دماغ کی رسولی کے علاج کے طریقوں میں وسیع تحقیق و ترقی جاری ہے ،ڈاکٹر عرفان

دماغ کی رسولی کے علاج کے طریقوں میں وسیع تحقیق و ترقی جاری ہے ،ڈاکٹر عرفان
دماغ کی رسولی کے علاج کے طریقوں میں وسیع تحقیق و ترقی جاری ہے ،ڈاکٹر عرفان

  


لاہور(پ ر)چالیس سال سے کم عمر میں دماغ کے کینسر کا شکار ہونے والوں کی شرح اس عمر میں کسی دوسرے کینسر سے مرنے والوں سے زیادہ ہے۔دماغ کی رسولی کے علاج کے طریقوں میں وسیع تحقیق و ترقی جاری ہے جس سے مریض کی زندگی کا معیار بہتر ہوا ہے، سروائیول کی شرح بڑھ گئی ہے اور سرجری میں رسک کم ہوگیا ہے، ڈاکٹر عرفان یوسف، کنسلٹنٹ نیوروسرجن، شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر نے ورلڈ برین ٹیومر ڈے کے موقع پر صحافیوں کے ایگ گروپ سے بات کرتے ہوئے کہی۔ ڈاکٹر عرفان نے بتایا کہ برین ٹیومر کی عام علامات میں سر درد، متلی، بتدریج کمزوری، مرگی کے دورے پڑنا، بولنے میں مسائل پیدا ہونا، بینائی کا جانا شامل ہیں۔ پچوٹری ٹیومر ہارمون اور نظر پر اثر انداز ہوتا ہے۔ برین ٹیومر کی تشخیص کیلئے سی ٹی سکین، اور ایم آر آئی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر عرفان نے بتایا کہ دماغ کی رسولی کا سن کر عام طور پر لوگ زندگی سے مایوس ہوجاتے ہیں، جبکہ یہ ایک قابل علاج مرض ہے اور ماضی کی نسبت ٹیومر ختم یا کنٹرول کرنے کیلئے جدید ترین آلات و ادویات دستیاب ہیں۔

اس کا علاج سرجری، ریڈی ایشن اور کیموتھراپی ہیں۔ اب زیادہ محفوظ کمپیوٹر اسسٹڈ سرجری سے بہت اچھے نتائج آرہے ہیں۔ ڈاکٹر عرفان نے کہا کہ بدقسمتی سے آج تک ماہرین برین ٹیومر ہونے کی وجہ معلوم نہیں کرسکے۔ طبی ماہرین کے مطابق اس کے وجوہ میں کسی قسم کی غذا یا ماحول کا عمل دخل نہیں دیکھا گیا تاہم کچھ جیینیٹک ڈیفیکٹ ہوسکتا ہے۔بچوں میں کارنیئل ریڈی ایشن سے برین ٹیومر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4