فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 114

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 114
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 114

  

آغا شور ش کاشمیری صحافت، سیاست اور ادب کی دنیا میں ایک مانا ہوا نام ہیں۔سیاست میں گئے تو نو عمری اور جوانی انگریزوں کے جیل خانوں اور تشدد کی نذر کردی۔ شاعری کرنے پر آئے تو اس قدر خوب صورت، بامعنی اور برجستہ غزلیں اور نظمیں لکھیں کہ مولانا ظفر علی خان جیسا استاد بھی قائل ہوگیا۔ نثری تحریر میں ان کا ایک منفرد انداز ہے۔ الفاظ ہیں کہ رکنے میں نہیں آتے۔ استعارے، محاورے، کنائے، تلمیحات کا ایک بے قابو دریا ہے کہ طغیانی میں آیا ہوا ہے۔

شورش صاحب کی سمجھ میں نہیں آتا کہ الفاظ کے اس ہجوم میں سے کاغذ پر لکھنے کیلئے کسے لیں اور کسے چھوڑیں۔ ان کی تحریر میں ایسا بانکپن، سادگی، شکوہ اور تاثر ہے کہ آج بھی تازہ محسوس ہوتی ہے۔ صحافت کے میدان میں بھی انہوں نے اپنی آمد سے تہلکہ مچادیا تھا۔ ان کا ذاتی ہفت روزہ ’’چٹان‘‘ ایک ایسا جریدہ تھا جس کا ہر ایک کو انتظار رہتا تھا۔ اس کے قلم کی زد سے کوئی بھی محفوظ نہ رہ سکتا تھا۔ بڑی سے بڑی اور بااختیار و بااقتدار ہستیاں بھی ان کی نکتہ چینی سے محفوظ نہیں رہ سکیں۔ وہ ایک نڈر اور بے باک صحافی تھے۔ مقرر ایسے کہ سر شام تقریر کرنے کھڑے ہوتے تو فجر کی نماز تک بولتے رہتے اور مجمع پر ایک سحر طاری کردیتے تھے کہ کیا مجال جو کوئی اپنی جگہ سے اٹھ جائے۔ ان کی تقریریں اور جلسے سننے کیلئے لوگ یوں جاتے تھے جیسے پرانے زمانے میں تھیٹر یا بائی اسکوپ دیکھنے کے لئے جاتے تھے یعنی بستر بوریا اور کھانے پینے کا سامان ہمراہ لے جاتے۔ ظاہر ہے کہ رات بھر کی نشست کیلئے ان چیزوں کی ضرورت تو پڑتی ہے۔ یہ ممکن نہ تھا کہ آغا شورش کاشمیری کے جلسے میں جائے اور ان کی تقریر ادھوری چھوڑ کر چلا آئے۔ یہ سب نظارے ہم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 113 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

۱۹۵۲ء کے صوبائی انتخابات کے موقع پر آغا شورش تو جلسوں اور تقریروں میں مصروف ہوگئے اور ’’چٹان‘‘ کو بروقت پریس میں پہنچانے کی ذمے داری ہمارے نحیف کاندھوں پر ڈال دی۔ لیکن وہ جہاں کہیں بھی ہوتے اپنا اداریہ اور مستقل کالم ’’بوئے گل نالہ دل‘‘ بڑی پابندی کے ساتھ وقت مقررہ پر پہنچا دیتے۔ ان دونوں تحریروں کے بغیر ’’چٹان‘‘ نامکمل تھا۔ ہزاروں قارئین صرف ان کی تحریروں کو پڑھنے اور پھڑکتی ہوئی تنقید سننے کی غرض سے ہفتے بھر دن گنتے رہتے تھے۔ ان کی مطبوعہ تحریر کو دیکھئے تو یوں لگتا ہے۔ جیسے نگینے جڑے ہوئے ہیں۔ مگر جب ہم نے پہلی بار ان کی اپنی تحریر دیکھی تو یقین نہیں آیا کہ یہ شورش کی صاحب کی تحریر ہے۔ اس قدر بد خط، بڑے بڑے حروف اور زیر زبر کا کوئی خیال ہی نہیں۔ پہلی بار ان کا لکھا ہوا اداریہ ہماری نظر سے گزرا تو ہم کافی دیر تک اسے غور سے دیکھتے اور پڑھنے کی کوشش کرتے رہے۔

اخباروں میں کام کرکے ہمارا واسطہ بڑے بڑے بدخط لوگوں سے پڑا تھا مگر آغا شورش کی تو شان ہی نرالی تھی۔ اس قدر خوب صورت اور جانداردماغ مگر جسم ایسا کہ کوئی کل سیدھی نظر نہ آتی تھی۔ہم ان کاغذات کو کافی دیر تک دیکھتے رہے اور سمجھنے کی کوشش کرتے رہے۔ یا الٰہی یہ کوئی تعویذہے۔ کسی گم شدہ خزانے کا نشان ہے یا کوئی گورکھ دھندا۔ اگر دو لفظ بمشکل سمجھ میں آتے تو باقی سطریں گڈمڈ ہوجاتی تھیں۔ ان کے مستقل کاتب بہت ہنسے اور کہا

’’آفاقی صاحب۔ شورش صاحب کی تحریر اہلِ حکومت کیلئے تو قیامت بن کر نازل ہوتی ہی ہے مگر ہم کاتبوں پر بھی برق بن کر گرتی ہے۔ اس کو پڑھنا اور سمجھنا بڑے دل گردے کی بات ہے‘‘۔

اور پھر ستم یہ کہ ایسی بامحاورہ فارسی کے اشعار سے مزین محاوروں اور استعاروں سے بھرپور تحریر ہوتی تھی کہ آج کل کے ایم اے اردو و عربی بھی نہ پڑھ پائیں۔ مگر اس زمانے کے کاتبوں کی قابلیت کی داد دینی پڑتی ہے کہ شورش صاحب کا لکھا ہوا ایک ایک لفظ پڑھ لیتے تھے۔

آغا شورش کی علمیت اور ادبی اہمیت مسلمہ ہے۔ صحافی ایسے کہ بڑے بڑے صاحبِ اقتدار سے بے خوف خطر ٹکرا جاتے تھے اور وہ ان کے قلم کی کاٹ سے گھبراتے تھے۔ یہ مقولہ کہ ’’قلم تلوار سے زیادہ طاقت ور ہوتا ہے‘‘۔ آغا شورش جیسے صحافیوں کے ساتھ رخصت ہوگیا ہے۔ آج کے ملاوٹ زدہ دور میں صحافت میں بھی ملاوٹ کا عمل دخل ہوگیا ہے۔

یہ تو ایک علیحدہ داستان ہے اور ایک مفصل تذکرے کی مستحق ہے۔ ذکر یہ ہو رہا تھا کہ آغا شورش کاشمیری جیسا ’’باغی‘‘ بازارِ حسن میں کیسے پہنچ گیا؟ دراصل طوائف آغا شورش کیلئے ایک دلچسپ اور تحقیق طلب موضوع تھا۔ وہ طوائف کو معاشرے کے ظلم اور ناانصافی کا نتیجہ خیال کرتے تھے۔ اس بازار میں عورتیں کیوں رہتی ہیں؟ وہ وہاں کیسے پہنچتی ہیں اور ان کے ساتھ معاشرہ کیسا سلوک روا رکھتا ہے؟ ان سوالوں کا جواب حاصل کرنے کیلئے انہوں نے ایک کتاب لکھنے کا قصد کیا۔ سالہا سال تک معلومات حاصل کرتے رہے۔ یہاں تک کہ یہ کتاب ’’اس بازار میں‘‘ کے نام سے شائع ہوئی اور موضوعِ سخن بن گئی۔

جن دنوں ہم ہفت روزہ ’’چٹان‘‘ میں کام کر رہے تھے اسی زمانے میں آغا شورش اس کتاب کے سلسلے میں معلومات حاصل کرنے میں مصروف تھے۔ ان کے ایک دوست ابو یوسف قاسمی صاحب تھے۔ عمر میں آغا صاحب سے کم تھے لیکن ان کے بے تکلف دوستوں میں شامل تھے۔ شورش صاحب سے بات چیت سے کم تھی لیکن قاسمی صاحب کے ساتھ رفتہ رفتہ خاصی بے تکلفی پیدا ہوگئی اور ان کے ذریعے ہمیں شورش صاحب کے بارے میں بہت سی باتیں معلوم ہوئیں۔

ایک دن ابو یوسف قاسمی سے ہم نے کہا۔ ’’آفاقی۔ کل آغا کا ہیرا منڈی جانے کا پروگرام ہے‘‘۔

