رمضان بازاروں میں ناقص اشیاء کی فروخت،ایک کلو چینی کیلئے روزہ دار خوار

رمضان بازاروں میں ناقص اشیاء کی فروخت،ایک کلو چینی کیلئے روزہ دار خوار

وہاڑی،کوٹ ادو،راجن پور(نمائندگان)سستا رمضان بازاروں میں ناقص اشیائے خوردونوش کی فروخت ایک کلوچینی کیلئے روزہ داروں کی تذلیل معمول بن گئی اس سلسلے میں وہاڑی سیج بیورو رپورٹ،نامہ نگار کے مطابق وہاڑی سستارمضان بازار میں ناقص آٹا کی فروخت جاری ، انتظامیہ مبینہ طور پر خا مو ش ، خریداروں کی طرف سے عدم اطمینان کا اظہار، وہاڑی کے شہریوں کا کہنا ہے کہ سستا رمضان (بقیہ نمبر35صفحہ7پر )

بازار کی جتنی سہولت ہونا چا ہیے تھی وہ نہیں مل رہی ہے جبکہ رمضان بازار میں فروخت ہونے والے آٹا کا معیار انتہا ئی نا قص ہے اور آٹا میں نمی پا ئی جا تی ہے اس کے علاوہ جب روٹی بنا ئی جاتی ہے تو روٹی سیاہ ہو جاتی ہے شہریوں کاکہنا ہے کہ عوام کو ریلیف دینا ہے تو چیز یں تو معیاری فراہم کی جا ئے۔کوٹ ادو سے تحصیل رپورٹر کے مطابق روزہ داروں کیلئے لگائے گئے سستے رمضان بازار عوام کو سہولیات دینے میں نا کام ہو گئے ہیں،اقبال پارک کوٹ ادو میں لگائے گئے رمان بازار میں روزہ داروں کی تذلیل معمول بن گئی ہے،رمضان بازار میں چینی دینے والے ٹھیکیدار کے کارندوں نے ایک کلو سے زائد چینی دینا بند کر دیا ہے،شیڈول میں2کلو چینی درج ہونے کے با وجود4روزبعد روزہ داروں کو سارا دن گرمی اور دھوپ میں لائنوں میں کھڑا کرنے کے بعد ایک کلو چینی دی جانے لگی جبکہ شناختی کارڈ کی شرط ہونے پر دور دراز سے بھاری کرائے بھر کر چینی لینے کیلئے آنے والے روزہ دار شناختی کارڈ نہ ہونے پر ایک کلو چینی سے بھی محروم خالی ہاتھ واپس گھروں کو لوٹنے لگے۔راجن پور سے ڈسٹرکٹ رپورٹر کے مطابق عوامی وشہری حلقوں کا کہنا ہے کہ حکو مت پنجاب کی طرف سے رمضان بازاروں میں سہولیات اور ریلیف فراہم کر نے کے نام پر اربوں روپوں کی سبسڈی فراہم کئے جانے کے دعوے کئے جارہے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ناقص کوآلٹی کی اشیاء کی فروخت کئے جانے کی وجہ سے رمضان بازار راجن پور خالی پڑا ہوا ہے خریدارادھر کارُخ نہیں کرتے وہ باہر کی مارکیٹوں سے اچھی کوآلٹی کی اشیاء خرید کر گھروں کوواپس چلے جاتے ہیں ادھر انتظامی آفیسران بھی ایگر ی شاپس کی اشیاء چیک ہی نہیں کرتے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر