں نے مسلم لیگ کے اندر ایک گروپ تشکیل دے لیا تھا جسے ’’ہم خیال گروپ‘‘ کا نام دیا گیا۔ شروع شروع میں اسے اسی نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ اس گروپ میں میاں محمد اظہر، محترمہ عابدہ حسین، میاں خورشید محمود قصوری اور ان کے بعض دوسرے ساتھی شامل تھے۔ میاں محمد اظہر نے اپنے لئے ایک ایسا سیاسی راستہ چن لیا تھا جس پر چل کر ان کا خیال تھا کہ وہ وزیر اعظم بن جائیں گے لیکن وہ 2002ء کا الیکشن ہار گئے تو ان کے وزیراعظم بننے کا چانس ختم ہوگیا۔ انہیں دوسرا صدمہ اس وقت ہوا جب پارٹی کی صدارت بھی چودھری شجاعت حسین کے پاس چلی گئی۔ جنرل پرویز مشرف کی سرپرستی میں اس جماعت نے 2002ء کا الیکشن لڑا اور سادہ اکثریت بھی حاصل نہ کرسکی، لیکن وہ اقتدار اس جماعت کو سونپنے کا فیصلہ کرچکے تھے، اس لئے انہوں نے پیپلز پارٹی کا ایک ٹوٹا توڑ کر مسلم لیگ (ق) کے سپرد کر دیا۔ اس گروہ کی قیادت راؤ سکندر اقبال کر رہے تھے۔ جنرل پرویز مشرف صدر نہ ہوتے اور وہ فسوں نہ پھونکتے تو مسلم لیگ (ق) کو اقتدار نہیں مل سکتا تھا نہ راؤ سکندر اقبال اور ان کے ساتھی ٹوٹ کر مسلم لیگ کا ساتھ دے سکتے تھے۔ اسے ان کی صدارت کا کرشمہ کہنا چاہئے، انہوں نے 2002ء کا الیکشن تو مسلم لیگ (ق) کو جتوایا لیکن 2007ء کے الیکشن کے لئے ان کا منصوبہ یہ تھا کہ اب کی بار پیپلز پارٹی کو آن بورڈ لایا جائے۔

این آر او اسی لئے کیا گیا تھا۔ پیپلز پارٹی کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد این آر او کے تحت بہت سی رہائیاں ہوگئیں اور سیاسی مقدمات ختم ہوگئے، لیکن بینظیر بھٹو الیکشن سے پہلے 18 اکتوبر 2007ء کو واپس آگئیں، ان کے ساتھ یہ مفاہمت ہوئی تھی کہ وہ انتخاب سے پہلے واپس نہیں آئیں گی لیکن جب انہوں نے آنے کا فیصلہ کیا تو جنرل پرویز مشرف اس پر بہت ناراض ہوئے۔ اس کے بعد نواز شریف نے بھی واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ ان کی آمد روکنے کے لئے پرویز مشرف خود ریاض گئے اور شاہ عبداللہ سے ملاقات کرکے انہیں کہا کہ وہ نواز شریف کو واپس آنے سے روکیں۔ کہا جاتا ہے کہ شاہ عبداللہ نے جواب دیا جب بینظیر بھٹو پاکستان آگئی ہیں تو نواز شریف کو روکنے کا کیا اخلاقی جواز رہ جاتا ہے۔ اپنی اس مہم جوئی کی ناکامی کے بعد جنرل پرویز مشرف سیدھے لاہور آئے اور مسلم لیگ (ق) کی قیادت کو آگاہ کیا کہ نواز شریف کی آمد اب روکنا ممکن نہیں رہا۔ کراچی میں بینظیر بھٹو کے جلوس میں دو دھماکے ہوئے جن میں وہ خود تو محفوظ رہیں لیکن جلوس کے ڈیڑھ سو شرکاء جاں بحق ہوگئے، اس کے باوجود بے نظیر بھٹو نے اپنی مہم جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تو 27 دسمبر 2007ء کو لیاقت باغ راولپنڈی کے جلسے کے بعد دھماکے میں ان کی زندگی کا خاتمہ ہوگیا۔ انتخابات چند ماہ کے لئے ملتوی ہوگئے اور پھر 2008ء میں ہوسکے، جو پیپلز پارٹی نے جیت لئے اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنا لی۔ پرویز مشرف بدستور صدر تھے لیکن مسلم لیگ (ن) نے ایسے حالات پیدا کر دئیے کہ انہیں 18 اگست 2008ء کو مستعفی ہونا پڑا۔

جنرل پرویز مشرف کی تمام سیاسی کامیابیاں ان کی صدارت (اور وردی) کی مرہون منت تھیں، وردی اتارنے کے بعد ان کا سیاسی زوال شروع ہوچکا تھا، جس میں اس وقت شدت پیدا ہوگئی جب انہوں نے جسٹس افتخار چودھری کو آرمی ہاؤس میں بلا کر ان سے استعفا طلب کیا جو انہوں نے نہیں دیا۔ اس کے بعد ججوں کی برطرفیوں کا ہنگامہ خیز دور شروع ہوا، ڈوگر سپریم کورٹ بنائی گئی جس کے بارے میں فیصلہ ہے کہ یہ کورٹ درست طور پر تشکیل نہیں پائی تھی۔

صدر پرویز مشرف محروم اقتدار ہونے کے بعد جب سے سیاست میں آئے ہیں کوئی سیاسی کامیابی ان کے حصے میں نہیں آئی، ان کی پارٹی نان سٹارٹر ہے، جو چند لوگ متحرک تھے وہ بھی پارٹی چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ انہوں نے مسلم لیگوں کو متحد کرنے کی کوشش کی جو اب تک کامیاب نہیں ہوئی۔ سیاسی اتحاد بنانے کی کوششیں کیں، وہ بھی ناکام ہوئیں، لیکن ستم ظریفی ملاحظہ ہو، جس طرح یار لوگ دو ہزار کے جلوس کو ’’ملین مارچ‘‘ کہنے سے نہیں شرماتے، اسی طرح تین چار یک نفری جماعتوں کے اتحاد کو ’’گرینڈ الائنس‘‘ کہنے سے بھی نہیں ہچکچاتے۔ صاحبزادہ حامد رضا دبئی میں جنرل پرویز مشرف کے ساتھ گرینڈ الائنس کی بات چیت کرنے گئے تھے، لیکن گرینڈ الائنس تو یہاں بننا چاہئے دبئی میں رہ کر ایسا کرنا آسان نہیں۔ صاحبزادہ حامد رضا کے والد صاحبزادہ فضل کریم دو بار قومی اسمبلی کے رکن رہے، دونوں بار انہیں مسلم لیگ نے ٹکٹ دیا۔ 2013ء کے الیکشن سے کچھ پہلے وہ مسلم لیگ (ن) سے الگ ہوگئے لیکن الیکشن سے پہلے اللہ کو پیارے ہوگئے، اب صاحبزادہ حامد رضا نے ان کی گدی سنبھالی ہے۔ سنی جماعتوں کا ایک اتحاد بھی انہوں نے بنایا ہوا ہے لیکن یہ سب جماعتیں وہ ہیں جن کا ایک بھی نمائندہ اس وقت قومی اسمبلی میں نہیں۔ یہ جماعتیں کس طرح تیسری سیاسی قوت بنیں گی اس کا جنرل پرویز مشرف کو کوئی اندازہ ہوگا، لیکن ایسی قوت بنانے کے لئے اس صدی کے ابتدائی برسوں میں واپس جانا ہوگا جو اب گزر گئے۔ اس لئے تیسری قوت اگر وجود میں آتی ہے تو اس میں جنرل پرویز مشرف کا تو کوئی حصہ نہیں ہوگا اور کس کا ہوگا، اس کا فی الحال اندازہ نہیں۔

خیال

مزید :

تجزیہ -