شہباز شریف کا عدالتوں کے بارے میں بیان ملک کیخلاف ساز ہے: خورشید شاہ، قومی اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ جاری، گونواز گو کے نعرے

شہباز شریف کا عدالتوں کے بارے میں بیان ملک کیخلاف ساز ہے: خورشید شاہ، قومی ...

  

اسلام آباد(آن لائن)اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کے حالیہ عدالتوں بارے بیان ملک کے خلاف سازش قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دھوپ میں کھڑے ہوکر معافی مانگے پاناما کیس کسی اپوزیشن کا پیدا کیا ہوا نہیں ہے یہ عالمی دنیا میں ن لیگ کی کرپشن کی داستان ہے،اگر اداروں کا احترام نہ کیا گیا تو ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا،حکومتیں طاقت سے نہیں عوامی سوچ اور امنگوں سے چلتی ہیں،حکومتی رویہ ناقابل برداشت ہے اپوزیشن نے پی ٹی وی پر براہ راست تقریر نہ دکھانے پر پھر ایوان سے بائیکاٹ کیا اور گونواز گو کے نعرے لگائے،لیگی ارکان کی اپوزیشن ارکان کے ساتھ تلخ کلامی بھی ہوئی،اس سے قبل اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے ایوان زیریں میں کہا کہ سندھ حکومت نے عمرکوٹ میں واقع یہ ایکشن لیا ہے،یہ ایوان سب کا ایوان ہے پارلیمنٹ ہوگی تو جمہوریت بھی ہوگی اور پاکستان بھی ہوگا اور یہی سب کچھ ہیں آج جس نے بھی یہ پڑھا ہوگا کہ اس لیول کا شخص اس طرح کی زبان استعمال کر سکتا ہے یہ ملک کی بقاء اور سالمیت کا ایشو ہے،وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے جو بیان دیا ہے سپریم کورٹ سے ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں کہ ایک خاندان کیخلاف بندوق تان لینا احتساب نہیں ہے کیا یہ قول وفعل کا تضاد نہیں ،یہ لوگ کہتے تھے کہ پیپلزپارٹی اور ان کے لیڈران کو سزائیں دو لیکن آج عدلیہ کے ہاتھ میں بندوقیں دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ناجائز فیصلے ہیں،اگر عدلیہ ختم ہوئی تو پاکستان ختم ہوجائے گا جاہلیت اور ظلم کا زمانہ شروع ہوجائے گا۔بندوق اور طاقت کے زور پر ہر کوئی قبضہ کر لے گاآج ساری پارلیمنٹ کیوں خاموش ہے ملک میں انصاف کے بول بالا کرنے اور عدالتوں کے حقوق کیلئے ہمارے آبا ء و اجداد نے قربانیاں دی تھیں،ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا تو بھی ہم نے کبھی نہیں کہا کہ عدلیہ نے بندوق تان لی ہے،بے نظیر کو قتل کیا گیا تو پھربھی ہم نے یہ نہیں کہا کہ پاکستان کے خلاف سازش کی گئی ہے کیا یہی سیاست ہوگی ملک میں اداروں اور عدلیہ کے خلاف باتیں ہوں گی،آج جے آئی ٹی کو متنازعہ بنایا جارہا ہے جو بھی اٹھتا ہے تو الیکشن کمیشن کو ٹارگٹ بناتا ہے،اگر عدلیہ کو متنازعہ بنایا جاتا رہا تو پھر یہ ملک کیسے چلے گا،خطے کے حالات تبدیل ہورہے ہیں،35 ممالک کے اتحاد میں سابق آرمی چیف اتحاد کی سربراہی کر رہے ہیں اور وہ اتحاد قطع تعلق کر رہا ہے،ہماری کیا پوزیشن ہوگی،ایران کے ساتھ تعلقات کی کیا نوعیت ہے کیا ہم اس اتحاد کا حصہ ہوں گے کیا ہم ان کے فیصلوں کے پابند ہوں گے کیا ہم مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات ختم کریں گے،مسلم امہ کے ممالک کو اکٹھا کرنے میں ذوالفقار علی بھٹو نے کردار ادا کیا تھا،آج اس کردار کی ضرورت ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -