تبادلے نوکری کا حصہ ہیں، جو سرکاری ملازم انکارکرے اسے نوکری کا کوئی حق حاصل نہیں: ہائی کورٹ

تبادلے نوکری کا حصہ ہیں، جو سرکاری ملازم انکارکرے اسے نوکری کا کوئی حق حاصل ...
تبادلے نوکری کا حصہ ہیں، جو سرکاری ملازم انکارکرے اسے نوکری کا کوئی حق حاصل نہیں: ہائی کورٹ

  


لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے ایک درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ تبادے ملازمت کا حصہ ہوتے ہیں۔ جو سرکاری ملازم تبادلے کو قبول نہیں کرتا اسے سرکاری نوکری کا کوئی استحقاق حاصل نہیں۔

جے آئی ٹی کی تفتیش کے دوران حسین نواز کیلئے ایمبولینس کس نے بھجوائی؟ حکومتی وزیر نے ایسا دعویٰ کردیا کہ آپ بھی سر پکڑ لیں گے

تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر برائے محنت راجہ اشفاق سرور کے مبینہ دباﺅ پر ورکرز ویلفیئر بورڈ کے ماتحت تعلیمی ادارے کے گریڈ 18کے استادکا تبادلہ کئے جانے کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا،جسٹس محمد قاسم خان نے کیس کی سماعت کی،درخواست گزارمحمد شفقت کے وکیل میاں افتخار نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی وزیر محنت راجہ اشفاق سرورنے سیاسی دباﺅ پر کسی قانونی جواز کے بغیر اس کا تبادلہ شاہدرہ سے ملتان کر دیا ہے۔ صوبائی وزیر محنت نے اپنے من پسند شخص کوورکرز ویلفیئر بورڈ میں تعینات کرنے کے لئے درخواست گزار کا تبادلہ کیاجس پرعدالت نے ریمارکس دیئے کہ تبادلہ کی وجوہات بتانا ضروری نہیں ہوتیں،جس سرکاری ملازم کو تبادلے کا خوف ہو اسے سرکاری ملازمت میں نہیں رہنا چاہیے ،عدالت نے مزید ریمارکس دیئے کہ عدالت عالیہ کے ججز لاہور کے علاوہ ملتان،بہاولپور اور راولپنڈی بنچز میں جا کر اپنے فرائض سرنجام دیتے ہیں،ججز نے کبھی چیف جسٹس کے تبادلے کے اختیار کو چیلنج نہیں کیاہے۔

مزید : لاہور