این اے 120 میں برادری اور مسلکی ازم پرووٹ ملیں گے

این اے 120 میں برادری اور مسلکی ازم پرووٹ ملیں گے

شرقپور شریف (سیّد طہماسپ علی نقوی ) این اے 120 سے ہمیشہ بڑے بڑے برج الیکشن میں حصہ لیتے رہے اور انہیں مسلم لیگی حلقہ ہونے کی وجہ شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔یہاں سیاسی نظریاتی ووٹ کے ساتھ برادری ازم اور مسلک ازم کا بھی عنصر شامل ہے،این اے120 کے تین صوبائی حلقوں میں آرائیں ، راجپوت ،جٹ ، سیّد ،گجر ،شیخ ،رحمانی ،انصاری ، شیخ ککے زئی سمیت دیگر چھوٹی برادریاں شامل ہیں ہمیشہ قومی اور صوبائی الیکشن میں آرائیں ،راجپوت ، جٹ اور سیّد برادری کے امید وار الیکشن میں حصہ لیتے رہے ہیں جن میں بڑے بڑے نام شامل ہیں جن میں چوہدری توکل اللہ ورک چوہدری نعیم حسین چٹھہ ، ملک سرفراز ، سیّد منظور حسین شاہ ،نثار پنوں حصہ لیتے رہے ہیں کامیابی اور شکست ان کامقدر بنتی رہی ہے ۔2002 میں شرقپور سے اس وقت مسلم لیگ ق کے سربراہ میا ں اظہر نے حصہ لیا اور ان کا مقابلہ مسلم لیگ ن کے صاحبزادہ میاں جلیل احمد شرقپوری سے ہوا ۔حلقے کی تمام چوہدراہٹوں اور آرائیں برادری نے یکجا ہو کر میاں اظہر کی سپورٹ کی لیکن میاں اظہر کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا ۔اور بعد میں 2008 کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کے رانا تنویر حسین اور پیپلز پارٹی کے مخدوم سیّد غیور بخاری اور مسلم لیگ ق کے شاہد منظور گل کے درمیان مقابلہ ہوا اورمسلم لیگ ن کو کامیابی حاصل ہوئی ۔2013 میں راانا تنویر حسین ،سیّد غیور بخاری اور ملک ایاز سرفراز کے درمیان مقابلہ ہوا ۔ رانا تنویر حسین کو کامیابی حاصل ہوئی ۔ 2013 کا الیکشن حلقے میں برادری ازم کے طور پر لڑا گیا کیونکہ مسلم لیگ ن نے حاجی علی اصغر منڈا کو پی پی 165 سے ٹکٹ نہ دیا تو انہوں نے پی پی165 سے آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیا برادری ازم کو ہوا دی ۔ آرائیں برادری کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے ۔ رانا تنویر کے خلاف بھر پور الیکشن لڑا اور مسلم لیگ ن کے صاحبزادہ میاں سعید احمد شرقپوری کوشکست دی ۔ اب 2018 کے انتخابات میں رانا تنویر حسین مسلم لیگ ن کے امید وار ہیں تحریک لبیک یا رسول اللہ ﷺ کی طرف سے پیر سیّد افضال حسین شاہ محمدی مشہدی اور تحریک انصاف کی طرف سے دو امید وار حاجی علی اصغر منڈا اور صاحبزادہ میاں جلیل احمد شرقپوری سامنے آئے ہیں ۔ تحریک انصاف کی ٹکٹ کا فیصلہ کس کے حق میں ہوتا ہے یہ ایک دو روز میں فیصلہ سامنے آ جائے گا ،این اے 120 میں برادری ازم اور مسلک ازم پر الیکشن ہوں گے آرائیں ،جٹ اور راجپوت برادری آمنے سامنے آ چکی ہیں دیگربرادریوں کی حمایت حاصل کررہی ہیں تحریک لبیک یا رسول اللہ ﷺ خالصتا مذہب اور مسلک کی بنیاد پر الیکشن میں حصہ لے رہی ہے ۔ بریلوی مکاتب فکر کے ساتھ ساتھ دیگر مسالک کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ انتخابات میں یہ بات بھی اکاؤنٹ ہو گی جو سیاسی افراد اپنے سیاسی دھڑوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے مسلک ازم میں ملوث رہے ہیں ان کو مخالفت کاسامنا کرنا پڑے گا۔

مسلکی ووٹ

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...