نیب آرڈیننس کیخلاف درخواست پر حکومت اور چیئرمین نیب کو دوبارہ نوٹس

نیب آرڈیننس کیخلاف درخواست پر حکومت اور چیئرمین نیب کو دوبارہ نوٹس

لاہور(نامہ نگار خصوصی) لاہورہائیکورٹ نے نیب آرڈیننس1999 کے خلاف دائردرخواست پر وفاقی حکومت اور چیئرمین نیب کو دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیاہے۔جسٹس عابد عزیزشیخ نے اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ پرویز مشرف نے 12اکتوبر 1999 کو منتخب حکومت ختم کر کے اقتدار پر قبضہ کرتے ہی صدارتی آرڈیننس کے تحت احتساب کے نام پرنیب کا ادارہ قائم کیا ،پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں آئین کو معطل کر کے پی سی او کے تحت نظام حکومت چلایا،انہوں نے کہا کہ 20 اپریل 2010 ء کو اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے مشرف کے اقدامات کو آئینی حیثیت دی گئی،انہوں نے بتایا کہ صدرمملکت یا گورنر کے جاری کردہ آرڈیننس 4ماہ کے بعد غیر موثر ہو جاتے ہیں، نیب آرڈیننس کے تحت نیب پورے ملک میں ہزاروں لوگوں کو بلاجواز ٹرائل کر کے تنگ کر رہا ہے،انہوں نے استدعا کی کہ عدالت نیب کی جانب سے جاری کیسوں اور انکوائری پر حکم امتناعی جاری کرے جبکہ نیب آرڈیننس 1999 ء کو آئینی حیثیت نہ ہونے کی بنا پر کالعدم قرار دے۔سرکاری وکلاء نے جواب داخل کرنے کے لئے مزید مہلت طلب کی۔ عدالت نے وفاقی حکومت اور چیئرمین نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیاہے۔

مزید : علاقائی