انتخابات2018ء کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کا شہر نہیں رہے گا

انتخابات2018ء کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کا شہر نہیں رہے گا

کراچی (تجزیاتی رپورٹ/ نعیم الدین) آنے والے الیکشن کے بعد کیا کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کا شہر نہیں ہوگا، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کراچی مختلف سیاسی جماعتوں میں بٹ جائے گا ، یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب الیکشن 2018 میں شہریوں کو مل سکے گا۔ سیاسی حلقے قیاس آرائیاں کررہے ہیں کراچی اس وقت کھلا پلیٹ فارم ہے ۔اس وقت شہر قائد پر کسی بھی سیاسی جماعت کا قبضہ نہیں ۔ اگر اس مرتبہ متحدہ قومی موومنٹ الیکشن کا بائیکاٹ کرنے پر مجبور ہوتی ہے تو ایسی صورتحال میں کھلا آپشن ہوگا ۔ کیا اس الیکشن میں کراچی کے عوام کو کوئی بڑی تبدیلی نظر آنے والی ہے جس کا وہ برسوں سے انتظار کررہے ہیں۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ الیکشن وقت مقررہ پر ہوتے نظر آرہے ہیں۔ اگر متحدہ الیکشن کا بائیکاٹ کرتی ہے تو پیپلز پارٹی ، تحریک انصاف ، جماعت اسلامی ، پی ایس پی اور ن لیگ شہر قائد میں بڑی دعویدار جماعتیں ہونگی ۔ لیکن متحدہ کے رہنما حیدر عباس رضوی کی اچانک پاکستان آمد سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہ ہوگا کہ متحدہ الیکشن کی تیاریاں کررہی ہے اور آنے والے الیکشن میں بھرپور حصہ لے گی۔ دوسری جانب صوبائی نگران کابینہ کی تشکیل میں تاخیر سے یہ معاملہ تذبذب کا شکار ہے۔ ایم کیو ایم اور پی پی کے درمیان معاملات تاحال حل نہیں ہوسکے ۔ توقع کی جارہی ہے کہ جلدیہ معاملہ حل ہوگیا تو بہتر رہے گا کیونکہ نگران حکومت کے پاس دو ماہ کے عرصہ میں بہت کم وقت ہوگا ، تمام صوبائی محکمے وزارت کے بغیر بے یار ومددگار اور عوامی مسائل جوں کے توں پڑے ہیں ۔ دوسری جانب آنے والے الیکشن کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جارہے ہیں جن کی وصولی کی رفتار ماضی کے مقابلے میں انتہائی سست ہے ۔ 450فارم میں سے اب تک 100-150 فارم ہی وصول ہوسکے ہیں۔ اس رفتار کے بارے میں قیاس کیا جارہا ہے کہ یہ فارم انتہائی پیچیدہ ہیں، امیدواروں کو جواب لکھنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں ، یہی وجہ ہے کہ اس کی رفتار سست ہے۔

کراچی تجزیہ

مزید : صفحہ اول