کاغذات نامزدگی کے ساتھ تصدیق شدہ بیانِ حلفی

کاغذات نامزدگی کے ساتھ تصدیق شدہ بیانِ حلفی

سپریم کورٹ نے نئے کاغذاتِ نامزدگی کے ساتھ تمام معلومات دینا لازمی قرار دے دیا ہے، چیف جسٹس مسٹر جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ نئے فارم کی ضرورت نہیں ہے امیدوار باقی معلومات بیانِ حلفی پر جمع کرائیں۔ یہ معلومات بیانِ حلفی پر اوتھ کمشنر سے تصدیق کرا کر جمع کرائی جائیں۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ فارم سے ختم کی گئی معلومات اخبارات میں چھپوا دی جائیں، الیکشن کمیشن کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ بیانِ حلفی ڈیزائن کر کے جمع کرائے، عدالت بیانِ حلفی کا فارمیٹ بنا کر حکم نامے کا حصہ بنا دے گی، امیدوار تین دن میں معلومات دینے کے پابند ہوں گے،اگر جھوٹ بولا تو توہین عدالت اور جعل سازی کی کارروائی ہو گی۔ چیف جسٹس نے دورانِ سماعت یہ ریمارکس بھی دیئے کہ یہ بات حتمی ہے کہ الیکشن موخر نہیں ہوں گے، ہمیں مُلک کے لئے صاف ستھرے لوگ چاہئیں، ارکانِ پارلیمنٹ کو بچوں کے اور اپنے غیر ملکی اثاثے اور اکاؤنٹس بتانے میں کیا مسئلہ ہے،عوام کو انتخاب لڑنے والے کے بارے میں جاننے کا حق ہے۔ الیکشن کمیشن مناسب معلومات طلب کر سکتا ہے۔چیف جسٹس نے دورانِ سماعت ریمارکس دیئے کہ آپ لوگ عوام کو امیدواروں کی معلومات دینے میں شرمندہ کیوں ہیں، سپیکر کیوں شرما رہے ہیں کہ عوام کو اپنے نمائندوں کے بارے میں معلومات نہ ہوں۔

سپریم کورٹ نے کاغذاتِ نامزدگی کے ساتھ حلف نامہ دینے کا جو حکم دیا ہے اس کے ذریعے امیدواروں کے بارے میں بہت سی معلومات طلب کی گئی ہیں، حلف نامے میں امیدوار کو یہ بتانا ہو گا کہ اُس کے ذرائع آمدن کیا ہیں اور گزشتہ تین سال میں اُس نے جو ٹیکس دیا اس کی تفصیلات کیا ہیں، حلف نامے میں درج کرنا ہو گا کہ امیدوار کے پاس دہری شہرت یا کوئی غیر ملکی پاسپورٹ بھی ہے یا نہیں، بیرون ملک سفر کی معلومات بھی اِس حلف نامے میں درج کرنا ہوں گی، بیس لاکھ سے زائد قرضوں اور معاف کرائے گئے قرضوں کے بارے میں معلومات مہیا کرنا ہوں گی، اہلیہ اور بچوں کے نام بتانا ہوں گے اور ان کے ٹیکس کے متعلق بھی معلومات دینا ہوں گی، پاسپورٹ نمبر، ٹیکس نمبر، پیشہ اور تعلیم، زرعی آمدن کی تفصیلات بھی بتانا ہوں گی، فوجداری مقدمات کی تفصیل دینا ہو گی اور ضابطہ اخلاق پر عمل کا وعدہ کرنا ہوگا، اپنی، اہلیہ اور بچوں کی کمپنیوں کی تفصیل دینا ہو گی، پارٹی سے فنڈز لینے یا پارٹی کو فنڈز دینے کی تفصیلات سے بھی آگاہ کرنا ہو گا، معلومات غلط ہوئیں تو انتخاب کالعدم قرار دیا جائے گا۔

2013ء کے انتخابات تک جو نامزدگی فارم مستعمل تھا اسے2017ء میں منظور کئے جانے والے الیکشن آرڈر میں تبدیل کر دیا گیا تھا، یہ الیکشن آرڈر پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں نے منظور کیا اور منظوری سے پہلے اس پر مختلف سطحوں پر تفصیلی غور و خوض ہوتا رہا،پارلیمینٹ کی کمیٹیوں اور ذیلی کمیٹیوں میں الیکشن آرڈر کے مسودے پر غور ہوا جن میں تمام پارلیمانی پارٹیوں کی نمائندگی تھی اِس لئے یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ جس قانون کے تحت اب الیکشن ہونے جا رہے ہیں یہ کسی ایک جماعت یا چند جماعتوں نے خفیہ طریقے پر، یا کسی ملی بھگت کے ساتھ منظور کر لیا تھا،چونکہ کمیٹیوں میں تمام جماعتوں کی نمائندگی تھی، اِس لئے کوئی جماعت بھی اس آرڈر کی منظوری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی اور کریڈٹ (یا ڈس کریڈٹ) میں برابر کی حصہ دار ہے۔ یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ یہ آرڈر کسی عجلت میں منظور کر لیا گیا تھا اور ارکانِ اسمبلی کو اسے پڑھنے کا موقع نہیں ملا، وقت تو اُن کے پاس بہت کافی تھا اگر انہوں نے اپنی آزاد مرضی سے اسے پڑھنا پسند نہیں کیا یا اس تکلف کی ضرورت محسوس نہیں کی تو یہ دوسری بات ہے۔

