حمزہ عباسی فائدے میں

حمزہ عباسی فائدے میں

ریحام خان کی کتاب ابھی تک کسی نے نہیں پڑھی، ہم تک کتاب کے جو ٹکڑے پہنچے ہیں۔۔۔ وہ حمزہ عباسی نام کے ایک اداکار کے چرائے ہوئے ہیں۔۔۔ ریحام خان نے حمزہ عباسی کو بہت پیار سے ’’بچہ‘‘ کہہ کر مخاطب کیا ہے، میڈیا کے لوگ جانتے ہیں کہ حمزہ عباسی اور ریحام خان کے درمیان اچھی دوستی تھی اور یہ دوستی اُس وقت زیادہ گہری ہو گئی، جب ریحام خان نے بین الاقوامی سطح پر ایک فلم بنانے کا اعلان کیا۔دونوں کے درمیان ای میل پر رابطے کے ثبوت موجود ہیں اور حمزہ عباسی کا اصرار ہے کہ اس نے ریحام خان کی کتاب کا ’’مواد‘‘ بذریعہ ای میل چرایا ہے، حمزہ چونکہ خود چوری کا اعتراف کر رہا ہے،سو اپنے اس اعتراف کے بعد وہ قابلِ اعتبار شخص نہیں کہا جاسکتا،یقینی طور پر وہ سستی شہرت کا طالب ہے اور اُس نے ریحام خان کو بلیک میل کیا ہے۔

ایک چینل پر اِس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انتہائی فضول آدمی لگا۔اُس نے کہاکہ کتاب کے پیچھے نواز شریف ، شہباز شریف اور مریم نواز کا ہاتھ ہے اور اُس نے کتاب کی اشاعت کے لئے رقم فراہم کی ہے۔اِس حوالے سے جب ثبوت مانگے گئے تو انہوں نے کہا ، میرے پاس ثبوت نہیں ہے۔ مجھے ’’ذرائع‘‘ نے بتایا ہے۔۔۔ کتاب کے حوالے سے حسین حقانی اور ریحام خان کی ایک تصویر بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، جس میں حسین حقانی اور ریحام خان کسی ہوٹل میں آپس میں گفتگو کر رہے ہیں۔

اِس موقع پر ریحام خان کا بیٹا بھی موجود ہے تو کیااس تصویر سے یہ نتیجہ نکالا جائے کہ حسین حقانی بھی ملوث ہیں۔کوئی بھی عقل مند شخص اس پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہو گا۔۔۔ ریحام خان جو کتاب لکھ رہی ہیں یا لکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔۔۔ میرے خیال میں اس میں کسی کا ہاتھ نہیں ہے، وہ اپنی مرضی سے لکھ رہی ہیں۔یہ علیحدہ بات ہے کہ انہیں کتاب لکھنی چاہئے یا نہیں،بعض لوگوں نے کہا ہے کہ ریحام خان کو ’’میاں بیوی‘‘ کے تعلقات کو کتاب میں نہیں لانا چاہئے، جو لوگ اِس طرح کی بات کرتے ہیں، ممکن ہے اُن کی بات درست ہو، مگر یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ ایک عورت جس نے دو شادیاں کیں اور دونوں ناکام ہو گئیں، اب اگر اِس حوالے سے وہ اپنی زندگی کی کہانی لکھنا چاہتی ہیں تو اس پر اعتراض بھی مناسب نہیں ہے۔

کتاب کے حوالے سے مزید بات کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ریحام خان نے جو لکھا ہے یا لکھنا چاہتی ہیں، اس میں ’’نیا‘‘ کیا ہے؟میرے خیال میں ان کے پاس کوئی نئی بات نہیں ہو گی، ماسوائے اِس بات کے کہ ہم نے شادی محرم میں کی تھی،لیکن عمران خان نے شادی چھپا لی۔۔۔ اور اعلان دو ماہ بعد کیا۔۔۔ اب عمران خان کے حوالے سے اس طرح کی معلومات ہم روزانہ سنتے ہیں،وہ اکثر معاملات میں بات ’’گول‘‘ کر جاتے ہیں، مگر بعد میں وہ بات سچی نکلتی ہے۔

ریحام خان مزید جو کچھ لکھ سکتی ہیں وہ اس سے مختلف نہیں ہو سکتا۔۔۔ مثال کے طور پر۔۔۔ تحریک انصاف کے ترجمان فواد چودھری جب پی پی پی کے ترجمان تھے تو انہوں نے مختلف چینلز پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔

*۔۔۔ بنی گالہ منشیات کا اڈہ ہے، وہاں دن رات آوارہ گرد لوگ جمع رہتے ہیں۔۔۔ عمران خود بھی نشے کا عادی ہے اور کسی طور بھی قیادت کے لائق نہیں، فواد چودھری کے یہ خیالات سوشل میڈیا پر سنے جا سکتے ہیں۔

*۔۔۔ ریحام خان گلا لئی کے الفاظ دھرا سکتی ہے، یعنی وہ لکھ سکتی ہے کہ’’عمران خان بد اخلاق آدمی ہے اور خواتین کے ساتھ اس کا رویہ شرمناک ہے، ان کی پارٹی میں خواتین کی کوئی عزت نہیں ہے۔

*۔۔۔ ریحام خان بابر اعوان کی طرح ان پر ’’ناجائز بچی‘‘ کا الزام دھرا سکتی ہے اور بتا سکتی ہے کہ وہ بچی جمائمہ خان کے پاس پرورش پا رہی ہے۔

ریحام خان ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اور دیگر لوگوں کی طرح کے الزامات لگا سکتی ہے۔۔۔تو پھر سوال یہ ہے کہ اس کی کتاب میں ’’نئی‘‘ بات کی ہو گی۔۔۔؟

یہ سب کھ پہلے سے فواد چودھری، عائشہ گلا لئی، بابر اعوان اور ڈاکٹر عامر لیاقت حسین ہزار بار کہہ چکے ہیں اور اب ان میں سے اکثر عمران خان کے ساتھی ہیں،ان خواتین حضرات کے خیالات یا الزامات پر قومی سطح پر کئی بار بحث ہو چکی ہے اور ویسے بھی عمران خان کے ’’رومانی سکینڈل‘‘ ہر ایک کے علم میں ہیں۔

ریحام خان اپنی کتاب میں ایسے ہی خیالات کا اظہار کرنے کی کوشش کرے گی۔۔۔۔میری نظر میں اس طرح کے الزامات و خیالات سے عمران خان جو کہ ’’صادق و امین‘‘ ہیں ان کی ذات پر کوئی فر ق نہیں پڑے گا۔

البتہ اس کتاب میں جومزید کچھ نیا ہو سکتا ہے۔ وہ عمران خان کے خلائی مخلوق کے ساتھ رابطے کے ثبوت ہو سکتے ہیں۔۔۔یعنی ریحام خان بتا سکتی ہے کہ عمران خان کس طرح ان کے ہاتھوں استعمال ہوتے ہیں، کن کن سے رابطے میں ہیں۔۔۔ مزید اس کتاب کا وہ حصہ دلچسپ ہو گا۔۔۔ کہ جہاں عمران خان کے ساتھ وہ اپنی محبت کا ذکر کریں گی، یعنی بتائیں گی کہ وہ کس طرح عمران خان کا انٹرویو کرنے گئیں اور پھر کیا ایسا ہوا کہ دونوں کے درمیان ’’محبت‘‘ کا دریا بہنے لگا۔۔۔ پھر وہ حصہ قابلِ غور ہو گا جہاں وہ بتائیں گی کہ آخر علیحدگی کی وجہ کیا بنی۔

کیا یہ خاندانی تنازعہ تھا۔۔۔ سماجی یا پھر سیاسی تنازعہ وجہ طلاق بنا۔ اس کتاب میں جہانگیر ترین کا ذکر بھی آئے گا اور یقینی طور پر آئے گا کہ دونوں کے درمیان ’’ثالث‘‘ کا کردار ادا کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے ’’طلاق‘‘ کے معاملات کو آگے بڑھایا۔

عمران خان اور ریحام خان کے درمیان کیا ’’لین دین‘‘ ہوا۔۔۔ اور کتنی رقم دی گئی۔ یہ کتاب میری نظر میں ’’ایک ٹکے‘‘ کی بھی نہیں ہو سکتی۔ البتہ کتاب کے حوالے سے بات کر کے حمزہ عباسی کی شہرت کو چار چاند لگ چکے ہیں اور اب ان کا ’’ریٹ‘‘ بڑھ گیا ہے۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...