بزرگ سیاستدان رسول بخش پلیجو کا انتقال

بزرگ سیاستدان رسول بخش پلیجو کا انتقال

سندھ کے بزرگ سیاستدان عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے۔ وہ 1930ء میں ٹھٹھہ کے علاقے جنگ شاہی میں پیدا ہوئے۔ تعلیم حاصل کرنے کے دوران ہی انہیں تاریخ اور سیاست میں زیادہ دلچسپی ہوگئی۔ عملی زندگی شروع کرتے ہی انہوں نے تاریخی واقعات اور حالات حاضرہ پر لکھنے کا آغاز کیا۔ انہوں نے برصغیر خصوصاً سندھ میں مختلف تحریکوں اور ایشوز کے حوالے سے مسلسل لکھا اور بعد ازاں وہ تحریریں کتابی شکل میں شائع کیں۔ مرحوم رسول بخش پلیجو نے 1970ء میں عملی سیاست کے میدان میں قدم رکھا اور سندھ عوامی تحریک کے نام سے ایک تنظیم قائم کی۔ سیاست میں اُن کا انداز جارحانہ ہوتا تھا، جس کی وجہ سے انہیں مختلف ادوار میں مخالفانہ تحریروں اور تقریروں کی وجہ سے جیل میں جانا پڑا۔ مجموعی طور پر انہوں نے دس سال قید کاٹی۔ اُن کی بیشتر سیاسی زندگی سندھ میں چلنے والی تحریکوں میں اپنا کردار شامل کرتے ہوئے گزری۔ رسول بخش پلیجو مرحوم کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ انہوں نے سندھ میں پہلی مرتبہ خواتین کو سیاست میں بھرپور حصہ لینے کی حمایت کی اور عملی جدوجہد کرتے ہوئے خواتین کو سیاست کا منظم حصہ بنایا۔ مرحوم رسول بخش پلیجو کی کوششوں سے اندرون سندھ میں بھی خواتین نے سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا شروع کیا، مسلسل سیاسی جدوجہد اور قید و بند کی صعوبتوں کے باعث ان کی جسمانی صحت متاثر ہوئی، وقت کے ساتھ ساتھ انہیں مختلف بیماریوں نے گھیر لیا مگر انہوں نے کتابیں اور مضامین لکھنے کا سلسلہ جاری رکھا اور سیاست میں بھی برابر شریک رہے، رواں عشرے میں وہ سخت علیل ہوئے اور بار بار انہیں ہسپتال میں داخل کرایا جاتا رہا۔ مرحوم رسول بخش پلیجو نے ہر دور میں اپنی سیاسی قیادت اور سندھ میں مختلف ایشوز پر تحریکوں کے لئے اپنا واضح مؤقف اپنایا اور شہرت بھی حاصل کی، عمر کے آخری حصے میں انہوں نے متحرک عملی سیاست سے کنارا کشی اختیار کرلی لیکن حالات حاضرہ پر اپنا مؤقف اور ردعمل ریکارڈ کراتے رہے، سندھ کی سیاست پر ان کی بھرپور جدوجہد کے اثرات تا دیر محسوس کئے جاتے رہیں گے، ان کی نماز جنازہ آبائی علاقے منگر پلیجو میں ادا کرکے میت کو آبائی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔

مزید : رائے /اداریہ