پانی کی قلت پر آنکھیں بند نہیں کرسکتے ، دل کرتا ہے ڈیم بنانے قرضہ اتارنے کیلئے چندہ مانگوں ، چیف جسٹس

پانی کی قلت پر آنکھیں بند نہیں کرسکتے ، دل کرتا ہے ڈیم بنانے قرضہ اتارنے ...

اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ میں قلت آب سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاپانی کا مسئلہ ناسور بن سکتا ہے، اس پر آنکھیں بند نہیں کرسکتے،دل کرتا ہے ڈیم بنانے اور ملک کا قرضہ اتارنے کیلئے چولہ لے کر چندہ مانگوں ، کالا باغ ڈیم پر اتفاق رائے کی مہم کراچی رجسٹری سے شروع کریں گے،آصف زرداری اور نواز شریف نے اپنے ادوار میں کچھ نہیں کیا ،چیف جسٹس کا تارکین وطن کو ووٹ کی سہولت دینے سے متعلق کیس میں ٹاسک فورس کی رپورٹ کو پبلک کرنے کا حکم،کورنگ نالہ پر تجا وزات ختم کرنے اورغیرقانونی رہائشیوں سے 10 روزمیں جواب طلب، عدالت نے ہیلی کاپٹر سے آگ بجھانے کے طریقہ کار سے متعلق سی ڈی اے سے تحریری جواب طلب کر لیا۔تفصیلات کے مطابقچیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پانی کی قلت سے متعلق کیس میں ریمارکس دیئے ہیں پانی کا مسئلہ مستقبل میں خطرناک ناسور بن سکتا ہے اور اس مسئلے پر بلی کی طرح آنکھیں بند نہیں کرسکتے۔ گزشتہ 2 سال سے حکومتوں نے پانی کے لیے کچھ نہیں کیا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا حکومتوں نے پانی کو ترجیح بنا کر فنڈز کا بندوبست کیا؟ پانی کے مسئلے کے ذمہ دار صاحب اقتدار لوگ ہیں، دل کرتا ہے ڈیم بنانے اور ملک کا قرضہ اتارنے کیلئے جھولی پھیلا کر چندہ مانگوں۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ درخت لگانیکا کام بھی صرف کاغذوں میں ہی ہے، پانی کا مسئلہ واٹر بم بنتا جارہا ہے، پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافہ نہیں کیاگیا، روز بیٹھ کر حکومت کا آڈٹ نہیں کرسکتے۔چیف جسٹس کا کہناتھا کہ ووٹ کوعزت دو کا مطلب یہ ہیکہ لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق دیئے جائیں، پانی کے مسئلے پر بلی کی طرح آنکھیں بند نہیں کرسکتے، ہمیں عملی طور پر کچھ کرنا ہوگا۔چیف جسٹس نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ کاش میں پنجابی نہ ہوتا سندھی یا بلوچ ہوتا۔ نجی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فاضل بینچ نے کالا باغ ڈیم سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔ نجی ٹی وی کے مطابق سماعت کے دوران بیرسٹر اعتزاز احسن نے اپنے دلائل میں کہا کہ کالا باغ ڈیم کا نام سن کر سندھ اور کے پی کے میں احتجاج شروع ہو جاتا ہے، اتفاق رائے کے بغیر کالا باغ ڈیم نہیں بن سکتا، پیپلز پارٹی دور میں صوبوں کو آئینی ضمانت دینے کی بات کی گئی تو صوبوں نے کہا کہ آئین کی اپنی ضمانت کون دیگا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کیا چاہتے ہیں ہم آنکھیں بند کر کے بیٹھ جائیں، ڈیم بنانے سے آخر کس نے روکا ہے، جن ڈیموں پر اختلاف نہیں وہ کیوں نہیں بن رہے، عید کے بعد سابق چیئرمین واپڈا شمس الملک عدالت کو بریفنگ دیں گے۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے مارگلہ کی پہاڑیوں پر آتشزدگی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ہیلی کاپٹر سے آگ بجھانے سے متعلق تحریری جواب طلب کر لیا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دئیے ہیں کہ تین ماہ میں پانچ دفعہ آگ لگ چکی ہے جس سے خوبصورتی اور ماحول تباہ ہو رہا ہے‘آگ بجھانے کیلئے سی ڈی اے کے پاس کوئی انتظام نہیں۔چیف جسٹس نے تارکین وطن کو ووٹ کی سہولت دینے سے متعلق کیس میں ٹاسک فورس کی رپورٹ کو پبلک کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دئیے ہیں کہ میری کوشش تھی تارکین وطن کو یہ سہولت مل جائے‘یہ درست ہے کہ فی الحال یہ کام ممکن نہیں‘ اس وقت یہ کام کرنے سے بڑے پیمانے پرنقصان ہوسکتا ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے تارکین وطن کوووٹ کاحق دینے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔دریں ا ثناسپریم کورٹ نے کورنگ نالہ پرغیرقانونی رہائشیوں سے 10 روزمیں جواب طلب کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ کورنگ نالہ پرناجائزتجاوزات ختم کریں‘سرکارکی زمین پرگھربنانے کی اجازت نہیں دیں گے،جن کی ملکیت نہیں بلڈوزرسے گرادیں۔

چیف جسٹس

مزید : صفحہ اول