جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستانی ٹیم کو عمدہ آغاز فراہم کرنے والا اوپنر فخر زمان دراصل کون ہے اور ٹیم تک کیسے پہنچا ؟تفصیلات جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستانی ٹیم کو عمدہ آغاز فراہم کرنے والا اوپنر فخر ...
جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستانی ٹیم کو عمدہ آغاز فراہم کرنے والا اوپنر فخر زمان دراصل کون ہے اور ٹیم تک کیسے پہنچا ؟تفصیلات جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

  

برمنگھم (ڈیلی پاکستان آن لائن ) قومی کرکٹ ٹیم کی جانب سے پہلے ہی میچ میں عمدہ پرفارمنس کا مظاہرہ کرنے والے فخرز مان کا تعلق خیبر پختونخواہ کے ضلع مردان کے چھوٹے سے گاﺅں کٹلانگ سے ہے جہاں وہ آسٹریلیوی کھلاڑی ایڈم گلکرسٹ کی طرح بڑا کھلاڑی بننے کے خواب دیکھتے تھے ۔فخر زمان بھی ایڈم گلکرسٹ کی طرح اوپننگ کر کے میدان میں چھکے چوکے مارنا چاہتے تھے لیکن اس سے پہلے کہ وہ اپنے خوابوں کا پیچھا کرتے ،فیملی کی جانب سے ان کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوتا گیا ۔2007میں فخر زمان کی فیملی کو شدید مالی تنگی کا سامنا کرنا پڑااورمحض 17سال کی عمر میں فخر زمان پر گھر کی کفالت کی ذمہ داری آگئی ۔فخر زمان پر ان کے گھر والوں نے پاکستان نیوی میں کام کرنے کے لیے ٹیسٹ دینے کا دباﺅ ڈالا،فخر زمان نے ٹیسٹ پاس کرلیا اور اسے پاکستان نیوی میں سیلر کے طور پر بہت اچھی نوکری بھی مل گئی لیکن فخر زمان بہت زیادہ خوش نہیں تھا ،ان کا کہنا تھا کہ جو میں کر رہا ہوں ،میں یہ نہیں کرنا چاہتا۔پاکستان نیوی میں فخر زمان نے ایک سال تک سخت محنت کی ،وہ صبح سویرے اٹھ کر میلوں لمبی دوڑ لگاتے ،پھر سکول جاتے اور شام کو سپورٹس میں بھی حصہ لیتے ۔ایک سال کی ٹریننگ کے بعد جوان سیلر (فخر زمان )کو مزید ٹریننگ کے لیے کراچی میں پی این ایس کارساز اور پی این ایس ہمالیہ میں بھیجا گیا ۔اس وقت صرف فخر زمان کو مزید ٹریننگ کے لیے کراچی بھیجا گیا جہاں سے ان کی زندگی تبدیل ہو گئی ۔پی این ایس کار ساز میں فخرز مان کی ملاقات پاکستان نیوی کرکٹ اکیڈمی کے کوچ ناظم خان سے ہوئی جس میں فخر زمان نے کوچ کو اپنی خواہش کے بارے میں بتا یا اور کوچ نے انہیں خوش آمدید کہا ۔

ناظم خان نے بتا یا کہ میں نے میچ سے پہلے فخر زمان سے پوچھا وہ کیا کرتا ہے ؟جس پر فخر زمان نے کہا کہ میں اوپننگ بیٹنگ کرتا ہوں ، ناظم خان نے بتا یا کہ اس میچ میں فخر زمان نے سنچری مار کر میری آنکھیں کھول دیں ۔اس کے بعد ناظم خان نے کراچی میں نئے ٹیلنٹ کو پرموٹ کرنے والے اعظم خان سے فخر زمان کے حوالے سے بات کی ۔فخر زمان نے اعظم خان کو بھی انڈر 19کے ایک میچ نصف سنچری مار کر اپنا مداح بنا لیا ۔اس کے بعد اعظم خان قائل ہوگئے کہ فخر زمان نوکری سے بہتر کرکٹ کھیل سکتے ہیں ،انہوں نے ادارے میں درخواست دی کہ فخر زمان کو سیلر کی نوکری سے فارغ کر کے انہیں پرو فیشنل سپورٹس مین کے طور پر نوکری دیں ۔اس فیصلے پر فخر زمان کا خاندان تشویش میں تھا لیکن اعظم خان نے انہیں بھی منا لیا ۔درخواست منظور ہو گئی اور فخر زمان نے 2008میں پاکستان نیوی میں بطور پیشہ ور سپورٹس مین شمولیت اختیار کر لی ۔پاکستان نیوی میں فخر زمان کے کنٹریکٹ پر اسپیشل کلاز لگائی گئی جس کے تحت اگر فخر زمان کرکٹ گریڈ میں فیل ہوئے تو انہیں واپس سیلر کے طور پر کام کرنے کی اجازت دی گئی ۔فخر زمان نے فرسٹ کلا س کرکٹ کھیلنے سے پہلے انڈر 19اور انڈر23کرکٹ کھیلی ۔فخر زمان نے کوچ ناظم خان نے بتا یا کہ وہ بہت زیادہ محنت کرتے تھے اور کئی کئی گھنٹوں پریکٹس سیشن میں وقت گزارتے۔اس مشکل وقت میں جب فخر زمان اچھی کاکردگی نہیں دکھاتے تو بہت مایوس ہو جاتے تھے لیکن ان کے کوچ اعظم خان ہمیشہ ان کا حوصلہ بلند رکھتے ،اس عرصے کے دوران فخر زمان نے کئی بار کرکٹ کو خیر باد کہنے کا بھی سوچا ۔

مزید خبریں:میچ جیتنے کے بعد سرفراز احمد نے فخر زمان کے بارے میں ایسی بات کہہ دی کہ جان کر آپ کو بھی بے حد حیرانی ہو گی ، وننگ سپیچ کے دوران کپتان نے فرط جذبات میں بھارت سے شکست کا تذکرہ بھی چھیڑ دیا

فخر زمان نے بتا یا کہ ایک بار میں سینئر ڈسٹرکٹ ٹورنا منٹ کھیل رہا تھا اور میں نے اس کے ابتدائی تین میچوں میں صرف 25رنز بنائے ،اس موقع کوچ اعظم خان نے فخر زمان سے کہا کہ تم چاہے سنچری بناﺅ یا صفرمیں تمیں ڈراپ نہیں کروں گا ،اگلے تین میچوں میں فخر زمان نے مسلسل تین 150سکور کیے ۔اس کے بعد فخر زمان فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کے لیے پر تولنے لگے اور انہوں نے مردان کی طرف سے کھیلنا شروع کردیا ۔ان کا کہنا تھا کہ میں معصوم تھا اور مجھے لگتا تھا کہ کراچی کی طرف سے منتخب ہونا بہت مشکل ہے کیونکہ وہاں پر مقابلہ بہت سخت تھا ۔فخر زمان نے بتا یا کہ مردان میں بہت زیادہ اچھے کھلاڑی نہیں تھے اور مجھے لگتا تھا کہ یہاں سے سلیکٹ ہونا آسان ہو گا لیکن ایسا نہ ہوا ۔کوچ اعظم خان کو کراچی چھوڑنے پر فخر زمان پر بے حد غصہ تھا اور انہوں نے فخر سے چھ مہینے تک بات بھی نہیں کی لیکن پھر انہوں نے فخر زمان کو کراچی آنے کا مشورہ دیا ۔2011میں فخر زمان واپس کراچی آگئے ۔اگلے سال پاکستان نے آسٹریلیا میں ہونے والے انٹر نیشنل ڈیفنس کرکٹ چیلنج میں ڈیبیو کیا ،یہ ٹو رنامنٹ مختلف فوجوں کے درمیان ورلڈ کپ کی حیثیت کی رکھتا ہے ۔اس ٹورنا منٹ میں فخر زمان کی عمدہ پرفارمنس کے باعث پاکستان کپ حاصل کرنے میں کامیاب رہا ۔

مزید خبریں:کوچ نے مجھے پلان دیا اور میں نے صرف اس پر عمل کیا :حسن علی

اس کے بعد فخر زمان نے پاکستان نیوی کو خیر آباد کہہ کر حبیب بینک کی طرف سے کرکٹ کھیلنا شروع کردی ۔فخر زمان نے بتا یا کہ اس بار کراچی میں مجھے اکیڈمی میں ہی رہنا پڑا ،ہم تین یا چار کھلاڑی ڈریسنگ روم میں ہی سو جاتے تھے اور اگر موسم اچھا ہو تو میں کھلے آسمان کے نیچے سونا پسند کرتا تھا ۔فخر زمان کو پہلے پی ایس ایل میں نظر انداز کیا گیا ،ڈرافٹ میں فخر کا بھی نام شامل تھا لیکن کسی بھی ٹیم نہیں انہیں منتخب نہیں کیا ۔پاکستان کپ میں فخر زمان کو یونس خان کی سربراہی میں چلنے والی پختونخواہ کی ٹیم کے ڈرافٹ میں شامل کیا گیا ،فخر نے پانچ میچوں میں 297رنز کیے ۔اس کے بعد کڑی محنت کر کے فخر زمان اے ٹیم کا حصہ بنے اور بھر پور پرفارمنس دے کر پاکستانی ٹیم میں شامل ہو گئے۔

مزید :

کھیل -