سینٹ قائمہ کمیٹی نے قطر سے ایل این جی معاہدے کی تفصیلات طلب کر لیں

سینٹ قائمہ کمیٹی نے قطر سے ایل این جی معاہدے کی تفصیلات طلب کر لیں

اسلام آباد(آئی این پی )سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم نے قطر سے ایل این جی معاہدے کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ سیکریٹری پٹرولیم ڈویژن کمیٹی کے ان کیمرہ اجلاس میں قطر سے ایل این جی معاہدے پر بریفنگ دیں گئے۔سیکریٹری پٹرولیم سکندر سلطان راجہ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ایل این جی کا معاہدہ ایس ایس جی سی ایل اور اینگروکے ساتھ15سال کی مدت کیلئے2014میں ہوا،معاہدہ مسابقتی بولی کے ذریعے پیپرارولز کے مطابق کیا گیا۔کمیٹی کا ہر ماہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کی تفصیلات پٹرول مافیا کو لیک کرنے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ہر ماہ پٹرول کی قیمتوں میں ردو بدل کی اطلاع پٹر ول مافیا کو پہلے سے کر دی جاتی ہے،اوگرا اور وزارت پٹرولیم معلومات لیک ہونے سے روکیں ورنہ معاملہ نیب اور ایف آئی اے کے حوالے کردیں گے ، چیئرمین محسن عزیز نے کہا کہ کوہلو کا پلانٹ برسوں سے بند پڑا ہے، وزارت دفاع نئے ذخائر کی دریافت کیلئے این او سی جاری نہیں کرتی، پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ جو ملک قدرتی مسائل اورمعدنیات سے مالا مال ہے اس کا معدنیات کا محکمہ مسلسل نقصان میں جا رہا ہے ۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا اجلاس سینیٹر محسن عزیز کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں سیکریٹری پٹرولیم سکندر سلطان راجہ، ایڈیشنل سیکریٹری اور پٹرولیم ڈویژن کے دیکر حکام نے شرکت کی۔ سلطان سکندرراجہ نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سینڈک اور ریکوڈک منصوبے18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کے پاس چلے گئے تھے ، صوبہ بلوچستان کی حکومت نے درخواست کر کے سینڈک منصوبہ وفاق کے حوالے کیا۔ پاکستان میں پٹرولیم ڈویژن نے 377ذخائر دریافت کیے ہیں جن میں سے81تیل کے اور 296گیس کے ذخائر شامل ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سوئی میں گیس کے100کنویں ہیں جن میں سے92سے گیس نکالی جارہی ہے۔ سوئی میں اس وقت گیس کی پیداوار100ملین ایکڑ فٹ ہے۔ خاران کے علاقے میں 3سال سے سروے چل رہا ہے جیسے ہی سروے مکمل ہو گا تو کنویں پر کام شروع کر دیا جائے گا۔گیس کے جتنے ذخائرہیں وہ اگلے13سال تک گیس پیدا کر سکیں گے جبکہ تیل کے ذخائر آئندہ10سال تک تیل کی پیداوار کر سکیں گے۔ اس کیلئے ہمیں تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت کرنا ہوں گے۔ سینیٹر شمیم آفریدی نے کہا کہ اگر کسی علاقے میں امن و امان کا مسئلہ ہے ۔تو وزارت پیٹرولیم کمشنر اور ڈپٹی کمسنر کی خدمات بھی حاصل کر سکتی ہے لیکن کام نہیں رکنا چاہیے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کسی بھی کنویں کو دینے کیلئے مسابقتی بولی لگائی جاتی ہے اور بہتریں پارٹی کو ٹینڈر دیا جاتا ہے۔اپنی کارپوریٹ ذمہ داری کو پورا کرتے ہوئے ہم نوجوانوں کو ایک سالہ انٹرن شپ اور پسماندہ اور ذہین طلبہ کو ہر سال وظائف بھی فراہم کرتے ہیں ۔ ادارہ سالانہ کمیونٹی ویلفئیر پر 1اعشاریہ2بلین روپے خرچ کرتا ہے۔ ہنگو میں پونے5لاکھ ڈالر ترقیاتی اسکیموں کیلئے جمع کرائے گئے ۔ اس رقم کو صحیح جگہ استعمال کرنے کیلئے کمیٹی بھی بنائی گئی ہے جو سارے کام کی نگرانی کرتی ہے۔ پاکستان میں تیل کی کھپت26.4ملین ٹن ہے جس کیلئے 15فیصد تیل مقامی علاقوں سے نکالا جاتا ہے 85فیصد تیل ملک میں درآمد کیا جایا ہے۔اس پر سینیٹر شمیم آفریدی نے کہا کہ وزارت پٹرولیم کی ساری باتیں صرف گورکھ دھندا ہے۔ ہر مہینے یہ لوگ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر دیتے ہیں جس کیلئے کوئی واضح فارمولہ وضح نہیں کیا گیا۔ کاغذوں میں سب اصول موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کہیں نظر نہیں آتا۔ چیئرمین سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ہر ماہ پٹرول کی قیمتوں میں ردو بدل کی اطلاع پیٹر ول مافیا کو پہلے سے کر دی جاتی ہے۔ اگر قیمت کم ہونی ہو تو صارفین کو کوئی ریلیف نہیں ملتا لیکن اگر پٹرول کی قیمت بڑھنی ہو تو پٹرول مالکان 3دن پہلے ہی یا تو قیمتیں بڑھا دیتے ہیں یا پٹرول کی سپلائی بند کر دیتے ہیں۔ اوگرا اس بات کو یقینی بنائے کہ قیمتوں میں ردو بدل کی خبر 3دن پہلے لیک نہ ہو۔ اس پر سیکریٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ اوگرا کی جانب سے ان کو بند خط موصول ہوتا ہے لیکن ان کو خط ملنے سے پہلے ہی خبر میڈیا پر چل جاتی ہے۔ اس پر چیئرمین سینیٹر محسن عزیز نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ جہاں سے بھی بات لیک ہوتی ہے اس کو روکیں ورنہ ہم یہ معاملہ نیب اور ایف آئی اے کے حوالے کردیں گے اور ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کریں گے۔ اوگرا اور وزارت پٹرولیم کے درمیان خط و کتابت کو مزید محفوظ بنائیں۔سیکریٹری پٹرولیم نے کمیٹی کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ ملک سے بین الاقوامی کمپنیاں کام بند کر کے جارہی ہیں کیونکہ ملک کے کئیعلاقے جہاں تیل اور گیس کے زخائر موجود ہیں وہاں یا تو صوبائی حکومت کام کرنے میں رکاوٹ ڈالتی ہے یا وزارت دفاع کام کرنے کا این او سی ہی نہیں دیتی جس سے تیل اور گیس کی پیداوار میں کمی آ رہی ہے اور اچھی ساخت کی حامل کمپنیاں ملک چھوڑ کر جا رہی ہیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایل این جی کا معاہدہ ایس ایس جی سی ایل اور اینگروکے ساتھ15سال کی مدت کیلئے2014میں ہوا۔ معاہدہ مسابقتی بولی کے ذریعے پیپرارولز کے مطابق دیا گیا۔ وزارت پٹرولیم کی درخواست پر آئندہ کمیٹی کا اجلاس ان کیمرہ ہوگا۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ پاکستان میں 35فیصد بجلی فرنس آئل سے پیدا کی جاتی ہے جبکہ باقی دنیا میں یہ شرح صرف 1فیصد ہے۔ اس کی وجہ سے پاکستان میں بجلی مہنگی پیدا ہو رہی ہے جبکہ پاکستان دنیا بھر میں سب سے کم قیمت پر ایل این جی درآمد کر رہا ہے ۔ اس پر چیئرمین نے کہا کہ ہم بین الاقوامی دنیا سے مقابلے میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ جو ملک قدرتی مسائل اور معدنیات سے مالا مال ہے اس کا معدنیات کا محکمہ مسلسل نقصان میں جا رہا ہے اور باقی ممالک پاکستان کی معدنیات بر آمد کر رہے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر