ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن موٹر رجسٹریشن میں ’’ عیدی کماؤ مہم‘‘ کا آغاز

ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن موٹر رجسٹریشن میں ’’ عیدی کماؤ مہم‘‘ کا آغاز

لاہور( ارشد محمود گھمن/ سپیشل رپورٹر)ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن موٹر رجسٹریشن ریجن سی کے چاروں زون کے ای ٹی اوز ،ماتحت عملہ اور ایجنٹوں نے"عیدی"مہم شروع کردی ۔سیکرٹری ڈاکٹربلال اور ڈی جی اکرام اشرف گوندل نے اپنی آنکھوں کے سامنے ہونی والی کرپشن کو نظر انداز کردیا اور ماتحت عملے کو سائلین کو لوٹنے کی کھلی چھٹی دے دی۔2لاکھ سے زائد سائلین سے گاڑیوں اورموٹر سائیکل کی نیو رجسٹریشن کی مد میں کروڑوں روپے وصول تو کرلئے گئے مگر گاڑی مالکان کونیو رجسٹریشن حاصل کرنے میں ایک ماہ سے خواری کا سامنا ہے دوسری جانب سٹیکرز کی عدم دستیابی کے نام پر عملہ ایجنٹوں کے ذریعے لاکھوں روپے کمانے میں مصروف ہے جبکہ دوردراز علاقوں سے آنے والے گاڑی مالکان دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبورہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن موٹر رجسٹریشن اتھارٹی پنجاب نے گاڑیوں کی رجسٹریشن کا معاہدہ پاکستان پرنٹنگ پریس کراچی سے ابھی طے نہیں پایا ہے ۔ذرائع کے مطابق محکمہ نے رجسٹریشن کی جگہ سمارٹ کارڈ متعارف کرانے کے لئے اقدامات کئے تھے جس کے لئے قومی خزانے سے کروڑوں روپے خرچ کئے گئے مگر تاحال افسران کی ناقص حکمت عملے کے باعث یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہواجبکہ پرنٹنگ پریس سے معاہدہ بھی ختم ہوگیا تھا۔لاہور سمیت پنجاب بھر کے تمام اضلاع میں نیو رجسٹریشن پر چسپاں کرنے والا کمپیوٹر سٹیکر دستیاب نہ ہونے سے لاکھوں کی تعداد میں سائلین دفتروں کے چکر لگا نے پر مجبوہوگئے ہیں۔ لاہور ریجن سی کے چاروں زون فرید کورٹ ہاؤس، فیصل ٹاؤن، علی کمپلیکس وغیرہ میں تقریباً 2لاکھ افراد نے نیو رجسٹریشن اور ٹرانسفر ملکیت کے لئے کروڑوں روپے قومی خزانہ میں جمع کروائے ہیں لیکن محکمہ کی طرف سے ان کو ذلیل وخوار کیا جارہا ہے ، ریجن سی لاہور کے ای ٹی اوز ،عدیل امجد، محمد نعیم ،محمد علی نوید، اکرم شاد،ذوالفقار بٹ اور طاہرہ چٹھہ نے اپنے عملے کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کرتے ہوئے پہلے سے اپنے پاس موجود سٹیکر کو بلیک کرکے ایجنٹوں کے ساتھ مک مکا کے بعد بھاری نذرانہ اور منظور نظر افراد کو دینے شروع کررکھے ہیں ۔یاد رہے کہ اس سے قبل کمپیوٹر نمبر پلیٹس کے لئے بھی متعلقہ عملہ نے بھاری نذرانوں کے ساتھ پلیٹیں فراہم کیں مگر اعلیٰ حکام ،سیکرٹری ڈاکٹر بلال اور ڈی جی اکرام اشرف گوندل نے اس وقت بھی کوئی اقدام نہیں اٹھایا اور اب بھی سٹیکر کی عدم دستیابی کا بہانہ بنا کر سائلین کو ذلیل و خوار کرنا شروع کررکھا ہے ۔سائلین مبشر حسین، ندیم افضل، صداقت علی ، اصغر، نواز ،الیاس ،نبی احمد بخش ،راحت علی وغیرہ کا کہنا ہے کہ سٹیکر ز ان کے پاس موجود ہیں ،یہ صرف "عیدی"کمانے کی خاطر عوام کو لوٹنے کا ان کا بہانہ ہے ۔ سیکرٹری اور ڈی جی نے اگر بروقت اقدامات کئے ہوتے تو اس طرح کے حیلے بہانے بنا کر عوام کو بے قوف نہ بناتے ۔سائلین نے چیف جسٹس سے اپیل کی ہے کہ ایسے کرپٹ افسروں اور عملے کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرنی چاہیے تاکہ خوار ہونے والے سائلین کو ریلیف مل سکے۔اس حوالے سے ڈائریکٹر محمد قمر ریجن سی لاہور کا کہنا ہے کہ پاکستان پرنٹنگ پریس کراچی کے ساتھ معاہدہ تاحال طے نہیں پایا ہے ،کیوں کہ حکومت نے رجسٹریشن کی جگہ سمارٹ کارڈ دینے کا فیصلہ کیا تھا جو تاحال مکمل نہیں ہوسکالہذا پرنٹنگ پریس بغیر معاہدہ کے 20فیصد سٹیکر دینے کا پابند ہے مگر سائلین کی تعداد زیادہ ہے جس کی وجہ سے انہیں دشواری کا سامنا ہے ، اعلیٰ حکام اس مسئلے کے حل کے لئے کوشاں ہیں ۔

مزید : صفحہ آخر