ایرانی پارلیمنٹ : امام خیمنی کے مزار پر حملہ ، 13جاں بحق 42زخمی

ایرانی پارلیمنٹ : امام خیمنی کے مزار پر حملہ ، 13جاں بحق 42زخمی

تہران( ماانیٹرنگ ڈیسک 228 ایجنسیاں) چار دہشت گردوں کے ایرا نی پارلیمنٹ حملے اور انقلابی رہنما آیت اللہ خمینی کے مقبرہ پرخود کش دھماکے کے نتیجے میں 2 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 12افراد جاں بحق اور42 زخمی ہو گئے ۔ایرانی سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرکے چاروں حملہ آوروں کو ہلاک کردیا ہے۔پارلیمنٹ پر حملہ کرنے والے خواتین کے کپڑوں میں ملبوس تھے، داعش نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ایرانی و غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آوروں نے کچھ افراد کو یرغمال بنا رکھا تھا ۔ تازہ اطلاعات کے مطابق پارلیمنٹ پر حملہ ختم ہو گیا ، تمام حملہ آور ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ آیت اللہ خمینی کے مقبرہ پر ہونے والا حملہ خود کش تھا۔ایرانی حکام نے دعوی کیا ہے کہ انھوں نے تیسرا حملہ ناکام بنا دیا ،ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پارلیمنٹ پر حملہ کرنے والے چاروں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا ۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ حملے میں ہلاک ہونے والے 12 افراد میں حملہ آور بھی شامل ہیں یا نہیں،اس حملے میں دو سکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے۔اطلاعات کے مطابق پارلیمنٹ کی عمارت پر حملے کے وقت ہی تہران کے جنوبی علاقے میں واقع آیت اللہ خمینی کے مزار پر کم از کم تین حملہ آوروں نے حملہ کیا۔نیم سرکاری خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ان میں سے دو نے زائرین پر فائرنگ کی جبکہ تیسرے نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا یا۔ ارنا نے پارلیمنٹ کے سپیکر علی لاریجانی کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ معمولی واقعات ہیں دہشت گردوں کو سزا دی جائے گی۔حملے کے باوجود جاری رہنے والے پارلیمنٹ (مجلس)کے اجلاس کے بعد انھوں نے کہا جیسا آپ جانتے ہیں کہ بزدل دہشت گردوں نے عمارت میں گھسنے کی کوشش کی اان سے سختی سے نمٹا گیا ہے۔ گو یہ معمولی واقعات ہیں تاہم اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گرد مسائل پیدا کرنا چاہتے ہیں۔سکیورٹی فورسز ان کے خلاف اقدامات کریں گی اور اللہ نے چاہا تو یہ مسئلہ جلد حل ہو جائے گا۔آیت اللہ خمینی کے مقبرہ کے افسرِ تعلقاتِ عامہ علی خلیلی نے بتایا ہے کہ ایک مسلح شخص نے خود کو مقبرہ کے باہر واقع بینک کے سامنے دھماکے سے اڑایا فارس نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ کرنے والی ایک عورت تھی۔ایران کی لیبر نیوز ایجنسی کے مطابق سکیورٹی فورسز نے دو حملہ آوروں کو حراست میں لیا گیاہے۔ایرب نیوز ایجنسی نے پارلیمنٹ کے ایک رکن الیاس حضراتی کے حوالے سے کہا ہے کہ پارلیمنٹ پر متعدد افراد نے حملہ کیا جنہوں نے کلاشنکوفیں اٹھا رکھی تھیں۔ اِسنا ایجنسی کے مطابق صبح 10:30 پر کئی مسلح افراد نے ایرانی پارلیمنٹ پر فائرنگ کر دی۔ ایجنسی نے ایک رکن پارلیمنٹ کے حوالے سے بتایا کہ حملہ آور گروپ 4 مسلح افراد پر مشتمل تھا جنہوں نے پارلیمنٹ میں داخل ہو کر وہاں موجود 4 پہرے داروں پر فائرنگ کی۔ اس کے نتیجے میں تین پہرے دار زخمی ہو گئے۔ مذکورہ رکن نے بتایا کہ مسلح افراد کا محاصرہ کر لیا گیا ۔اطلاعات کے مطابق بظاہر پارلیمنٹ اور ،قبرہ پر ایک ہی وقت میں حملہ ہوا۔ دوسری جانب دولتِ اسلامیہ (داعش)نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ شدت پسند تنظیم نے ایک ایسی ویڈیو نشر کی ہے جو ان کے مطابق پارلیمنت کی عمارت پر حملے کے دوران عمارت کے اندر سے بنائی گئی24 سیکنڈ کی اس ویڈیو میں ایک حملہ آور کو ساکن پڑے ایک شخص پر گولیاں چلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ویڈیو گروپ کی ویب سائٹ اعماق پر جاری کی گئی ہے۔ اس ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی۔اگر دولت اسلامیہ کے اس دعوے کو مان لیا گیا تو یہ اس کا ایران میں پہلا حملہ ہو گا۔پارلیمنٹ سے باہر ریکارڈ کی گئی ویڈیو میں شدید فائرنگ کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں اور ایسی اطلاعات ہیں کہ اس فائرنگ سے ایک محافظ ہلاک بھی ہوا ہے۔پاکستان نے ایرانی پارلیمنٹ اور امام خمینی کے مقبرہ پر دہشتگرد حملوں کی پر شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے عالمی سطح پر تعاون اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق پاکستان نے کہا ہے کہ ہم دکھ اس گھڑی میں ایرانی عوام کیساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔پاکستان نے دہشت گرد حملوں میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر ایرانی حکومت ،لواحقین اور عوام کیساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی ہے۔ ترجمان نفیس زکریا نے کہاکہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے جو ایک عالمی اور مشترکہ خطرہ ہے ٗدہشت گردی سے نمٹنے کیلئے عالمی سطح پر تعاون اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ایران میں موجود ہاکستانی سفارت خانے نے کہاہے کہ ایرانی حکام سے رابطے میں ہیں،پاکستانیوں سے متعلق باخبرہیں ٗایران میں مقیم تمام پاکستانی شہری، زائرین مکمل محفوظ ہیں، ایران میں دہشت گردی کے واقعات انتہائی قابل مذمت ہیں۔ایران میں پاکستانی سفارتخانے نے کہاکہ دہشت گردانہ واقعات قابل مذمت ہیں ۔ایران میں موجود پاکستانی شہریوں کی خیریت کے حوالے سے سفارتخانے کا کہنا ہے کہ مقبرہ امام خمینی پربھی کسی پاکستانی کونقصان پہنچنے کی اطلاع نہیں۔پاکستان کے تمام سفارتکاراورعملہ بھی بالکل خیریت سے ہیں، مقامی سیکیورٹی فورسز نے صورتحال پر قابو پا لیا ہے۔

ایران

مزید : ملتان صفحہ اول