آف شور کمپنیاں بنانے اور قرضے لینے والے ملک و قوم کیلئے ناسور بن چکے: سراج الحق

آف شور کمپنیاں بنانے اور قرضے لینے والے ملک و قوم کیلئے ناسور بن چکے: سراج ...

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ مالی کرپشن کے ساتھ ساتھ نظریاتی اور اخلاقی کرپشن کی بیماری میں سب سے زیادہ حکمران ٹولہ ملوث ہے ۔ پانامہ ،آف شور کمپنیوں اور قومی بنکوں سے قرضے لے کر ہڑپ کرنے والے ملک و قوم کے لیے ایک ناسور بن چکے ہیں اور اس ناسور کا علاج کیے بغیر ہم ترقی نہیں کرسکتے ۔ پاکستان کو غاروں میں چھپے ہوئے مسلح دہشتگردوں سے زیادہ اقتدار کے ایوانوں میں براجمان سیاسی اور معاشی دہشتگردوں سے خطرہ ہے ۔ ان دہشتگردوں نے لڑاؤ اور حکومت کرو کے مغربی اصول پر چلتے ہوئے قوم کو علاقائی اور مسلکی بنیادوں پر تقسیم کیا ۔ ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کے لیے قومی یکجہتی اور ملی وحدت کی ضرورت ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے لاہور کے مقامی ہوٹل میں اپنی طرف سے صحافیوں کے اعزاز میں دیے گئے افطار ڈنر کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر نائب امیر اسد اللہ بھٹو ، سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل محمد اصغر اور سیکرٹری اطلاعات امیر العظیم بھی موجودتھے ۔ افطارڈنر میں ڈاکٹر اجمل نیازی۔ ارشاد احمد عارف,سہیل وڑائچ ،ایثار رانا،عابد میر بٹ ، سلمان غنی،،نجم ولی خان،نصراللہ ملک ، عامرخاکوانی ، روف طاہر ، حبیب اکرم، محسن گورایہ، عبدالمجید ساجد ،شہزادہ علی، میاں اشفاق انجم ،احمر سلمان بلوچ،کاشف سلمان، آغا وقار احمد۔عبدالعزیز عابد ،اے ڈی کاشف، فہیم صادق ،آصف علی بھٹی ،ایم طفیل ،ذبیح اللہ بلگن،امان اللہ خان ،شہزادہ فیصل درانی ،شہزادہ ذوالقرنین ،رانا تنویر قاسم سمیت ،کالم نگاروں ، اینکرپرسنز اور صحافیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ 70 سال سے اقتدار کے ایوانوں پر قابض اشرافیہ نے پاکستان کو مسائلستان بنادیاہے ۔ ان کی نظریاتی اور اخلاقی کرپشن کی وجہ سے پاکستان کے وجود کو خطرہ ہے ۔پاکستان کو دولخت کرنے والا اشرافیہ کا گروہ آج باقی ماندہ پاکستان کے لیے سیکورٹی رسک بناہواہے ۔ انہوں نے کہاکہ۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی ملک و قوم کو لٹیروں کے اس ٹولے سے نجات دلانے کے لیے کرپشن کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان جمہوریت اور معیشت کے لیے نہیں بناتھا بلکہ ایک نظریاتی مملکت ہے جو کلمہ کی بنیاد پر قائم ہوا اور اسی بنیاد پر قائم رہ سکتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ قومی یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے ہمیں سندھی ، بلوچی ، پختون اور پنجابی کی بجائے پاکستانی کی شناخت قائم کرنا ہوگی اور مسلکی اختلافات سے نکل کر ایک امت بننا ہوگا ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ موجودہ پارلیمانی نظام کی کمزوریوں کی وجہ سے معاشرے میں جرائم بڑھ رہے ہیں ۔ آج ملک میں غربت ،مہنگائی ، بے روزگاری ، تعلیم و صحت اور لوڈشیڈنگ کے مسائل حکمرانوں کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے ہیں ۔ ملک میں بے روزگار نوجوانوں کی فوج ظفر موج ہے ۔ لوڈشیڈنگ سے عوام کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے ۔ حکمران کہتے ہیں کہ 18500 میگاواٹ ریکارڈ بجلی پیدا ہورہی ہے اور ملک میں بجلی کی طلب 19500 ہے ، حکمران بتائیں کہ وہ ایک ہزار میگاواٹ کے شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے بارہ بارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کیوں کر رہے ہیں ۔

مزید : صفحہ آخر