کیا پانی کی قلت، ڈیم نہ بننا مسئلہ نہیں؟صحافی تشدد کی زد میں!

کیا پانی کی قلت، ڈیم نہ بننا مسئلہ نہیں؟صحافی تشدد کی زد میں!
کیا پانی کی قلت، ڈیم نہ بننا مسئلہ نہیں؟صحافی تشدد کی زد میں!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ابھی معروضی حالات کی روشنی میں کچھ بھڑاس نکالی تھی، کوشش تھی کہ خود اپنے پیشہ کو درپیش مسائل اور اپنے بھائیوں کے طرزِ عمل کے بارے میں انہی دوستوں کی محفل میں گزارشات پیش کریں گے کہ یکے بعد دیگرے تین مختلف واقعات سامنے آتے چلے گئے اور زیادہ تراطلاع سوشل میڈیا ہی سے ملی کہ میڈیا(الیکٹرونک+پرنٹ) پر بہت معمولی ذکر تھا کہ ان کے لئے ملک اور دُنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ریحام خان کی مبینہ کتاب ہے،حالانکہ حالات حاضرہ میں جب ملک کے اندر سیاسی سرگرمیاں عروج پر جاری ہیں اور انہی کے مطابق گرمی بھی شدید ہو رہی ہے،بلکہ گرمی تو اپنی اگلی پچھلی کسر نکال رہی ہے۔

دو روز قبل درجہ حرارت 47 سے50 تک ہو جانے سے پیداہونے والے خلاء نے آندھی کو آواز دے لی تھی،جس کے ساتھ ہی کچھ بوندیں پڑیں اور میڈیا کے لئے یہ خوشگوار موسم ہو گیا، جبکہ اگلے ہی روز سورج نے اپنی تمازت پھر سے دکھا دی اور اب تو کچھ حبس کی بھی کیفیت پیدا ہو گئی۔

انہی دِنوں تھر اور کراچی سمیت ملک کے مختلف حصوں سے پانی کی قلت کی فریاد بھی شروع تھی اور یہ خبریں بھی چل رہی تھیں کہ عالمی بنک نے بھارت کی آبی جارحیت کے خلاف پاکستان کی اپیل کو ٹرخا دیا ہے،بلکہ اُلٹا یہ کہا کہ عالمی عدالت سے کیس واپس لے کر تکنیکی ماہر پر اکتفا کر لیا جائے۔اِس ضمن میں یہ بھی کہا گیا کہ بھارت کے وزیراعظم برملا اعلان کر چکے ہیں کہ وہ دریاؤں پر قبضہ کر کے پاکستان کو صحرا میں تبدیل کر دیں گے، ہمارے میڈیا کو اِس کی فکر نہیں، نہ اب تک کسی انویسٹی گیشن ایڈیٹر نے یہ کھوج لگایا ہے کہ شدید گرمی جو خصوصاً درختوں کی کمی اور درختوں کے ضیاع کے باعث ہو رہی ہے تو اس کے پیچھے کون سا مافیا ہے اور آخر لگائے گئے پودے درخت کیوں نہیں بنتے،سال میں دو بار شجر کاری ہوتی ہے، ضرورت اِس امر کی ہے کہ جس جس محکمہ نے اس ’’کارِ خیر‘‘ میں حصہ لیا، لیتا رہا، اس کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے کہ کیا واقعی مذکورہ تعداد میں پودے لگائے گئے اور اگر لگائے گئے تو کتنے پودے درخت بنے،کیونکہ اگر حساب لگایا جائے تو ان محکموں نے عملی طور پر یہ پودے لگائے ہوتے اور فنڈز ہضم نہ کئے ہوتے تو آج ملک میں درخت ہی درخت ہوتے اور یوں موسم کی مار نہ پڑتی۔

اسی طرح ہمارے میڈیا کے لئے پانی کے ذخائر طاس سندھ کا معاہدہ اور بھارتی آبی جارحیت بھی معنی نہیں رکھتی، حالانکہ ’’ترقی ترقی کر دی مَیں آپے ترقی ہوئی‘‘ کے مصداق بہت کچھ ہوا، نہیں ہوا تو آبی ذخائر نہیں بن سکے۔

حتیٰ کہ کالا باغ ڈیم جیسے آسان، سستے اور مقید تر منصوبے کو سیاست کی بھینٹ چڑھا کر ابتدائی طور پر خرچ ہونے والے کروڑوں روپے ضائع کر دیئے گئے، بہترین مشینری کچرہ بنا دی گئی۔

اب بھی دلیل کے بجائے مرنے مارنے کی بات کی جاتی ہے،حالانکہ کالا باغ ڈیم کا سب سے بڑا حامی نوشہرہ سے تعلق رکھنے والا شمس الملک ہے جو خود واپڈا کا چیئرمین رہ چکا،پھر بات کی جاتی ہے کالا باغ ڈیم نہیں تو اور کوئی منصوبہ نہیں،بدقسمتی سے قدرتی پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے کچھ نہیں کیا گیا،ابھی بھی وقت ہے توجہ دیں۔

بات شروع کی تھی صحافیوں پر ہونے والے تشدد اور ان کو ہراساں کرنے کی تو اس میں بعض اشارے حساس ایجنسی کی طرف جاتے ہیں، ہم کوئی الزام لگائے بغیر گزارش کرتے ہیں کہ اگر اس میں حقیقت ہے تو ہمارے سپہ سالار کو خود اس کا نوٹس لینا چاہئے۔

دوسرے ایک واقعہ میں سیاسی حملہ آور محسوس ہوتے ہیں ان کا سراغ لگا کر ان کو کیوں نہیں پکڑا یہ بہت افسوسناک ہے کہ ایک خاتون کو رات کے وقت باقاعدہ اغوا کیا جائے اور پھر چند گھنٹوں کے بعد اُسے اس کے گھر پہنچا دیا جائے، جس کے بعد وہ خوفزدہ ہے اور بات کرنے سے گریز کر رہی ہیں۔

اگر (ان خاتون) گل بخاری کی گفتگو مزاج پر ناگوار گزری تھی تو سیدھے سبھاؤ چینل کے ایگزیکٹو سے ملاقات کر کے دلیل سے بات کی جا سکتی تھی، اغوا جیسے جرم سے گریز کرنا چاہئے تھا۔ اسی طرح رضی صاحب اور اسد کھرل کے ساتھ ہونے والی وارداتیں تشدد کے رجحان کے لئے بہت بڑا المیہ ہیں کہ اس وقت جب الیکشن کی مہم شروع ہے اور موسم بھی مزاج پر اثر انداز ہے تو تشدد کی راہ اپنائی جائے۔

یہ بہت بڑی مثال ہے، جس پر عمل شروع ہو گیا تو اس کی کوئی حد نہیں رہے گی۔خدارا اِس پہلو پر غور کریں، جہاں تک صحافیوں کے ساتھ نقطہ نظر کے اختلاف کی وجہ سے زیادتی اور تشدد کی بات ہے تو ایسا پہلی بار تو نہیں ہوا۔یہ تو ماضی سے چلا آ رہا ہے نہ تب صحافی اپنے فرائض سے ہٹے اور نہ ہی اب ہٹیں گے۔ بنیادی فرق صرف اتنا ہے کہ ماضی میں صحافی اختلاف کے باوجود پی ایف یو جے کے پرچم تلے متحد تھے اور فعال ٹریڈ یونین کی وجہ سے احتجاج بھی بہت موثر ہوتا تھا، سابقہ ادوار میں اخبارات کے دفاتر پر بھی حملے ہوتے رہے،لیکن صحافتی اتحاد کی وجہ سے ان پر قابو پا لیا جاتا رہا، اب بدقسمتی سے صحافی کئی حصوں میں تقسیم ہو کر مفادات کے حامل حلقوں کو کھل کھیلنے کا موقع دے رہے ہیں، ضرورت اِس امر کی ہے کہ یہ سب ماضی کی طرح اجتماعی مفاد کے لئے متحد ہوں اور ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ والی ’’مسجدیں‘‘ گرا دیں، پھر سے ایک یونین اور ایک فیڈریشن پر متحد ہوں، یہ مسائل کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ موجودہ انتشار کی حالت میں تو جس کا جی چاہے گا، پھینٹی لگا دے گا۔

مزید : رائے /کالم