فنڈز مختص کرنا کافی نہیں‘ درست استعمال کی بھی ضرورت ہے‘ وسیم اختر

فنڈز مختص کرنا کافی نہیں‘ درست استعمال کی بھی ضرورت ہے‘ وسیم اختر

  

بہاولپور (بیورورپورٹ) پنجاب اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر سید وسیم اختر نے مطالبہ کیا ہے کہ بہاولپور صوبہ بحال کیا جائے تا کہ بہاولپور کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ کیا جا سکے ۔انہوں نے سرکلر روڈ بہاولپور پر وکٹوریہ ہسپتال کے باہر حکومت کی جانب سے (بقیہ نمبر28صفحہ12پر )

فلائی اوور بنانے کا وعدہ پورا کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ پیش کر دینا اور فنڈز مختص کر دینا ہی کافی نہیں بلکہ ان فنڈز کے استعمال کی مانیٹرنگ کے ساتھ عوام کو یہ بتانے کی بھی ضرورت ہے کہ ان فنڈز کا استعمال کہاں کیا گیا۔انہوں نے اسلامی شرعی عدالت کے فیصہ اور آوین پاکستان کے آرٹیکل 20 اے کے تحت ملک میں سودی نظام کے خاتمہ اور تمام تر امور مملکت کو اسلامی دائرہ کے اندر لانے کا بھی مطالبہ کیا۔ وہ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں بجٹ 2017-18ء پر بحث کر رہے تھے ۔ ڈاکٹر سید وسیم اختر نے کہا کہ قرآن پاک نے سود کو اللہ اور اس کے رسولﷺ سے جنگ قرار دیا ہے جبکہ 1973 کے آوین کے آرٹیکل 20 اے میں کہا گیا ہے کہ سال سال کے اندر تمام قواعد و ضوابط کو اسلامی بنایا جائے گا اور پھر1991و میں وفاقی شرعی عدالت نے سودی معیشت کے خاتمہ کا فیصلہ دیا جس کے خلاف حکومت نے سپریم کورٹ سے حکم امتناعی لے رکھا ہے انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی بہاولپور کو بطور صوبہ بحال کرنے اور جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی قرار دادیں منظور کر چکی ہے اس لئے بہاولپور صوبہ کو بحال کر کے وعدہ پورا کیا جائے انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے بجٹ میں سکول ایجوکیشن کے لئے 47873 ملین بجٹ مختص کیا گیا جبکہ 88 ملین فارن ایڈ کی مد میں بھی آیا لیکن 30 اپریل 2017 ء تک 20650 ملین روپے خرچ ہو سکے ۔ اس طرح 50 فیصد بجٹ بھی استعمال نہ ہو سکا۔ صحت کے لئے 24500 ملین روپے مختص ہوئے، خرچ 10107 ملین روپے ہوئے صرف 36 فیصد بجٹ خرچ ہوا ۔پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ کا بھی صرف 41 فیصد بجٹ استعمال ہو سکا ہے ۔آبپاشی کے لئے کل بجٹ کا صرف 54 فیصد خرچ ہوا ، زراعت کے بجٹ کا 30 اپریل 2017 تک 62 فیصد استعمال ہوا۔ فوڈ کے بجٹ کا 39 فیصد استعمال ہو سکا۔ انہوں نے وزیر خزانہ سے سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 10 فیصد کی بجائے 15 فیصد اضافہ کرنے، ٹیکنیکل ملازمین کو اپ گریڈ کرنے اور محکمہ صحت کے مختلف کیڈر کے ملازمین کو بھی اپ گریڈ کیا جائے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -