سپریم کورٹ ، تحقیقاتی کمیشن نے میانی صاحب قبرستان کے 456احاطوں کو غیر قانونی قرار دے دیا

سپریم کورٹ ، تحقیقاتی کمیشن نے میانی صاحب قبرستان کے 456احاطوں کو غیر قانونی ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی) سپریم کورٹ کے حکم پر قائم تحقیقاتی کمیشن نے میانی صاحب قبرستان کی 300کنال اراضی پر گھر ،پٹرول پمپس، مارکیٹیو ں اورسکول کے مالکانہ حقوق کومشکوک قرار دے دیا ہے جبکہ قبرستان کے 456احاطوں کوغیرقانونی قراردیتے ہوئے انہیں مسمار کرنے کی سفارش کی ہے۔رپورٹ کے مطابق احاطوں کو مسمار کرنے سے 80ہزار سے زائد قبروں کے لئے جگہ نکل سکتی ہے ۔سپریم کورٹ کی جانب سے بنائے گئے تحقیقاتی کمیشن نے 200صفحات پر مشتمل رپورٹ مرتب کرکے سپریم کورٹ میں جمع کروادی ہے ۔چیف جسٹس پاکستان مسٹرجسٹس میاں ثاقب نے میانی صاحب قبرستان کی اراضی پر قبضہ کرنے والوں کی تعمیرات کا ازخود نوٹس لیا اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امتیاز کیفی کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے میانی صاحب قبرستان کی مجموعی طور پراراضی 40ہزار کنال تھی جو اب کم ہوکر 1248کنال پر مشتمل ہے ۔رپورٹ کے مطابق میانی صاحب قبرستان کی 300کنال اراضی پر گھر،پٹرول پمس،مارکیٹیں کے مالکان حقوق مشکوک ہیں جن کی نشاہدہی کی فوری ضرورت ہے، اگر مالکانہ حقوق جعلی ہیں تو وہ اراضی میانی صاحب قبرستان کمیٹی کے حوالے کی جائے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ میانی صاحب قبرستان میں بااثر افراد نے 456احاطے بنارکھے ہیں اور زیادہ احاطے ایسے ہیں جو 10مرلہ جگہ پر چار دیواری کی گئی اور صرف دو قبریں بناکر آگے دروازہ لگادیا جہاں پر دیگر افراد کے عزیزواقارب کی تدفین پر پابندی ہے ۔رپورٹ میں کہاگیا کہ 456احاطے اور ان احاطوں میں تعمیر شدہ گھر مکمل طور پر غیر قانونی ہیں ۔رپورٹ میں کہاگیاکہ انتظامیہ نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی حالانکہ چیف سکیورٹی آفیسر بشیر کے پاس تمام انفارمیشن موجود ہے اس کے باوجود انتظامیہ نے قبرستان کی اراضی وا گزار کروانے میں اپنا کردار ادا نہیں کیا ۔رپورٹ میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ تمام احاطہ جات کی دیواریں مسمار کردی جائیں تو 80ہزار افراد کی تدفین کے لئے میانی صاحب میں مزید جگہ بن سکتی ہے ،کمیشن کے ممبران میں ایڈووکیٹ ظفر اقبال کلا نوری اور عبداللہ ملک شامل ہیں ،تحقیقاتی کمیشن نے میانی صاحب قبرستان کی چار دیواری مکمل کروانے ،میانی صاحب قبرستان کے 7بلاکس بنوانے اور انفارمیشن ڈیسک بنانے کی سفارش بھی کی ہے۔

مزید : علاقائی