مہمند ایجنسی ،رمضان المبارک میں لوڈشیڈنگ کی انتہاء

مہمند ایجنسی ،رمضان المبارک میں لوڈشیڈنگ کی انتہاء

مہمند ایجنسی ( نمائندہ پاکستان) مہمند ایجنسی، رمضان المبارک میں بجلی لوڈ شیڈنگ میں بتدریج اضافہ۔ واپڈا اہلکار ملی بھگت سے بعض فیڈرز کو نواز رہے ہیں۔ بعض علاقے کئی روز بجلی سے محروم۔ مساجد میں وضو کے پانی ناپید ، لوگ پانی کے بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ رواں بجلی میں وولٹیج میں اُتار چڑھاؤ سے قیمتی الیکٹرانک اشیا جل جاتے ہیں۔ برف نہ ملنے سے غریبوں کے افطاری پھیکی پڑ گئی۔ تفصیلات کے مطابق مہمند ایجنسی میں رمضان المبارک کے شروعات کے ساتھ واپڈا نے بجلی فراہمی کا دورانیہ کم کر دیا ہے۔ سخت گرمی کے روزوں میں اکثر علاقوں کی بجلی کئی کئی روز تک منقطع رہتی ہے۔ جس سے رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں مساجد میں وضو کیلئے پانی نہیں مل رہی ہے۔ اور عوام پینے کے پانی کے بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ لوگ ہاتھ گاڑیوں، ٹپکو اور ٹینکروں کے ذریعے دور دور سے پانی لانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ بعض علاقوں میں فی پانی کا ٹینکر 1500 روپے تک پہنچ گیا ہے جو کہ غریب لوگوں کی بس کی بات نہیں ہے اور بعض علاقوں میں پرانے زمانے کی طرح مرد و خواتین گہرے کنوؤں سے ہاتھوں کے ذریعے پانی نکال کر اپنی ضرورت پوری کرتی ہے۔ ذرائع کے مطابق واپڈا اہلکار بعض فیڈرز کے صارفین سے گٹھ جوڑ کر کے ان کو پوری وولٹیج کی بجلی فراہم کرتے ہیں۔ واپڈا مہمند ایجنسی کی ناروا لوڈ شیڈنگ کے علاوہ رواں بجلی میں وولٹیج کی اُتار چڑھاؤ سے لاکھوں روپے کی قیمتی الیکٹرانک جل جاتے ہیں۔ جس سے برف کی کمی کی وجہ سے غریب لوگوں کی سحری و افطاریاں پھیکی پڑ گئی ہے۔ علاقے کے لوگوں اور فلاحی تنظیموں مہمند ویلفیئر آرگنائزیشن کے جنرل سیکرٹری بشیر خان اور مہمند یونین کے صدر ملک سلیم سردار نے پولیٹیکل انتظامیہ و دیگر ذمہ داران سے واپڈا مہمند ایجنسی کا قبلہ درست کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید : کراچی صفحہ اول