پاک فوج کے خلاف سازشیں کیوں؟

پاک فوج کے خلاف سازشیں کیوں؟
پاک فوج کے خلاف سازشیں کیوں؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف جاری مہم پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا ہم ان لوگوں سے پوری طرح آگاہ ہیں۔

سوشل میڈیا پر نظر ہے،اس کا غلط استعمال کرنے والے ہوشیار ہو جائیں۔انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹیں۔ پاک فوج کے ترجمان کی باتیں حقائق پر مبنی ہیں، بعض سیاسی عناصر کے ساتھ مخصوص لابی دشمن کا ایجنڈا پورا کرنے کے لئے جس انداز میں دہشت گردی کا سارا ملبہ پاک فوج پر ڈالنے میں مصروف ہے اب اس کی مذمت کرنے کا وقت نہیں رہا،بات بہت آگے بڑہ چکی ہے ان عناصر کی سرکوبی اورخاتمہ کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ پاک فوج کو بُرابھلا کہنے والوں کی سرپرستی کون کر رہا ہے، ان کا گٹھ جوڑ کس کے ساتھ ہے یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔

فوج کے خلاف جاری مہم جوئی میں ملوث افراد کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے ان میں سے ایک فرد بھی پاکستان کی سلامتی کا ضامن نہیں ہے، جائزہ لینے کی ضرورت ہے، اس لابی سے یہ پوچھنے کی ضرورت ہے کہ پاک فوج یا آئی ایس آئی کے بغیرہماری حیثیت کیا ہے، پاکستان بننے سے لے کرآج تک ایک ہی ادارہ ہے جو طاغوتی، لسانی، انڈین، امریکن لابی کو برداشت نہیں ہو رہا وہ صرف اور صرف پاک فوج ہے۔

کیا ہمیں پتہ ہے کہ آج اگر ہماری فوج پاکستان کے دفاع سے پیچھے ہٹ جائے تو ہمارا کیا بنے گا۔ آئیں جائزہ لیتے ہیں۔ سب سے پہلے یاد رکہئے کے ہمارا حال شام ، عراق اور یمن کی طرح ہو گا۔ہم پر کیمیکل اور بیالوجیکل ہتھیار استعمال کئے جائیں گے۔

ہمارے بچے بھی اپنی سڑکوں پر لاوارثوں کی طرح رو رہے ہوں گے اور ہم کو امریکہ، انگلینڈ، ایران، افغانستان، روس اور اسرائیل مل کر ماریں گے اور سب سے بھیانک حالات اس وقت ہوں گے جب انڈیا کے لوگ ہمارے بیوی بچوں کو برما کے مسلمانوں کی طرح کاٹیں گے۔

دُنیا کا کوئی بھی ملک ہمیں یا ہمارے بیوی بچوں کو پناہ نہیں دے گا اور کوئی حکومت یا یو این او ہمارے حقوق کے لئے کھڑا نہیں ہو گا، اِس کی جیتی جاگتی مثال آپ کے سامنے ہے کہ کون سا ملک یا کون سا انسانی حقوق کا ادارہ فلسطین یا شام کے مسلمانوں کے لئے بات کر رہا ہے اور ہمیں دُنیا میں کہیں پر بھی پناہ نہیں ملے گی ۔

برما والوں کو تو پھر بھی بنگلہ دیش نے پناہ دے دی، لیکن ہم نہ انڈیا، ایران، افغانستان یا چائنہ کہیں پر بھی نہیں جا سکتے۔ اگر ہم آج اپنے حکمران یا بیرونی پراپیگنڈہ کا حصہ بن کر اپنی افواج پاکستان عدلیہ یا ایجنسیوں سے محاذ آرائی کرتے ہیں تو اس کی سزا ہمارے بیوی بچوں کر ملے گی، اِس لئے پاکستان اور اس کی عوام اس کی افواج اور اس کی ایجنسیاں جیسی بھی ہیں ہمارے حق میں ہیں آج جو ہم چین کی نیند رات کو سوتے ہیں تو اس کی وجہ افواج پاکستان ہیں آج اگر ہم پر کوئی کافر حملہ کرنے سے پہلے سوچتا ہے تو اس کی وجہ پاکستان کی ایجنسیاں ہیں۔وگرنہ مَیں نے اور آپ نے تو کوئی ایسا کام نہیں کیا، جس کی وجہ سے ہمارے مُلک کے دشمن ہم سے خوفزدہ ہوں، لیکن آج اللہ نے ہم کو موقع دیا ہے ہم میں سے ہر پاکستانی ایک فوجی اور آئی ایس آئی کا فرد بنے جو کوئی بھی ہمارے ملک کو توڑنے کی کوشش کرے ہم اس کو توڑ کر رکھ دیں ۔

اپنے ارد گرد کے ماحول کو دیکھیں جو عالم شیعہ، سنی، وہابی، دیو بندی کی بات کرے وہ پاکستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے،جو پاکستان اور افواج پاکستان یا ایجنسیوں کو بُرا بھلا کہے وہ پاکستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے،جو اپنی تنظیم یا اپنے علاقے یا اپنی نسل کے حقوق کی بات کرے وہ پاکستان کو تورنے کی سازش کر رہا ہے اس کے جواب میں ان تمام جماعتوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں اور ایسے عناصر کو منہ ٹور جواب دیں ۔ مَیں نے آپ کو اِس پیغام سے آگاہ کر دیا ہے اب آپ اپنا فرض ادا کریں۔پاکستان نے آپ کو ایک شناخت دی۔ مال و دولت دیا۔عزت دی، ماں باپ، بہن بھائی سب کچھ دیا آج وقت ہے سوچنے کا کہ ہم نے اِس ملک کو کیا دیا۔

فوج ہے پاکستان ہے تو ہم محفوظ ہیں اِس لئے گردو نواح میں ہونے والی سازشوں سے باخبر رہنے اور سوشل میڈیا پر فوج کے خلاف جاری مہم جوئی کے آگے سیسہ پلائی بننے کی ضرورت ہے۔

مزید : رائے /کالم