جامع مسجد ولی محمد 265 سالہ قدیمی‘ 1 ہزار نمازیوں کی گنجائش

جامع مسجد ولی محمد 265 سالہ قدیمی‘ 1 ہزار نمازیوں کی گنجائش

  

ملتان(سٹی رپورٹر)جامع مسجد علی محمد المعروف نواب ولی محمد مسجد چوک بازار ملتان 265سال پرانی مسجد ہے جو آج تک اپنی اسی حالت میں موجو د ہے جس طرح اس کی بنیاد رکھی گئی تھی مسجد کی مذکوری خوبصورت نکاشی فن تعمیر کی حامل ہے مسجد 1757میں نواب علی محمد خان خاکوانی نے تعمیر کروائی جو(بقیہ نمبر5صفحہ12پر )

کہ اس وقت گورنر ملتان تھے مسجد میں اب بھی نماز کے لئے بڑا ہال اور وضو کے لئے مؤثر انتظامات موجود ہیں سکھوں کے دور میں یہ مسجد ناظم کی عدالت کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے جبکہ مسجد کے بڑے ہال میں سکھوں کی مذہبی کتاب گرنتھ کو بھی رکھا گیاتھا جو کہ سکھوں کی مذہبی علامت تھی انگریز دور حکومت میں مسلمانوں نے اس مسجد کو سکھوں کے قبضے سے آزاد کرایا گیا اور دوبارہ سے مسجد کی شکل میں تبدیل کرکے اس کو عبادت کے لئے استعمال کیا جانے لگا جو کہ آج تک جاری ہے مسجد مذکورہ کا موجود انتظام اور انسرام محکمہ اوقاف سرکل نمبر 1کے کے سپرد ہے جہاں محکمہ اوقاف کی جانب سے مرکزی مسجد کی اہمیت کے حوالے سے ایک سینئر خطیب ، ایک نائب خطیب ، امام مسجد ، مدرس،مؤ ذن ، اور صفائی کے یک خادم مقرر کیا گیا ہے مسجد سے ملحقہ 64عدد دکانات موجود ہیں جس میں اکثر تہہ خانے کی شکل میں ہیں ، وہی دکانات محکمہ اوقاف کے لئے ذرائع آمدن ہیں جس سے عملہ و بلوں کی ادائیگی کی جاتی ہے محکمہ اوقاف کی جانب سے کسٹوڈین آٖف پراپرٹی ڈسٹرکٹ آفیسر اوقاف سرکل نمبر 1سید ایاز گیلانی ہیں جبکہ مسجد کے خطیب مولانا محمد شفقت ہیں مسجد کی دیواروں پر آج بھی فارسی میں اشعار تحریر ہیں جو کہ درج ذیل ہیں ملتان ما بجنت اعلی برابر ست۔۔۔۔آہستہ پابنبہ کہ ملک سجدہ می کند \\\\\\\ملتان ہے وہ گہوارہ ارشاد و ہدایت ۔۔۔۔ہر دور میں ٹوٹا جہاں جہل کا ہر بند،،،،تحریر ہیں جامع مسجد نواب علی محمد المعروف نواب ولی محمد دوکینال سے زائد رقبہ پر موجو دہے جس میں یک ہزار سے زائد نمازیوں کی گنجائش موجود ہے مسجد میں ہر سال شب بیدار ی عید میلا دالنبی ، محرم الحرام کے موقع پر اجتماعات بھی منعقد کئے جاتے ہیں جس میں ملک کے معروف علماء کرام خطاب کرتے ہیں ۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -