کوٹ چھٹہ: 21لاکھ واپسی سے انکار ‘ سماجی کارکن ہارٹ اٹیک سے چل بسا

کوٹ چھٹہ: 21لاکھ واپسی سے انکار ‘ سماجی کارکن ہارٹ اٹیک سے چل بسا

  

کوٹ چھٹہ( نمائندہ پاکستان ) کوٹ چھٹہ کے رہائشی ساٹھ سالہ سماجی کارکن ماما شوکت حسین جو عرصہ قبل کوٹ چھٹہ سے اہل خانہ کے ہمراہ ملتان شفٹ ہوگیا تھا اسی دوران کوٹ چھٹہ کے شہر ی راشد صدیقی نامی نوجوان نے کوٹ چھٹہ احمد ٹاؤن کے نام سے رہائشی سکیم شروع کی اور ماما شوکت حسین سے امداد کے نا م پر رقم قرض مانگی اپنا عزیز سمجھ کر (بقیہ نمبر11صفحہ12پر )

سماجی کارکن ماما شوکت حسین نے اپنی جمع پونجی کے ساتھ ساتھ ملتان کے دوستوں سے بھی تقریباََ اکیس لاکھ روپے کی رقم اکٹھی کر کے راشد صدیقی کو دے دی واپسی کی مقررہ معیاد گزرنے کے بعد جب شوکت حسین نے راشد صدیقی سے رقم کا تقاضہ کیا تو وہ پہلے آج کل پر ٹالتا رہا پھر آخر کار ایک روز راشد صدیقی نے دینے سے صاف انکار کردیا تو یہ سن کر صدمہ سے سماجی کارکن ماما شوکت حسین کو دل کا دورہ پڑ گیا جو ہسپتا ل لے جانے تک جانبر نہ ہوسکا اور خالق حقیقی سے جا ملا ۔مرحوم کی بیوی کئی کوٹ چھٹہ آکر قرض رقم کا تقاضہ کر کے تھک گئی ہے مرحوم کے بیٹوں نعمان شوکت ،کامران شوکت ،ذیشان شوکت ،علی رضا وغیرہ نے قرض کی رقم ڈکارنے اور والد کی مو ت کا سبب بننے والے کوٹ چھٹہ کے فراڈیا راشد صدیقی کے خلاف پولیس حکام سے قتل عمد کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -