غیر معمولی ہنگامی حالات میں التوا کو انتخاب ملتوی کرنے کیلئے مثال نہیں بنایا جاسکتا

غیر معمولی ہنگامی حالات میں التوا کو انتخاب ملتوی کرنے کیلئے مثال نہیں بنایا ...
غیر معمولی ہنگامی حالات میں التوا کو انتخاب ملتوی کرنے کیلئے مثال نہیں بنایا جاسکتا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

یہ معاملہ الیکشن کمیشن میں ہی حل ہونا تھا، اس لئے وہیں سے ہوا، جس نے پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کا ہما ڈاکٹر حسن عسکری کے سر پر بٹھا دیا ہے۔ تحریک انصاف نے ناصر کھوسہ کے نام پر اتفاق ہو جانے کے بعد ان کا نام واپس لے لیا تھا اور بعد ازاں دو نام ایاز امیر اور ڈاکٹر حسن عسکری دیئے تھے۔ اتفاق سے وہ دونوں شخصیات ایسی ہیں جن کے خیالات ٹی وی چینلوں کے ناظرین کے بخوبی علم میں ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے اعلان کے بعد مسلم لیگ (ن) نے جو اعتراض کیا وہ الیکشن کمیشن نے مسترد کر دیا اور نظرثانی کا مطالبہ بھی نہیں مانا، کمیشن کا موقف یہ ہے کہ اس نے ڈاکٹر حسن رضوی کا انتخاب میرٹ پر کیا ہے، میرٹ یہ ہے کہ کمیشن کو چار نام پیش کئے گئے تھے جن میں سے بہترین نام کا انتخاب کیا گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے جو دو نام دیئے تھے ان میں سے ایک ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج اور دوسرے نیوی کے ریٹائرڈ سربراہ ہیں۔ چار ناموں میں سے جس نام کو شرف قبولیت بخشا گیا اس پر مسلم لیگ (ن) کا اعتراض الیکشن کمیشن نے مسترد کر دیا ہے تو تحریک انصاف نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے، خود ڈاکٹر حسن عسکری کا کہنا ہے کہ تحفظات کا اظہار کرنا مسلم لیگ (ن) کا حق ہے، تقرر چیلنج کرنا ہے تو کر دیں، مجھے فرق نہیں پڑے گا۔ ڈاکٹر صاحب کے اس اعلان میں یک گو نہ اعتماد اس لئے جھلکتا ہے، کہ تقرر کو چیلنج کرنے کا کوئی فورم اب باقی نہیں، الیکشن کمیشن کا فیصلہ حتمی ہے اور طے شدہ قانون اور ضابطے کے مطابق ہے، زیادہ سے زیادہ نظرثانی کی اپیل کی جا سکتی تھی جو الیکشن کمیشن نے پہلے ہی مسترد کر دی ہے۔ ایسے میں ڈاکٹر حسن عسکری کا حق بنتا ہے کہ وہ اعتماد کے ساتھ بات کریں، ویسے بھی وہ یونیورسٹی سے پروفیسر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں اور علم و فضل کے مقام پر بھی فائز ہیں۔ اگر ایسا شخص بھی یہ نہیں کہے گا کہ مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا تو پھر کوئی دوسرا کیا دعویٰ کر سکتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے اگر ان پر اعتراض کیا ہے تو اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ ٹیلی ویژن چینلوں پر وہ جن خیالات کا اظہار مسلسل کرتے رہے ہیں، ان میں وہ مسلم لیگ کو نشانہ تنقید ہی بناتے رہے ہیں لیکن یہ کام تو اور بہت سے لوگ اب بھی کر رہے ہیں بلکہ آپ دیکھیں گے کہ اگلے چند دنوں کے اندر اندر بہت سے چہرے ٹی وی سکرینوں پر جلوہ گر ہوں گے جو مسلم لیگ (ن) کو پہلے سے زیادہ ہدف تنقید بنائیں گے۔ یہ سوال اپنی جگہ ہے کہ یہ تنقید کس حد تک معروضی، جائز اور زمینی حقائق کے مطابق ہے لیکن یہ ہوگی اور ڈنکے کی چوٹ پر ہوگی البتہ ڈاکٹر صاحب اس موقع سے محروم رہیں گے کہ اب وہ تجزیہ نگاری نہیں کر سکیں گے۔ مسلم لیگ (ن) اگر بہت سے حلقوں میں گردن زدنی ہے اور اس کی پالیسیاں نقد و نظر کی میزان میں بے رحمی کے ساتھ تولی جا رہی ہیں تو ایسے میں کوئی بھی اینکر یا تجزیہ نگار اگر اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہا ہے تو عین کار ثواب ہے۔ نامزدگی کے بعد نگران وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا ہے کہ الیکشن کے لئے کمیشن نے جو تاریخ دی ہے وہ اس تاریخ پر انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائیں گے، محدود وقت میں عوام کی فلاح پر بھی توجہ دیں گے، کابینہ مختصر رکھیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کوشش ہوگی کہ کسی بھی جماعت کو ان سے شکایت نہ ہو جو بھی کام ہوگا قانون کے مطابق ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے منصب کا غلط استعمال نہیں کریں گے۔ صاف شفاف الیکشن کو یقینی بنایا جائے گا، کوئی بھی جماعت پریشان نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ان کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں، وہ اپنی آئینی ذمے داریاں پوری کریں گے اور غیر جانبداری کے ساتھ انتخابات کرائیں گے۔ اس کے باوجود مسلم لیگ (ن) نے ان کے انتخاب کو مسترد کر دیا ہے۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نگران وزیراعلیٰ کے تقرر کا معاملہ پورے الیکشن عمل کو مشکوک بنا دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اور اس کی قیادت کے ساتھ ساتھ جمہوریت کے متعلق ان کے جو خیالات ہیں، لوگ ان سے واقف ہیں۔ ان کے خیالات کا اظہار ان کے مضامین میں اور ٹویٹس کے ذریعے ہوتا رہتا ہے۔ ان سے غیر جانبدار رہنے اور میرٹ پر کام کرنے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ ڈاکٹر حسن عسکری نے اپریل کے مہینے میں ’’عرب نیوز‘‘ میں اپنے ایک کالم میں اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ اگر انتخابات کسی وجہ سے ملتوی ہو گئے تو سیاسی جماعتیں اعتراض نہیں کریں گی۔ انہوں نے اپنے اس خیال کی تائید میں ماضی سے مثالیں پیش کی تھیں کہ 1988ء میں عام انتخابات نوے دن کی مقررہ حد کے بعد منعقد ہوئے، 2008ء میں بے نظیر کے قتل کے بعد انتخابات ایک ماہ کے لئے ملتوی ہو گئے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے مہربانی کی کہ وہ مثالیں دیتے وقت ان انتخابات تک محدود رہے جو تین ماہ اور ایک ماہ کی مدت کے لئے ہوئے تھے، ان میں سے 2008ء کے انتخابات کے التوا کی تو بڑی ٹھوس وجہ موجود تھی کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کی حکومت میں محترمہ بے نظیر بھٹو کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سندھ میں جو حالات پیدا ہو گئے تھے ان کی تفصیل میں جانے کا یہ موقع نہیں لیکن یہ ضروری تھا کہ ایک افسوس ناک سانحے کے بعد جذبات ٹھنڈے ہونے کا انتظار کیا جاتا اور سندھ میں جو حالات پیدا ہوئے، انہیں نارمل ہونے دیا جاتا۔ 88ء کے انتخابات بھی جنرل ضیاء الحق کی طیارے میں حادثاتی موت کے بعد ہو رہے تھے، چونکہ وہ اپنی زندگی میں غیر جماعتی انتخابات کا اعلان کر چکے تھے۔ ان کے بعد سارا سیاسی منظر ہی بدل گیا اور سپریم کورٹ نے انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرانے کا حکم دیا۔ اس عدالتی عمل کی وجہ سے انتخابات کا التوا ناگزیر تھا چونکہ ایک بنیادی قانونی نکتہ زیر بحث تھا کہ انتخابات جنرل ضیاء کے اعلان کردہ غیر جماعتی ہونے چاہئیں یا جماعتی، ویسے تو اگر کوئی تجزیہ نگار دور کی کوڑی لانے پر تل جائے تو یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ 1956ء کے آئین کے تحت جن پہلے انتخابات کا اعلان کیا جا چکا تھا وہ ملک میں پہلا مارشل لاء لگ جانے کی وجہ سے سرے سے ہو ہی نہیں سکے تھے کیونکہ جس آئین کے تحت یہ انتخابات ہو رہے تھے اس وقت کے صدر نے وہ آئین ہی پھاڑ کر پھینک دیا تھا۔ بعد میں اس صدر کو بھی لندن کی جلاوطنی نصیب ہوئی اور انتخابات کا پورا کلچر ہی بدل گیا۔ ایوب خان نے ’’کنٹرولڈ ڈیموکریسی‘‘ کا نظریہ اور بالواسطہ انتخابات کا نظام رائج کر دیا، اسی طرح جنرل ضیاء الحق نے نوے دن کے اندر انتخابات کا وعدہ کیا اور دوبار انتخابات کا اعلان کرکے ملتوی کر دیئے۔ پہلی مرتبہ تو کاغذات نامزدگی کی وصولی کا عمل شروع تھا کہ ان انتخابات کو ملتوی کر دیا گیا، اب اگر کوئی صاحب یہ دو مثالیں پیش کرکے کہیں کہ انتخابات برسوں تک بھی نہ ہوں تو کیا مضائقہ ہے کیونکہ مثالیں بہرحال موجود ہیں تو ان کی داد کیسے دی جا سکتی ہے۔

غیر معمولی حالات

مزید : تجزیہ