ہم حیران رہ گئے اور بے یقینی سے انہیں دیکھنے لگے ’’آغا شورش اور ہیرا منڈی؟ لاحول ولا قوۃ۔ یہ کیسے ممکن ہے؟‘‘

وہ ہنسے اور بولے ’’یقین نہیں آیا؟ تو ٹھیک ہے۔ آغا صاحب تمہیں خود ہی اپنے ساتھ لے جاکر تمہارے چودہ طبق روشن کردیں گے‘‘۔

ہم نے مذاق سمجھ کر بات کو بھلا دیا مگر دوسرے دن دوپہر کے وقت آغا صاحب نے ہمیں بلایا اور کہا ’’آفاقی صاحب۔ آج شام کو آپ میرے ساتھ چلیں گے‘‘۔

’’کہاں؟‘‘ ہم نے پوچھا۔

’’اس بازار میں‘‘۔

ہم حیران رہ گئے ’’آپ کا مطلب ہے ہیرا منڈی؟‘‘

ہمارے چہرے کے تاثرات دیکھ کر وہ ہنسی ضبط نہ کرسکے۔ بولے ’’اس قدر حیرانی کی کیا ضرورت ہے؟‘‘

ہم نے کہا ’’شورش صاحب۔ شریفوں کا ہیرا منڈی میں کیا کام؟‘‘

کہنے لگے ’’مولانا۔ یہ سب شریفوں ہی کا کارنامہ ہے ہیرا منڈی میں کسی کمینے اور غریب آدمی کا تو گزر بھی نہیں ہوسکتا۔ یہ لڑکیاں شریفوں اور دولت مندوں ہی کی اولادیں تو ہیں‘‘۔

ہم نے کہا ’’شورش صاحب۔ مگر کسی نے دیکھ لیا تو....‘‘

وہ زور سے قہقہہ مار کر ہنسے ’’دیکھ لیا تو کوئی آسمان تو نہیں ٹوٹ پڑے گا ۔ارے مولانا آپ اکیلے تو نہیں ہوں گے ۔میں بھی تو آپ کے ساتھ ہوں گا۔ ایک دو دوست اور بھی ہوں گے‘‘۔

ہم پریشان ہوگئے اور سوچ میں پڑگئے۔

انہوں نے کہا ’’یہ تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ بھی بندوں کی نیت دیکھتا ہے۔ ہم وہاں کسی برے ارادے سے تو نہیں جا رہے ہیں‘‘۔

پھر انہوں نے بتایا کہ وہ ’’اس بازار میں‘‘ کے عنوان سے طوائفوں کے بارے میں ایک کتاب لکھنے والے ہیں جس کیلئے مواد اکٹھا کرنے کیلئے وہ ہیرا منڈی جائیں گے۔

’’آپ پریشان نہ ہوں۔ قاضی شہر بھی آپ سے نہیں پوچھے گا۔ مولانا میری صحبت میں ہوں گے تو بھلا کوئی آپ کی نیت پر شک کرسکتا ہے؟‘‘

بات معقول تھی اس لئے ہم چپ ہو رہے مگر دل میں دھک دھک سی ہونے لگی۔ شام کو ابو یوسف قاسمی بھی آگئے۔ وہ بہت ہنس مکھ اور فقرہ باز آدمی تھے۔ یہاں تک کہ شورش صاحب کو بھی نہیں بخشتے تھے۔ حالانکہ وہ ان کا بے حد احترام کرتے تھے۔ ایک اور بزرگ بھی شام کے وقت آیا کرتے تھے۔ ان کا نام یاد نہیں آرہا مگر آخر میں قاضی لگا ہوا تھا اس لئے ’’قاضی صاحب‘‘ ہی کہلاتے تھے۔ قاضی صاحب کسی زمانے میں ’’ڈان‘‘ دہلی کے سرکولیشن یا اشتہاری شعبے سے بھی منسلک رہ چکے تھے۔ اس زمانے میں لاہور کے معروف انگریزی روزنامہ ’’سول اینڈ ملٹری گزٹ‘‘ سے وابستہ تھے۔ معلوم ہوا کہ ہم تینوں شام کو شورش صاحب کے ہمراہ ہیرا منڈی جائیں گے۔(جاری ہے)

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 115 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید :

فلمی الف لیلیٰ -