جہاں تک یہ سوال ہے کہ وہ فارم کیوں بدلا گیا جو 2013ء (یا بعد کے ضمنی انتخابات) تک مستعمل تھا اور اگر بدلا گیا تو کیا اِس کا مطلب امیدوار کے لئے کوئی چور دروازے پیدا کرنا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران اور اب سپریم کورٹ میں اس پر تفصیلی بحث ہو چکی اور مزید بھی ہو گی اور اگر واقعی اس کا مقصد امیدوار کو اپنی زندگی کے بارے میں معلومات کے اخفا کی سہولت پیدا کرنے میں مدد دینا تھا تو یہ کوشش کامیاب نہیں ہوئی، اس کے ساتھ ہی ہم یہ بھی واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ جو لوگ فارم کی تبدیلی کے پردے میں الیکشن کو ملتوی اور موخر کرانے کی امید لگائے بیٹھے تھے اُن کی توقعات بھی نقش بر آب ثابت ہو چکی ہیں، کیونکہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ اس وقت منظر عام پرآیا جب الیکشن کمیشن نے انتخابی شیڈول جاری کر دیا تھا، ہائی کورٹ کے فیصلے سے یہ سارا عمل رُک گیا،لیکن جب سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن اور سپیکر قومی اسمبلی کی اپیل پر ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل ہوا تو اس کے ذریعے الیکشن کے التوا کا خوف و خدشہ بھی ختم ہو گیا اور نیا انتخابی شیڈول بھی جاری ہو گیا، جو معلومات نامزدگی فارم کے ذریعے امیدوار سے طلب کی جاتی تھیں اور الیکشن آرڈر کے تحت تجویز کردہ فارم سے ختم کر دی گئی تھیں وہ (بلکہ اس سے بھی زیادہ) معلومات اب بذریعہ بیانِ حلفی طلب کی جائیں گی اور ہر امیدوار ایسی معلومات تصدیق شدہ بیانِ حلفی کے تحت دینے کا پابند ہو گا،اِس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ انتخاب کے التوا کے کسی خدشے میں مبتلا ہوئے بغیر اور انتخابی شیڈول کو متاثر کئے بغیر مسئلے کو خوبصورتی سے حل کر دیا گیا ہے۔

انتخابات لڑنے کے خواہش مند امیدواروں سے جو معلومات طلب کی جائیں گی وہ چونکہ بیانِ حلفی کے تحت دی جائیں گی، اِس لئے امید تو نہیں کہ کوئی امیدوار اپنے بارے میں غلط معلومات الیکشن کمیشن کو دے گا،لیکن ہم جانتے ہیں کہ جب جنرل پرویز مشرف نے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے گریجوایشن کی شرط رکھی تھی تو امیدواروں اور ارکانِ اسمبلی نے کیسے کیسے جھوٹ بولے تھے، جن کے پاس ڈگریاں نہیں تھیں انہوں نے جعلی ڈگریاں حاصل کر لیں،ایسے ایسے اداروں سے ڈگریاں لی گئیں جن کا وجود ہی نہیں تھا،بہت سے لوگ پُراسرار انداز میں پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کر کے ڈاکٹر بھی کہلانے لگے،حالانکہ اس کی ضرورت نہ تھی، بعد میں پتہ چلا کہ جس یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹر قرار دیا اس کا سرے سے وجود ہی نہیں تھا، جن ارکانِ اسمبلی کی ڈگریاں جعلی ثابت ہوئیں وہ اپنی رکنیت سے محروم ہو گئے،کئی ایسے بھی تھے جو اپنا جرم چھپانے میں کامیاب رہے اور گریجوایٹ نہ ہونے کے باوجود جعلی سند پر نہ صرف رکن منتخب ہوئے،بلکہ اپنی مدت بھی پوری کی،اِس لئے عدالتوں کو ایسے احکامات بھی جاری کرنے پڑے کہ وہ اپنی تنخواہیں واپس کریں، جعلی ڈگریوں کے سکینڈل ایسے خوفناک تھے کہ اِس میں جُبہ و دستار والی شخصیات بھی ملوث پائی گئیں، بڑے بڑے نامور سیاست دانوں کی اولادوں نے ’’حافظِ قرآن‘‘ کی سند حاصل کی، جبکہ وہ قرآن حکیم کی ایک آیت زبانی سنانے کی اہلیت نہ رکھتے تھے، اِس لئے یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ نئے بیانِ حلفی کے بعد لوگ حلف اُٹھا کر جھوٹ نہیں بولیں گے، بس اتنا ہے کہ اتمامِ حجت ہو جائے گی،بہت سے دہری شہریت رکھنے والے پاکستان میں پہلے بھی رکن منتخب ہو چکے ہیں اور بیورو کریسی میں تو ان کی بھرمار ہے، بہت سے سیاست دانوں کے خلاف اقامہ ہولڈر کے کیس اب بھی چل رہے ہیں جو آج بھی سیاست میں سرگرم عمل ہیں،لیکن اُنہیں دوسروں کی آنکھوں کے تنکے نظر آتے ہیں اپنے شہتیر دیکھنے کی صلاحیت سے وہ محروم ہی چلے آ رہے ہیں عدالتیں ایسے ریمارکس دیتی رہتی ہیں کہ لوگ حلف اٹھا کر جھوٹ بولتے ہیں،اب دیکھنا ہو گا کہ بیانِ حلفی سے جھوٹ کا سدِّ باب ہوتاہے یا نہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بہرحال بروقت اور مستحسن ہے۔

مزید : رائے /اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...