بداخلاقی کا شکار 13 سالہ بچی کو تاحال انصاف نہ مل سکا

بداخلاقی کا شکار 13 سالہ بچی کو تاحال انصاف نہ مل سکا

  

ملتان(وقائع نگار)خواتین پولیس اسٹیشن میں13سالہ بچی کو تاحال انصاف نہ مل سکا،مقدمہ درج کرنے کے ایک ماہ بعد بھی خاتون تفتیشی آفیسر مختلف حیلے بہانے بناکر ملزم کو بے گناہ تحریر کرنے پر تل گئی،سی پی او ملتان نے حصول انصاف کیلئے آنے والی متاثرہ بچی کی والدہ کی درخواست پر پولیس سے چار دن کے اندر رپورٹ طلب کرلی ہے۔اس بارے میں معلوم ہوا ہے کہ مظفر آباد کی رہائشی نسرین بی بی(بقیہ نمبر9صفحہ12پر )

نے خواتین پولیس اسٹیشن میں درخواست دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ28اپریل2017ء کو اسکی بیٹی غلام فاطمہ عرف سونو بعمر13سال اور9سالہ سلمان حیدر شاہ کے گھر قرآن مجید پڑھنے گئے جو کافی دیر گزرنے کے بعد واپس نہ آئے،ان کا پتہ کرنے کیلئے جب حیدر شاہ کے گھر گئی،اندر داخل ہوئی تو دیکھا کہ بیٹی کو حیدر شاہ بداخلاقی کا نشانہ بنارہا ہے۔سائلہ کو دیکھ کر اسلحہ کے زور پر دھمکیاں دینے لگا۔سارا وقوعہ محمد رفیق اور محمد اعجاز کو بتلایا،جس پر مقدمہ درج ہوا۔مقدمہ کی تفتیش رضیہ نامی سب انسپکٹر کو سونپی گئی اس دوران مذکورہ ملزم نے عبوری ضمانت کروالی،تقریباً1ماہ گزرنے کے باوجود ملزم کے خلاف تفتیش نہ کی گئی۔متاثرہ بچی کی والدہ نے حصول انصاف کیلئے سی پی او ملتان کا دروازہ کھٹکھایا،سی پی او ملتان نے خواتین پولیس اسٹیشن کی پولیس سے چار دن کے اندر پراگرس رپورٹ طلب کرلی ہے جبکہ متاثرہ بچی کی والدہ نسرین کا کہنا ہے کہ رضیہ سب انسپکٹر ملزم کے ساتھ ساز باز ہوکر اس کو مقدمہ میں بے گناہ تحریر کرنا چاہتی ہے،جو سراسر زیادتی ہے۔اس بارے میں جب خواتین پولیس اسٹیشن کی سب انسپکٹر رضیہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا ہے کہ ملزم بے گناہ گناہ ہے لیبارٹری میں بھجوائے گئے نمونے کے رزلٹ آنا ابھی باقی ہیں،سردست ملزم کی مثل میں گرفتاری زیر التواء رکھ کر چالان مرتب کیا جائے گا،نمونوں کا رزلٹ آنے پر حقائق کی روشنی میں مزید مقدمے کو یکسو کیا جائے گا۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -