این اے74پسرور:مسلم لیگ (ن) کو شدید مشکلات کا سامنا

این اے74پسرور:مسلم لیگ (ن) کو شدید مشکلات کا سامنا

پسرور(نمائندہ خصوصی)الیکشن 2018ء کے سلسلے روزنامہ پاکستان کی ٹیم نے علاقہ میں عوامی سروے کیا ہے جس کے مطابق NA-74میں سابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے صاحبزادے علی زاہد حامد مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی دور کے سابق صوبائی وزیرچوہدری غلام عباس پی ٹی آئی، متحدہ مجلس عمل کی طرف سے ممتاز مذہبی سکالر ،کالم نگار اور مصنف ،ڈپٹی جنرل سیکرٹری متحدہ مجلس عمل پاکستان رانا محمدشفیق خان پسروری ،پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے جنرل (ر) نور حسین ، بیرسٹرچوہدری منصور سرور،سابق اولمپئین محمد آصف باجوہ ، کرنل (ر)سرفرازاحمد ،چوہدری محمد اکبر کاہلوں اور کئی دیگر امیدوار میدان میں کودنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ NA74میں مسلم لیگ ن کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ایک تو مسلم لیگ ن کے ایم این اے زاہد حامد اور ایم پی اے رانا لیاقت علی اور ایم پی اے چوہدری منور علی گل کے آپس کے اختلاف کھل کر سامنے آ گے ہیں ایم این اے کے امیدوار علی زاہد حامد نے اپنے نیچے دونوں ایم پی ایز کو نہ لینے کا فیصلہ کرکے حلقہ میں ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے جس پر دونوں ایم پی ایز نے ایم این اے کا الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا ہے جس کی وجہ سے اس حلقہ میں پی ٹی آئی کے چوہدری غلام عباس اور پی ٹی آئی کے امیدوار کو فائدہ پہنچ سکتا ہے ،عوامی رائے کے مطابق اس حلقے میں مذہبی جماعتوں کا بھی 20سے25فیصد ووٹ بینک ہے جو پہلے اکثریت سے ن لیگ کو ملتا تھا لیکن ختم نبوت ایشو کے بعد وہ بھی ن لیگ کے خلاف ہو گا۔اسی طرح پی پی 39میں موجودہ ایم پی اے رانا لیاقت علی ، نوازشریف کے قریبی ساتھی مرزا الطاف ، ن لیگ کے پرانے سیاسی ورکرچوہدری خرم ورک کے درمیان بھی ن لیگ کی ٹکٹ کے حصول کے لیئے مقابلہ ہے جبکہ پی ٹی آئی کی طرف سے رانا ممتاز ببی ، عامر خالد باجوہ ، ملک نثار عباس، رانا زاہد حمید ، آصف علی باجوہ ، کرنل(ر) محمد رفیق ،اور رانا عبدالحفیظ کے درمیان ٹکٹ کا مقابلہ ہو گا ، جبکہ موجودہ ایم پی اے رانا لیاقت علی کی ایم این اے کے امیدوار کی مخالفت کے ساتھ ساتھ حلقہ میں ترقیاتی کام کم اور متنازعہ معاملات کا چرچا زیادہ رہنے کی وجہ سے اور رانا لیاقت علی کے مقابلہ میں ان کے سگے بھتیجے رانا زاہد حمید کی پی ٹی آئی کی طرف سے ٹکٹ کی کوشش بھی مسلم لیگ ن کو نقصان پہنچنے کا باعث بنے کا اندیشہ ہے۔ پسرور تحصیل کا سب سے دلچسپ مقابلہ حلقہ پی پی 40میں متوقع ہے جہاں پر مسلم لیگ ن کے موجودہ ایم پی اے چوہدری منور علی گل کی پچھلے 3سال سے ایم این اے زاہد حامد کے ساتھ شدید اختلافات زبان زد عام ہیں ،اسی وجہ سے زاہد حامد کے صاحبزادے علی زاہد نے منور علی گل کے ساتھ الیکشن لڑنے سے انکار کر دیا ہے ،جس کے جواب میں منور علی گل کی طرف سے ایم این کی سیٹ پر زاہد حامد کی مخالفت پر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے دلچسپ امر یہ ہے کہ چوہدری منور علی گل کے سگے بھائی چوہدری ناصر علی گل نے بھی اپنے بھائی کی مخالفت میں زاہد حامد گروپ کی طرف سے الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا ہے اس صورت حال کے پیش نظر اس حلقہ میں پی ٹی آئی کے امیدوار چوہدری امجد علی باجوہ ،رانا اعجاز احمد مالی پور ،جبکہ متحدہ مجلس عمل کی طرف سے علاقہ کی معروف مذہبی و سماجی اور ہردل عزیز شخصیت رانا محمد شفیق خاں پسروری میدان میں اترنے کو تیار ہیں ، پی پی 40کی عوامی اکثریتی رائے کے مطابق رانا محمد شفیق پسروری نے اس سے پہلے بھی ن لیگ کی ٹکٹ اور نشان پرالیکشن لڑ چکے ہیں اورالیکشن میں 20ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیئے تھے اگر اس سیٹ پر ن لیگ اور متحدہ مجلس عمل کی سیٹ ایڈجسٹ منٹ ہو جائے تو رانا محمد شفیق پسروری آسانی کے ساتھ یہ سیٹ جیت سکتے ہیں ،علاقہ مکینوں کی رائے کے مطابق رانا محمد شفیق پسروری مذہبی ،سماجی اور سیاسی شخصیت کے ساتھ ساتھ مقامی ہونے کی وجہ سے علاقہ میں ہر خوشی اور غمی میں برابر شریک ہوتے ہیں ایک مذہبی جماعت سے تعلق کے باوجود تمام مسالک کے لوگ ان کے صلح جو رویہ کی وجہ سے ان سے محبت کرتے ہیں اور عوا م کی پسندیدگی کی وجہ سے اس حلقہ میں مضبوط امیدوار شمار کیئے جارہے ہیں۔ پسرور کے آخری حلقہ پی پی 41میں مسلم لیگ ن کی طرف سے موجودہ ایم پی اے اور پارلیمانی سیکرٹری رانا محمد افضل ایڈووکیٹ ، پی ٹی آئی کی طرف سے امان اﷲ اعوان ، ڈاکٹر محمد حفیظ مغل ، ق لیگ کی طرف سے باؤ محمد رضوان میدان میں ہوں گے ،پی پی 41میں ن لیگ اور پی ٹی آئی کے درمیان متوقع ہے لیکن رانا محمد افضل کی طرف سے پہلی بار منتخب ہونے کے باوجود علاقہ میں ریکارڈ ترقیاتی کام اور ان کا اپنے حلقہ میں مضبوط عوامی رابطہ ان کی پوزیشن کو بہتر کرتاہے۔

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...