عابد شیر علی اور وسیم اختر بچوں کی طرح روتے رہتے ہیں: وزیر اعلیٰ سندھ

عابد شیر علی اور وسیم اختر بچوں کی طرح روتے رہتے ہیں: وزیر اعلیٰ سندھ

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے پانی وبجلی کے وزیرمملکت عابد شیرعلی کوبچہ قراردیتے ہوئے کہاہے کہ مئیرکراچی وسیم اختربھی بچوں کی طرح روتے رہتے ہیں ،میئرکراچی نے بجٹ پڑھے بغیرفنڈز نہ ہونے کا دعوی کردیا ، بجٹ میں کے ایم سی کے فنڈز دکنے کردیے گئے ہیں۔ انہوں نے جناح اسپتال کے کینسروارڈ کے لیے سات سوملین روپے کی خصوصی گرانٹ کا بھی اعلان کیا۔ وزیراعلی سندھ نے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹرکراچی کا دورہ کیا، وزیر اعلی سندھ نے جے پی ایم سی میں صوبائی محکمہ صحت اور پیشنٹ ایڈ فانڈیشن(پی اے ایف)کے باہمی تعاون سے قائم کی جانے والی سائیکلو ٹرون (Cyclotron)اور پیٹ سی ٹی کی سہولیات کا افتتاح کیا۔ انہوں نے اس کامیاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت قائم نئے سائکلو ٹرون ، سائبر نائف روبوٹک سرجری ، ریڈیولوجی کے مختلف حصوں کا معائنہ بھی کیا ۔ اس موقع پر ریڈیو لوجی کے کانفرنس روم میں وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت ایک رسمی اجلاس بھی منعقد ہوا ۔ اجلاس میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر سکندر میندرو ، وزیر اعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری سہیل راجپوت ، چیئر مین پی اے ایف زاہد بشیر ، چیئر ایگزیکٹیو کمیٹی مشتاق چھاپرا، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی، شبیر دیوان ، پیر محمد دیوان اور پی اے ایف کے دیگر اراکین نے شرکت کی ۔ اس موقع پر پروفیسر طارق محمود نے پی اے ایف کی جانب سے فراہم کی جانے والی موجودہ سہولیات اور جے پی ایم سی کراچی کی مستقبل کی ضروریات کے حوالے سے پریزنٹیشن دی۔انہوں نے بتایا کہ جے پی ایم سی میں کینسر کے لیے ایک 12منزلہ ٹاور تعمیر کیاجارہا ہے جس میں مفت کینسر کے تمام اقسام کے علاج اور تشخیص کی سہولت میسر ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کی مجموعی لاگت 6 بلین روپے ہے جس میں سے آدھے پی اے ایف نے سول ورکس کاموں کے لیے اہتمام کیا ہے جبکہ بقایا 3بلین روپے کے لیے حکومت سندھ سے درخواست کی گئی۔ وزیر اعلی سندھ کو بتایا گیا کہ او پی ڈی اور سرجیکل کمپلیکس بھی تکمیل کے قریب ہیں۔ سندھ حکومت نے رواں سال کے بجٹ میں آلات کی خرید اری کے لیے 425ملین روپے مختص کیے ہیں اور یہ 8آپریٹنگ تھیٹرکے کمپلیکس کے آلات اور دیگر ضروریات کے لیے کافی ہوں گے۔پی اے ایف کوٹاپ فلورپر 10آپریٹنگ تھیٹر کے آلات اور اسے مکمل کرنے کے لیے 7 سو ملین روپے کی مزید ضرورت ہوگی۔ وزیر اعلی سندھ نے پی اے ایف کی کاوشوں بالخصوص زیر تعمیر سرجیکل اور او پی ڈی کمپلیکس کو سراہا اور او پی ڈی اور سرجیکل کمپلیکس کے لیے اضافی 7ملین روپے اور جے پی ایم سی میں کینسر کے ادارے کے لیے سال 2018-2020 کے لیے 3بلین روپے کی منظوری دی۔ مشتاق چھاپرا نے وزیر اعلی سندھ کے اس بڑے فیصلے اور اعلانات جو کہ انہوں نے سندھ کے لوگوں کی بہتری کے لیے کیے ہیں کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ان کی قیادت میں سندھ کے لوگوں کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی کے لیے تندہی کے ساتھ کوشاں ہے۔وزیر اعلی سندھ نے پروفیسر طارق کو اس کینسر کے ادارے کو سیٹلائٹ یونٹس کے ذریعے صوبے کے دیگر حصوں تک خدمات کو توسیع دینے کی ہدایت کی۔ بعد ازاں جے پی ایم سی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹرنے وزیر اعلی سندھ کو شیلڈ بھی پیش کی۔بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ مئیرکراچی وسیم اخترنے بجٹ پڑھے بغیرکیسے دعوی کردیا کہ کراچی میونسپل کارپوریشن کے لیے فنڈزمختص نہیں کیے گئے وہ پہلے بجٹ کا مطالعہ کریں پھردعوے کریں حکومت سندھ نے کے ایم سی کا فنڈ ڈبل کردیا ہے۔ وزیراعلی سندھ کا کہنا تھا کہ عابد شیرعلی بچوں جیسی حرکت کرتا ہے سندھ نے بجلی کے تمام بقایا جات ادا کردیے ہیں ،وزیرمملکت ہمیں چورکہے یا کچھ اورمیں کئی بارواضح کرچکا ہوں کہ ہماری طرف کوئی بقایا جات نہیں ہیں۔ انہون نے کہاکہ جناح اسپتال پاکستان کا ہی نہیں بلکہ دنیا کی واحد جگہ ہے جہاں پر ایک ٹیکنالوجی جسے سائبر نائف کہا جاتا ہے وہ مفت فراہم کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سہولت پاکستان میں اور کہیں پر بھی نہیں ہے بلکہ بحرین ،دبئی ،اومان میں بھی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مہنگا علاج ہے اور ایک مریض کے علاج پر 50لاکھ سے لے کر ایک کروڑ روپے تک خرچ ہوتے ہیں جو کہ مریض کی استطاعت سے باہر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سندھ حکومت اور نجی شعبے کی شراکت کی بہترین مثال ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 12ممالک سے مریض پاکستان آچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت زیرعلاج مریضوں میں 44فیصد مریض سندھ کے ہیں اور 34فیصد پنجاب سے ہیں اور بقایا خیبرپختونخواہ اور بلوچستان سے ہیں جبکہ 5فیصد مریض مختلف ممالک سے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے آج مریضوں کی فانڈیشن سے اجلاس کیا ہے ان کا 6ارب روپے کی ایک اور سہولت بنانے کاپلان ہے اور اس چھ ارب روپے کی سہولت سے ایسے 12یونٹس بنے گے،جس میں ہر قسم کی سہولت ہوں گی اور ایک ہی جگہ پر 12منزلہ عمارت تعمیر کرنا چاہ رہے ہیں جس میں کینسر کے ہر علاج کی سہولت ہوگی اور اس پر چھ ارب روپے کی لاگت آئے گی۔انہوں نے کہا کہ اور مریض فانڈیشن نے کہا ہے کہ تین ارب روپے وہ خود ڈونیٹ کرکے خرچ کرچکے ہیں اور میں نے سندھ حکومت کی جانب سے ریکمنڈ کیا ہے کہ یہ ادارہ جو کہ تین سال میں تعمیر ہوگا کے لیے سندھ حکومت تین ارب روپے دے گی ۔انہوں نے کہا کہ او پی ڈی کی سہولت 25سو مریضوں کے لیے بن رہی ہے اور اس کی تمام عمارت نجی شعبے نے تعمیر کی ہے اور اس پر 2.1بلین روپے لاگت آئی ہے اور اس میں ایک ارب 40کروڑ روپے سندھ حکومت دے رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ساڑھے 4 سوملین میں سے 100 ملین دے چکے ہیں جبکہ ساڑھے 3سو ملین اس سال کے بجٹ میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باقی جو ضروریات ہیں وہ جون 2018 تک دیں گے اور جو کمنٹمنٹ میں نے کی ہے وہ دسمبرتک پوری ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت اور نجی شعبے کی شراکت کی ایک بہترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے پی ایم سی جس طرح پہلے ہوتا تھا اس میں اب کافی فرق نظر آئے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کے ایم سی کا بجٹ پہلے زیادہ بڑھایا گیاتھا ۔ کے ایم سی کی جو 317اسکیمیں 4 سال میں مکمل ہونا تھی ان کی پوری فنڈنگ اسی سال کردی ہے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس سب سے بڑا مسئلہ انسانی وسائل کا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اسپتالوں میں نرسیں موجود ہیں لیکن ڈاکٹرز کی کمی ہے جو کہ ایک بڑا مسئلہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کل بھی یہ اعلان کیا تھا کہ ساڑھے 5سے 6ہزار نئے ڈاکٹر پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں سب سے زیادہ ہیومن ریسورس میں سرمایہ کاری کرنا چاہتاہوں کیونکہ ہمارے پاس عمارتیں بھی ہیں آلات بھی ہیں لیکن جب تک ہیومن ریسورس نہیں ہوگا تو کچھ بھی نہیں ہوسکے گا۔انہوں نے کہا کہ اسکول بند ہیں اس لیے کہ اس میں اساتذہ نہیں ہیں اور اسپتال بند ہیں اس لیے کہ اس میں ڈاکٹرز نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ڈاکٹرز ہائیر کرلیے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنا سارا کام شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے نام پر کرتے ہیں اور ہم ا ن ہی کی بدولت حکومت میں ہیں۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -