قانون ہارایا خدیجہ صدیقی ؟؟

قانون ہارایا خدیجہ صدیقی ؟؟

”انصاف“ کی فراہمی کا تعلق نہ تو مرد و عورت اور نہ امیر اور غریب کے حوالے سے کوئی امتیازی تخصیص رکھتا ہے ۔ مہذب معاشروں میں ہر اس شخص کو انصاف مہیا کیا جاتا ہے جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہو ، جسکا حق چھینا گیا ہو ، جس نے انصاف کا تقاضا کیا ہو ۔ مگر ہمارے معاشرے میں تو قانون در حقیقت اندھا ہے ،بہرا ہے ،بااثر اور دولتمندوں کے گھر کی لونڈی ہے ۔ ہمارے یہاں تو حقائق اور شواہد کے ہوتے ہوئے بھی فیصلے میرٹ پر نہیں ہوتے ۔لگتا ہے عدالتیں انصاف مہیا نہیں کرتیں بلکہ بیچتی ہیں۔

چند روز قبل لاہور ہائیکورٹ نے خدیجہ صدیقی کے کیس کا فیصلے سناتے ہوئے مجرم شاہ حسن کو بری کر دیا ۔ شاہ حسن نے 2016ءمیں خدیجہ صدیقی کو سرعام خنجر کے 23وار کر کے شدید زخمی کر دیا تھا۔ جب یہ واقعہ رونما ہوا دیکھنے والوں کو یہ ہی لگا کہ خدیجہ صدیقی زندگی کی بازی ہار چکی ہے مگر اس بہادر لڑکی نے موت کو شکست دی اور خود شاہ حسن سے بدلہ لینے کے لیے اُسے اسکے کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے ہر مرحلے کابہادری سے سامنا کیا ۔ خدیجہ صدیقی چونکہ خود قانون کی طالبہ تھی اس لئے اپنے حقوق سے مکمل آگاہ تھی ۔

خدیجہ صدیقی کی انتھک محنت اور کوششوں کے بعد شاہ حسن کو جو ڈیشنل مجسٹریٹ ”مبشر حسین اعوان“ نے مجرم کو دفعہ 324 Attempt to Murderسات سال قید کی سزا سنائی ۔ یہ فیصلہ ان خواتین کے لیے حوصلے کا باعث تھا جن کے حقوق پامال کیے جاتے ہیں ۔

شاہ حسین کی اپیل کی سماعت پر سیشن کورٹ نے 7سال کی سزا کو کم کرکے 5سال کردی۔ جس پر خدیجہ صدیق نے ٹرایل کورٹ کے اس فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔ خدیجہ صدیقی کے موقف کے مطابق شاہ حسین کو سزا حقائق و شوائد کے مطابق 7سال سنائی گئی تھی لہٰذا کم نہیں ہونی چاہیے ۔ لاہور ہائیکورٹ نے چند روز قبل اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم شاہ حسین کو بری کر دیا اور عینی شاہدین نہ ہونے کی وجہ سے اسکو محض الزام قرار دیتے ہوئے شاہ حسین کو بری کردیا۔ خدیجہ صدیقی کا کہنا تھا کہ ملزم شاہ حسین کے والد چونکہ ایک بااثر وکیل ہیں لہٰذا یہ فیصلہ انصاف پر مبنی نہیں بلکہ ملزم شاہ حسین کی رہائی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے یہاں قانون اندھاہے۔

خدیجہ صدیقی کا واقعہ کوئی ایسا واقعہ ہر گز نہیں ہے جس پر ہمارا قانون ہاتھ باندھے خاموش تماشائی بنے کھڑا ہو۔ ابھی کچھ عرصہ قبل ہونے والاننھی زینب کا واقعہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ کیا ہوا اس میں؟ کیا مجرم کو سزا دے دی گئی ۔ کیا اس گھناونے فعل پر اس معصوم بچی کے والدین کی خواہش پر اسے پھانسی ہوگی ؟

ہماری یہاں جب کوئی بھی ایسا واقعہ رونما ہوتا ہے تو سیاسی اور سماجی تنظیمیں ملزم کو کیفردار تک پہنچانے کی آس تو دلا دیتی ہیں مگر پھر چپ سادھ کر ایک طرف بیٹھ جاتی ہیں۔ یہاں عورت کو ہمیشہ انصاف لینے کے لیے ذلیل ہونا پڑتا ہے۔ خدیجہ صدیقی کے کیس میں بھی اس پر دباﺅ ڈالا گیا کہ وہ صلح کرلے، اُسے بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی ۔ مگر وہ نہتی لڑکی اپنے موقف پر ڈٹی رہی مگر اسکے تنہا جنگ لڑنے کا کیا فائدہ۔ جب اس ملک کا قانون ہی سویا پڑا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار ازخود اس پر نوٹس لیں گے ؟کیا وہ اس مظلوم لڑکی کو انصاف دلوائیں گے ۔ معاشرہ کفر پر تو چل سکتا ہے مگر ظلم پر نہیں ۔ لہٰذا خدیجہ صدیقی کیس انصاف کی دہائی دے رہاہے ۔اب یہ کیس تمام خواتین کی جنگ بن چکا ہے لہٰذا اس پر انصاف چاہیے۔

۔۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...