پنجاب اسمبلی ، اپوزیشن ا وزیر اعلٰی کو ’’شو باز شریف ‘‘ کہنے پرحکومتی ارکان کا ہنگامہ ، عمران ’’چرسی ‘‘ کے نعرے

پنجاب اسمبلی ، اپوزیشن ا وزیر اعلٰی کو ’’شو باز شریف ‘‘ کہنے پرحکومتی ...

لاہور(نمائندہ خصوصی) پنجاب اسمبلی میں گزشتہ روز بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نوک جھونک جاری رہی،تحریک انصاف کی رکن نبیلہ حاکم کی جانب سے وزیراعلیٰ کو ’’شوبازشریف‘‘کہنے پر ہنگامہ،حکومتی خواتین بھی عمران ’’چرسی‘‘ کے نعرے لگاتی رہیں، پیپلزپارٹی نے جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کردیا،خواجہ نظام نے ترقیاتی بجٹ نہ رکھنے پر تونسہ شریف کو بلوچستان میں شامل کرنے کی درخواست کردی ۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس قائم مقام سپیکر سردار شیر علی گورچانی کی زیر صدارت معمول کے مطابق چالیس منٹ تاخیر سے شروع ہوا۔بجٹ پر عام بحث میں حصہ لیتے ہوئے تحریک انصاف کے رکن میاں اسلم اقبال نے کہا ہے کہ عدالت عظمیٰ نے حکومت کو سسلین مافیا اور گاڈ فادر کے الفاظ سے نوازا ہے جو حکومت کیلئے شرمندگی اور ڈوب مرنے کا مقام ہے، حکمران گزشتہ 30سال سے پنجاب پر مسلط ہیں جو ملک میں ایک بھی ایسا ہسپتال نہیں بنا سکے جہاں وہ خودعلاج کراسکیں، انہیں چھینک بھی آجائے تو بیرون ملک جا کر علاج کراتے ہیں جبکہ عمران خان کو چوٹ آئی تو انہوں نے اپنا علاج پاکستان میں ہی شوکت خانم سے کرایا تھا، چور اور ڈاکو بجٹ بناتے ہیں ،جاتی امراء کے محلات کے تحفظ کیلئے70کروڑ کی لاگت سے چار دیواری کی جاتی ہے جو ریڑھی والوں کے خون پسینے کی کمائی تھی لیکن غریبوں کو پینے کا صاف پانی تک نہیں مل رہا ،اپنی پراپرٹی مہنگی کرنے کیلئے رنگ روڈ سمیت اور ہر وہ سڑ بنائی جا رہی ہے جو جاتی امراء کو جاتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایک جے آئی ٹی اسلام آباد میں چل رہی ہے اور دوسرے ماڈل ٹاؤن سانحہ کی ،جہاں 14بے گناہ افراد کا قتل شریف برادارن کے گلے کا پھندابنے گا۔تحریک انصاف کی رکن نبیلہ حاکم علی نے کہا 2013کے الیکشن سے قبل شہباز شریف نے کہاتھا کہ اگر چھ ماہ میں لوڈشیڈنگ ختم نہ کردو ں تو میرا نام بدل دینا اس لئے پی ٹی آئی نے ان کانام بدل کر’’شو باز شریف‘‘رکھ دیا ہے،مالی سال 2017-18کا بجٹ بھی الفاظ کا گورکھ دھندہ ہے،اس میں غریب کیلئے کچھ بھی نہیں جبکہ تمام سہولیات امیروں کیلئے رکھی گئی ہیں۔ تحریک انصاف کے رکن شعیب صدیقی نے کہا کہ کبھی کوئی تجویز بجٹ کا حصہ نہیں بنی ۔تحریک انصاف کی رکن نوشین حامد نے کہا کہ پنجاب میں 70فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہر پانچوا ں شخص ہیپاٹائٹس کا شکا ر ہے ۔پیپلزپارٹی کے سردار شہاب الدین نے کہا لاہور کیلئے بجٹ سے قبل جو سکیمیں دی جاتی ہیں ان کیلئے فنڈز مختص کردیے جاتے ہیں لیکن جنوبی پنجاب کی دی گئی سکیموں میں سے ایک بھی سکیم بجٹ کا حصہ نہیں بن پاتی،چوک لیہ کا منصوبہ گزشتہ پانچ سال سے زیر التواء ہے اس کیلئے بھی بجٹ نہیں رکھا گیا،موجودہ حکومت نے گزشتہ دس سال سے جنوبی پنجاب کیلئے کوئی بڑا پراجیکٹ نہیں رکھا اس لئے وہاں کی عوام میں احساس محرومی پیدا ہو رہا ہے اور اگر حکمرانوں نے یہی رویہ رکھنا ہے تو جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنا دیا جائے تاکہ ہم اپنے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے وہاں ترقیاتی منصوبوں تو مکمل کر سکیں۔پیپلز پارٹی کے رکن خواجہ نظام نے کہاتونسہ شریف میں چار برسوں کے دوران کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا،میرے علاقے میں جانور اور انسان اکٹھے پانی پیتے ہیں،ایک نہر ہے وہ بھی عرصے سے بند پڑی ہے،حکومت کی جانب سے ہر سال تعلیم اور صحت کیلئے اربوں روپے کے بجٹ رکھے جاتے ہیں لیکن تونسہ شریف میں کوئی سکول اور ہسپتال بھی نہیں ہے،اگر ہمارے ساتھ یہی سلوک ہونا ہے تو تونسہ شریف کو بلوچستان کے ساتھ ملا دیں۔جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر سید وسیم اختر نے کہا پاکستان کے آئین کے مطابق سود حرام ہے، پنجاب حکومت کو سود کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنا ہونگے،حکومت ہر سال وہی بجٹ پیش کر دیتی ہے لیکن ہربجٹ میں جو فنڈز کی خوردبرد کی جاتی ہے ان حساب کوئی نہیں دیتا۔ انہو ں نے کہاکہ بہاولپور صوبہ بحال اور جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنایا جائے جس کے وزیر اعلیٰ موجودہ قائم مقام سپیکر سردا رشیر علی گورچانی ہو ں ،بجٹ پر عام بحث میں لیگی رکن امجد علی جاوید،شمیلہ اسلم، آصف باجوہ ،چودھری اقبال ، شہزاد منشی ،شاہین اشفاق ،رانا لیاقت علی،آصف محمود ، حنا پرویز بٹ ،رقاص حسن موکل ، لبنی ریحان ،سعدیہ سہیل رانا جاوید اختر تیمور مسعود ،نجمہ بیگم،نگہت شیخ،نبیلہ عندلیب ،زیب النساء سمیت دیگر نے حصہ لیا ۔قائم مقام سپیکر نے اجلاس آج صبح 11بجے تک ملتوی کردیا۔

پنجاب اسمبلی

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر