2013ء کے بعد پن بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا وزارت آبی وسائل

2013ء کے بعد پن بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا وزارت آبی وسائل

لاہور(کامرس رپورٹر) ملک میں پانی کی کمی کے مسئلہ پر قابو پانے اور آبی ذخائر اور پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے مختصر ، درمیانی اور طویل المدتی منصوبوں پر کام جاری ہے ،2013ء کے بعد پن بجلی کے منصوبوں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے فی الوقت پانی سے تقریباً 7ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش ہے جبکہ دیا میر بھاشا، داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ ، نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ سے تقریباً 98 سو میگا واٹ بجلی حاصل ہونے کی توقع ہے ۔وزارت آبی وسائل کے ذرائع کے مطابق ملک کی 60 فیصد آبادی زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے۔ جس کی وجہ سے پانی کی طلب میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، 3 فیصد پینے کا صاف پانی ہے جس میں 70 فیصد پانی گلیشئر سے آتا ہے۔ 24 فیصد زیر زمین سے جبکہ ایک فیصد دریاؤں اور ندیوں سے آتاہے۔ 1979 میں اوسط پانی183 ملین ایکٹر فٹ تھا جبکہ اب 145 ملین ایکٹر فٹ پر پہنچ گیا ہے۔ پاکستان ان 15 ممالک میں شامل ہے جن کو پانی کی کمی کا خطرہ لاحق ہے۔ذرائع کے مطابق کل پانی کا 90فیصد آبپاشی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ اس میں 50 فیصد پانی فرسودہ کنوؤں کے نظام اور پانی چوری کی وجہ سے ضائع ہورہا ہے جس سے پانی کی قلت میں اضافہ ہوتاجارہا ہے۔6 ہزار 919 میگاواٹ بجلی پانی سے پیدا کی جارہی ہے۔ پانی کاذخیرہ 18 ملین ایکڑ فٹ سے زائد کیا گیا ہے جس میں تربیلا ڈیم کی 6.17 ملین ایکڑ فٹ ہے۔اب تک 25 ملین ایکڑفٹ پانی ضائع ہورہا ہے جس کو ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔اس مرتبہ تربیلا ڈیم میں 36 فیصد پانی کم جمع ہوا ہے۔

دیا مراور بھاشا ڈیم بننے سے تربیلا ڈیم کی عمر 25 سال بڑھ جا ئے گی۔ پاکستان میں کل 155 ڈیم ہیں جن میں 30 دنوں کیلئے پانی ذخیرہ ہو سکتا ہے جو کہ 120 دن ہونا چاہئے ۔ ذرائع کے مطابق رواں مالی سال 2017-18ء پانی کے مختلف منصوبہ جات کیلئے پی ایس ڈی پی میں 174651 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں جن میں سے 36750 ملین روپے ادا کیے گئے ہیں۔ بلوچستان میں کچھی کنال سے 72 ہزار ایکڑ اراضی سیراب ہوگی جسے 13 ستمبر2017 کو مکمل کیا گیا۔ چترال میں گولن گول منصوبے کو 4 فروری2018 کو مکمل کیا گیا جس کی پیداواری 108 میگاواٹ استعداد کار ہے جس سے 3 ارب 70کروڑ روپے کی بچت ہوگی۔ نیلم جہلم منصوبے سے بھی مرحلہ وار بجلی کی پیداوارشروع ہوگئی ہے جس کی مجموعی استعداد کار 969 میگاواٹ ہے اور اس منصوبے پر 500 ارب روپے کی لاگت آئی ہے۔ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے یونٹ نمبر2 نے بھی مکینیکل ٹیسٹ رن کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا ہے جس کے بعد اِس یونٹ کو آج قومی نظام کے ساتھ منسلک کردیا گیا ہے۔

مزید : کامرس